شریف دور

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی

کیا نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلیوں اورسینٹرز کے لئے ترقیاتی فنڈز کے نام پر اربوں روپے مختص کرنے کا سلسلہ بند کر سکیں گے اور حکومتی قرضوں کے بارے میں 2005 کے قانون FRDLپر سختی سے عملدرآمد کر سکیں گے اس لئے سابق حکومت کو قرضوں کی کھیر کھانے کی عادت پڑ چکی تھی ۔حکومت کے جاری اخراجات کا 32فیصد اور وفاقی حکومت کی آمدنی کا 33 فیصد ڈیٹ سروسنگ کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس وقت کل قرضہ 12.9کھرب روپے ہے جس میں ملکی ذرائع سے لیا گیا قرضہ 7.6 کھرب ہے ۔گذشتہ 10سے 12سال کے دوران حکومتی اخراجات جی ڈی پی کا 17سے 22 فیصد رہے ہیں جبکہ آمدنی 13سے 15فیصد رہی ہے۔ 2011-12 میں جاری اخراجات کی 34 فیصد رقم قرضوں پر سود کی مد میں ادا کی گئی۔ یہی رقم سوشل ڈویلپمنٹ اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو تو لوگوں کے دلدر دھل جائیں۔ دنیا بھر میں خسارے کا بجٹ رکھنے والی حکومتوں ٹیکسوں سے آمدنی کو بڑھاتی ہیں اپنے داخلی وسائل کوممکنہ حد تک بروئے کار لاتی ہیں یا پھر آئی ایم ایف کی سوالی بن جاتی ہیں۔ ہماری حکومتیں آئی ایم ایف کی سوالی بنتی رہی ہیں۔ ساتھ ہی اپنے مرکزی بنک اور کمرشل بنکوں سے بھی ممکنہ حد تک ادھار لیتی رہی ہیں۔ مرکزی بنک سے ادھار لینے سے زر کا پھیلاﺅ ہوتا ہے اور افراط زر کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ بیرونی قرضہ صحیح استعمال میں نہ آئے تو حکومتی واجبات میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہوتا جب حکومتی آمدنی ڈیٹ سروسنگ پر خرچ ہوتی جائے گی تو انویسمنٹ اور گروتھ کے لئے کیا باقی بچے گا ۔حکومت کے اندرونی قرضوں میں 5 سال کے دوران 133فیصد اضافہ ہوا جبکہ بیرونی قرضوں میں 57فیصد اس عرصے میں اندرونی قرضوں پر سود کی مد میں 811.2 ارب روپے خرچ ہوئے۔ بجلی کی غیر معمولی لوڈشیڈنگ کا بنیادی سبب سرکلر ڈیٹ ہے ۔ لوڈشیڈنگ نے اکانومی کا بیڑا غرق تو کیا ہی ہے سوشل لائف کے تانے بانے بھی بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔ سرکلر ڈیٹ کی بنیادی وجہ بری حکمرانی بجلی چوری اور نادہندگان کے ذمہ واجب الادا رقم ہے۔ یہ رقم 86.9 ارب روپے سے زیادہ ہے نادہندگان سے عدم ریکوری اور وسیع پیمانے پر بجلی چوری کی ذمہ دار پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں DISCOS ہیں۔
نئی حکومت عجلت میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی ۔نواز شریف سعودی حکمرانوں کی پسندیدہ شخصیت ہیں وہ پاکستان کو 15ارب ڈالر کا بیل آﺅٹ پیکج آفر کریں گے ۔پاکستان کو ایک لاکھ بیرل خام تیل اور 15ہزار ٹن فرنس آئل کی یومیہ ترسیل شروع ہونے سے بجلی گھر پوری استعداد کے مطابق چلنا شروع ہو جائیں گے ۔12سے 15ارب ڈالر کے تیل کی سپلائی تین سال کے ادھار پر اور بلا سود ہو گی۔ آئی ایم ایف کے قرضے کے ساتھ شرائط کی لمبی فہرست ہوتی ہے اور سود بھی سر پر سوار رہتا ہے نگران حکومت نے جاتے جاتے گرمی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں نڈھال عوام پر 152ارب روپے کا منی بجٹ مسلط کر دیا ہے ۔انکم ٹیکس سیلز ٹیکس ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں یہ بھاری رقم 30 جون سے پہلے جمع کی جائے گی۔
