’’ایلیٹ فورس … سڑک رات بارہ بجے کھل جائے گی‘‘

نواز خان میرانی ۔۔۔
دنیا کا کون سا ملک ہماری ہم سری کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ دنیا کا کون سا ملک ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ بڑے بڑے ملکوں کو چھوڑیں حتیٰ کہ بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، برما جیسے ملک بھی ہم سے کہیں پیچھے ہیں۔ سوچ سمجھ کر کام کرنا ہو، تو پھر تو نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ ڈگریوں کی، مزہ تو جب ہے کہ کام اور منصوبے شروع کرنے کے بعد سوچا جائے۔ جیسے ہمارے حاکموں نے ایلیٹ فورس بنائی جس کا مقصد دہشت گردوں کی سرکوبی کے علاوہ متاثرہ جگہوں پر فی الفور پہنچنا اور حالات سے نمٹنا ہے جس کے لئے انہوں نے بیدیاں روڈ پر فورس کا سینکڑوں ایکڑوں پر محیط ایک قلعہ نما شہر بسایا اور جگہ کا انتخاب انہوں نے کمال ہنرمندی سے کیا۔ سرحدی علاقے کے ساتھ واقع پولیس کا یہ پورس کچھ عرصہ پہلے دہشت گردوں سے پنجہ آزمائی کر چکا ہے۔ اس پر حملہ کرنے والوں نے یہ سوچ کر کہ انہیں دور لے جا کر لڑائی کرنے کی تکلیف نہیں دینی چاہئے۔ وہ ازراہِ ترحم وہ ان کے گھر تک پہنچ گئے۔ لاہور ائرپورٹ کی گھمن گھیریوں کی طرح ایلیٹ فورس کے دفتر تک پہنچنا انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ بے انتہا رش والی سڑک بیدیاں روڈ اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ق لیگ اور ن لیگ کے تعلقات کی طرح سڑک پر جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں اور خدانخواستہ کوئی سانحہ پیش آنے کی صورت میں ایلیٹ فورس متاثرہ مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور اس پر زر کثیر خرچ کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ جس سڑک پر وہ واقع ہے ایسے لگتا ہے کہ قیام پاکستان اور انگریزوں کے زمانے کی سڑکیں بھی اس سے بہتر ہوں گی۔ یہ تو احوال تھا ہمارے ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے والے ادارے کا۔
کچھ دن پہلے میں اپنے گھر کینٹ سے نیو کیمپس کے قریب ایک ڈاکٹر کو چیک کرانے کی نیت سے گیا۔ سی این جی فل کرائی۔ نہر کے ساتھ اس قدر رش تھا اور گاڑیاں چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھیں اور پٹرول ختم ہو جانے کی وجہ سے گاڑیاں راستے میں بند ہو چکی تھیں۔ کلینک پہنچنے پر یہ پتہ چلا کہ ڈاکٹر بھی رش میں پھنس گئے ہیں چونکہ میں نے چوتھے نمبر پر چیک کرانا تھا، میں نے حساب لگایا کہ موصوف تو رات کو ایک بجے کے قریب مجھے چیک کریں گے لہٰذا میں نے واپس گھر چلنے کا کہا۔ واپسی پر صورتحال دگرگوں ہو گئی۔ مختصر یہ کہ بغیر چیک کرائے گھر پہنچے تو گاڑی کی ٹینکی بھی خالی تھی اور ہمارے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا تھا۔
لیکن میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ آخر وجہ کیا تھی راستے میں لوگ مختلف افواہوں پر کان دھرتے نظر آئے لہٰذا میں نے اصل حقیقت کا پتہ چلانے کی نیت سے ٹی وی لگایا تو بریکنگ نیوز چل رہی تھیں کہ کیمپس روڈ کی مرمت مکمل ہونے والی ہے اور سڑک کو رات بارہ بجے کھول دیا جائے گا۔جتنے وقت میں سڑک کی مرمت ہوتی رہی اتنی ہی دیر میں مجھ سمیت سینکڑوں راہ گیروں اور مسافروں کی بھی ذہنی اور جسمانی مرمت مکمل ہو چکی تھی۔
اخلاق انسانیت، تہذیب، شرافت اور سلیقے کا درس ہمارے نبی محترم نے دیا مگر عمل اس پر دوسرے ممالک نے کیا جہاں سڑکوں کی تعمیر رات کو بارہ بجے شروع کی جاتی ہے۔ چونکہ حکومت کی طرح ان کے اداروں کے بھی بارہ بجے رہتے ہیں لہٰذا دن کے بارہ بجے ہمارے تعمیری کام بھی تخریبی انداز سے شروع کئے جاتے ہیں لہٰذا اس کے سدباب کے لئے ہمارے اصل وزیراعظم رحمان ملک کو چاہئے کہ وہ کھلاڑی ہی نہ بنے رہیں، ریفری بن کر نورا کشتی کو بند کرنے کی سیٹی بجا دیں تاکہ صوبے والے کوئی تو تعمیری کام کر سکیں!!