چین کی اہمیت

کالم نگار  |  محمد مصدق

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر اور تاجروں کے لیڈر عرفان اقبال شیخ نے چین کے مطالعاتی دورے سے واپسی پر نوائے وقت کو بتایا حضورؐ نے بالکل درست اور آنے والے زمانے کو اپنی نظروں سے دیکھ کر کہا تھا کہ ’’علم حاصل کرو بے شک اس کیلئے چین جانا پڑے‘‘۔ ماضی میں بھی چین علم و حکمت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا تھا لیکن موجودہ دور میں اگر پاکستان نے معاشی لحاظ سے ترقی کرنی ہے تو پھر چین کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔اپنے تازہ ترین پندرہ روزہ دورے میں مجھے چین کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اہم نمائندوں اور راہنمائوں سے تبادلۂ خیال کا موقع ملا تو میں نے ہر ایک کے دل میں پاکستان کی محبت پائی اور چینی بزنس کمیونٹی میں ایک خاص جوش ہے کہ پاکستان چین کو رول ماڈل بنا کر تیزی سے ترقی کرے۔ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی خوش قسمتی ہے کہ چینی اپنی ٹیکنالوجی صرف اور صرف پاکستان کو منتقل کرنے کیلئے تیار ہے۔اگرچہ پاکستان کی نسبت چین کی تجارت انڈیا سے بہت زیادہ ہے لیکن دوستی کا دم وہ صرف پاکستان کا بھرتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں ورک فورس یعنی کام کرنے والوں کی اوسط دنیا بھر میں بہت زیادہ ہے لیکن مناسب حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری ورک فورس بے روزگاری کا شکار ہے۔چین کے مختلف چیمبرز کے عہدیداروں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان چین سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کر کے اپنی ترقی کی رفتار کو مہیمز کیوں نہیں لگا رہا۔ چاول وغیرہ کے شعبہ میں چین نے ہائی برڈ بیجوں کی ٹیکنالوجی پاکستان کو ٹرانسفر کی ہے جس کے نتیجہ میں فی ایکڑ پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔دوسرے شعبوں میں بھی ہائی برڈ ٹیکنالوجی دستیاب ہے اگر پنجاب حکومت چینی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون حاصل کرنے کیلئے چین کے سرمایہ داروں کو فری زمین دیدے تو اس وقت چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔آئی ٹی کے شعبہ میں بھی بہت گنجائش ہے۔دنیا بھر میں آئی ٹی کا شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اگر اس شعبہ میں چینی اور پاکستانی سرمایہ کار مشترکہ منصوبہ بنائیں تو پوری دنیا پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹ بن سکتی ہے۔