خزانے کا غلط استعمال کرنےوالوں پر قیامت

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

ہماری سیاست میں اقتدار کا کھیل مال بنا¶ پالیسی کے تحت کھیلا جاتا ہے، اس میں اب زیادہ شک باقی نہیں رہا۔ اکثر لوگ سوال کرتے اور بحث کرتے پائے جاتے ہیں کہ آخر سرمایہ دار اور زر کے پجاری سیاسی میدان میں کود کر انتخابی عمل کے دوران لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کیوں کرتے ہیں، انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ بہت سارے باخبر حلقوں کو علم ہے کہ انتخابی عمل پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچنے والے یا تو اپنے کاروبار اور مخصوص مفادات کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس طرح سے انتخابی سرگرمیوں پر ان کے صرف ہونے والے لاکھوں کروڑوں کا نہ صرف حساب کتاب برابر ہو جاتا ہے بلکہ وہ فائدے میں ہی ہوتے ہیں۔ دوسری ایک رائے یہ بھی ہے کہ 1985ءکے بعد سے قانون سازوں کو چونکہ ترقیاتی فنڈز لگانے پر لگایا جا چکا ہے لہٰذا اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر سرمایہ دار، وڈیرے اور زر کے پجاری کمیشن اور دیگر ہتھکنڈوں کو استعمال کر کے اپنی تجوریوں کو بھرتے ہیں۔ عوام کے خون پسینے سے حاصل کیا گیا ٹیکس یا پھر عوام کے سروں پر کروڑوں اربوں ڈالر کا قرض ڈال کر وہ اس رقم کو بٹورنے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے اور اس طرح سے انتخابی مہم کے دوران ان کے اخراجات منافع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا کسی بھی سیاسی جماعت کی، صرف اراکین اسمبلی کی بات کریں تو ان میں سے ایک بہت بڑی فوج ظفر موج کے بارے میں سوالات ذہنوں میں گردش کرتے ہیں کہ آخر ان لوگوں کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔ ان لوگوں میں ایسے لوگ جن کی نہ کوئی زرعی زمین ہے اور نہ ہی وہ کوئی کاروبار کرتے ہیں وہ کیسے اور کس طرح اس قدر شاہانہ زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ وہ کیسے کروڑوں روپے کی گاڑیوں پر سیرسپاٹے کرتے ہیں اور اب تو اللہ بھلا کرے ان کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کے پیچھے بھی کروڑوں روپے کی گاڑیاں لگی ہوتی ہیں جس میں ان کے درجنوں اسلحہ بردار گن مین موجود ہوتے ہیں۔ آخر وہ کیسے ان گاڑیوں کے لاکھوں روپے تیل کے ایندھن اور ان درجنوں گن مینوں کی لاکھوں روپے تنخواہوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔
ہر ذہن آسانی سے تسلیم کرتا ہے کہ ان لوگوں نے بت شکن ہونے کی دعویداری کے باوجود کرپشن کی دیوی کی پوجا شروع کر رکھی ہے۔ ان کے گھروں کے درودیوار کرپشن کی دیوی سے چمک رہے ہیں اور وہ کرپشن کی دیوی کو اس قدر پوجتے ہیں کہ آج پوری قوم مسائل اور بحرانوں کی دلدل میں گھری ہوئی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کرپشن کی دیوی کے ان پجاریوں کی وجہ سے خودکشیاں نہ ہوتی ہوں، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب جرائم کی شرح میں بیروزگاری، غربت اور افلاس کی وجہ سے اضافہ نہ ہو رہا ہو، کوئی دن ایسا نہیں گزر رہا جب ان کے سکینڈل منظرعام پر نمودار نہ ہو رہے ہوں، کون سا دن ایسا ہے جب کرپشن کی دیوی کے پجاری قوم کے خون پسینے سے حاصل ہونے والے ریونیو کو نچوڑ کر کرپشن کی دیوی کے قدموں میں نچھاور نہ کرتے ہوں۔ ہمارے سیاست دان اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر کرپشن کرتے ہیں اس بارے میں زیادہ ابہام باقی نہیں کیونکہ خود میڈیا اور عدالتوں میں کرپشن کے سکینڈل اکثر سیاست دان ہی ایک دوسرے کے خلاف لا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ہر سرگرمی کو نگل رکھا ہے۔ ہر طرف ایک سوگ برپا ہے اور پیپلزپارٹی کی سابق حکومت کے سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویزاشرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نام پر شروع کئے جانے والے رینٹل پاور پلانٹس کی کرپشن سکینڈل میں ملوث ہیں۔ شاید سیاست اسی لئے کی جاتی ہے۔ سیاست دان اگر کوئی ترقیاتی منصوبہ بھی شروع کروائیں تو اس میں بھی کمیشن اور دیگر غیرشائستہ، غیرجمہوری اور غیرقانونی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے کرپشن کے ناگ کو کرپشن کی دیوی کی حفاظت پر تعینات کر دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ ستم کیا ہو گا کہ ہمارے ملک میں اہل اقتدار کی کرپشن کے باعث وطن عزیز میں قومی خزانہ خالی پڑا ہے۔ حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار کے لئے تیل حاصل کرنے کی خاطر رقم فراہم کر سکیں۔ یہ کرپشن کا شاخسانہ ہے جس نے وطن عزیز میں خط غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک کن اضافہ کر دیا ہے اور ستم بالائے ستم کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس پاکستان میں جس کے قیام کی جدوجہد میں 10لاکھ سے زیادہ ما¶ں بہنوں بیٹیوں بیٹوں اور بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اس عظیم سرزمین پاکستان میں عوام سے انسان کی طرح جینے کا حق چھین لیا ہے۔
 کرپشن کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے احتساب بیورو کا کردار ہمیشہ ہی سیاسی رہا ہے اور اس کے کردار کو قطعی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ خود اپنے ریمارکس میں متعدد مرتبہ احتساب بیورو کی کارکردگی پر عدم اعتماد اور تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ رینٹل پاور پلانٹس کے کرپشن کیس کے تفتیشی افسر کے ساتھ گذشتہ برس کیا ہوا تھا اور وہ کس طرح اپنے کمرے میں مردہ حالت میں ملے تھے۔ یہ معمہ تاحال حل طلب ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی حکومت کے آخری روز جاری کردہ 47ارب روپے کے آڈٹ کا حکم جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سابق حکومت نے کھربوں کے ترقیاتی فنڈز غیرمتعلقہ جگہوں پر خرچ کر دیئے۔ اکاﺅنٹنٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں بیان دیا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے دھمکیاں دے کر زبردستی رقم جاری کرائی۔
 پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت سر کے بالوں سے لے کر پا¶ں تک کرپشن کے الزام میں لتھڑی پڑی ہے اور اس کے کئی کرپشن سکینڈل کیسز کے طور پر عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ سپریم کورٹ کا اس ضمن میں کردار لائق تحسین ہے کہ احتساب بیورو تاحال سیاسی ادارے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ عوام کو امید ہے کہ سپریم کورٹ کرپشن کرنے والوں سے پورا حساب آئین اور قانون کے مطابق کرے گی اور سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس انشاءاللہ پورے ہوں گے کہ خزانے کا غلط استعمال کرنے والوں پر قیامت آنے والی ہے۔ سپریم کورٹ آئین اور قانون کے مطابق جس طرح اپنا کردار ادا کر رہی ہے اگر کرپشن کیسز میں بھی سپریم کورٹ سرخرو ہو جاتی ہے تو کرپشن میں لتھڑے سیاست دانوں، اہل اقتدار اور بیوروکریسی کو عبرت کا نشانہ بنا کر آئندہ کے لئے کرپشن میں کمی کے رجحان کو فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ کوئی سیاست دان اقتدار میں آ کر ایسی شاہانہ زندگی بسر نہ کرنے لگے کہ جس پر عوام کو تشویش ہو۔ عوام سوال کرے کہ آخر بغیر کسی کاروبار، کسی جائیداد اور زمینوں کے ایسے اراکین اسمبلی کس طرح کروڑوں لاکھوں روپے کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں؟ آخر کرپشن کو جڑ سے اکھیڑنا تو پڑے گا۔ یہی قوم کا خواب اور ملک کی حقیقی ترقی کا اصل تقاضا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے خوابوں والا عظیم پاکستان اسی صورت میں ابھر سکتا ہے۔