لکیر کا فقیر بنے رہنا کوئی خوبی نہیں ۔نواز شریف کو ماضی کے سارے جمہوری و غیر جمہوری حکمرانوں سے خود کو یکسر مختلف وزیراعظم ثابت کرنا ہو گا۔ سرکاری پیسے کو استعمال کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا ہو گا کہ اس پیسے کا استعمال ناگزیر ہے یا غیر ضروری۔ بھاری بھر کم صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ضروری ہے وزیراعظم کا صوابدید فنڈ 27 ارب روپے کا ہے۔ اس بھاری رقم سے وہ جس پر چاہئے نوازشات کی بارش کر سکتا ہے۔ راجہ پرویز اشرف کو یہ بارش بھی شکست سے نہ بچا سکی۔ وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز بھی کم بھاری نہیں۔ وزارت اطلاعات کے اربوں روپے کے خفیہ فنڈز کو عدالت عظمیٰ میں بے نقاب ہونا پڑا ۔ کابینہ ڈویژن کا یومیہ خرچ 80 لاکھ روپے، وزیراعظم سیکرٹریٹ کا 20 لاکھ روپے ایوان صدر کا 13لاکھ روپے وزیراعظم کے بیرونی دوروں کے لئے مختص رقم چھ ارب روپے سالانہ ہے پاکستان ریلوے، پی آئی اے پیپکو، پاسکو اور یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو سالانہ 360 ارب کی ڈرپ لگ رہی ہے ۔2005 میں پی آئی اے کے ذمے واجبات 62 ارب تھے جو 2009 میں 200 ارب ہوگئے۔ ریلوے پانچ سال میں 48 ارب روپے ادھار لے چکی ہے اتنا ادھار لے کر بھی ٹرینیں بند اور انجن خراب پڑے ہیں جیسے واپڈا کے خراب ٹرانسفارمروں کے ہر شہر میں ڈھیر لگے ہیں ۔ موجودہ حالات میں جب ملک 16ہزار ارب روپے کا مقروض ہے پائی پائی کو دھیان سے خرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔نواز شریف کہتے ہیں کہ حکومتی اخراجات میں 30فیصد کمی کی جائے گی لاہور میں میٹرو بس منصوبے پر 30 ارب روپے یا اس سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں اتنی بڑی رقم سے پاور جنریشن بھی ہو سکتی تھی۔ اب بھی شہباز شریف واہ واہ سے بچیں اور فی الحال لیپ ٹاپ اور میٹرو منصوبوں پر پیسہ نچھاور نہ کریں۔ سڑکیں چوڑی کر کے بھی میٹرو چل سکتی ہے ۔اس کے لئے فلائی اوور ناگزیر ہیں اس وقت وزیراعلی کا ایک دفتر سول سیکرٹریٹ میں ہے ۔دوسرا 90 شاہراہ قائداعظم میں واقع ہے ۔تیسرا ون کلب روڈ۔ چوتھا تین کلب روڈ ۔پانچواں 7 کلب روڈ ۔آٹھواں 5 کلب روڈ۔ نواں 8 کلب روڈ جی او آر ون میں واقع ہے۔ وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم علیحدہ ہے تمام صوبائی محکموں کو ری آرگنائز کیا جائے ۔خوراک، زراعت، جنگلات ماہی پروری اور وائلڈلائف کی ایک وزارت ہو، فنانس ایکسائز اور ٹیکسیشن کی ایک ہی وزارت ہو، ماحولیات اور سیاحت کو بھی یکجا کیا جائے، اقلیتی امور انسانی حقوق اور اوقاف ایک ہی وزارت ہوں۔ تعلیم کی وزارت میں خواندگی بھی شامل ہو، لیبر صنعت سرمایہ کاری اور کامرس ایک وزارت ہو، زکوة عشر بیت المال سوشل ویلفیئر ایک ہی وزارت ہوں۔