پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب

پاکستان کے آئین کیمطابق صدر کو ہرپارلیمانی سال سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرنا ہوتا ہے۔ اس خطاب میں صدر حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہیں اور ایک دیانتدارانہ خطاب میں اُن پہلوئوں کی نشاندہی بھی ضرور کرتے ہیں جن میں حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ایک سیاسی طور پر غیر جانبدار صدر ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے جہاں حکومت کے اچھے کاموں کی داد دیتا ہے۔ وہاں حکومت کی ناکامیوں پر تنقید بھی ضرور کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی اپنا وژن بھی دیتا ہے جس کو عملی جامہ پہنا کر ملک کو عوامی خواہشات اور قومی توقعات کے عین مطابق خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
صدر صاحب کے حالیہ خطاب پر ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے وقت یہ نہایت ضروری ہے کہ سب سے پہلے جناب آصف علی زرداری کے اس حوصلے اور جرأت کی داد دی جائے جس کی بدولت وہ چوتھی بار قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوئے۔ صدر کی سیاسی جماعتوں کو توانائی کی قلت، قرضے، ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی تشکیل نو اور معاشی مسائل کے پانچ نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کی دعوت بھی قابل تحسین قدم ہے۔ پوری قوم صدرکے اس استدلال سے بھی ضرور اتفاق کریگی کہ عسکریت پسندی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے سوا پاکستان کے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق صدر کے ارشادات پر بھی کوئی ذی ہوش انسان معترض نہیں ہو سکتا۔ صدر نے یہ بھی بجا طور پر فرمایا کہ قیادت کا کام قوم میں اتحاد پیدا کرنا ہے اس لئے انہوں نے محاذ آرائی کے خاتمے اور قومی مفاہمت کی بات کی جو قابل قدر ہے۔ انہوں نے تعلیم اور صحت کے محکموں کو صوبوں کے سپرد کرنے اور 2011 کو تعلیم کا سال قرار دینے کا ذکر بھی فرمایا۔ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی دلیری کا ذکر بھی حوصلہ افزا تھا۔ اس کے علاوہ صدر کا یہ فرمان بھی بجا تھا کہ پاکستانی سرزمین کو دوسرے ممالک کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں کرنے دیا جائیگا۔ صدر نے ساتویں این ایف سی ایوار‘ڈ بجلی کی پیداوار میں 1800 میگاواٹ کے اضافے‘ بیرونِ ملک سے آنیوالی ترسیلات کے 11 ارب ڈالر تک پہنچ جانے، زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر ہو جانے کی خوشخبری دینے کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ سے چالیس لاکھ خاندان مستفید ہوئے ہیں سب سے اہم بات صدر مملکت کا یہ کہنا تھا کہ ہم کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق چاہتے ہیں۔
قارئین بظاہر یہ ساری اچھی اور خوش کن باتیں ہیں لیکن ان سارے دعوئوں کا اگر بغور تجزیہ کیا جائے تو چند تلخ حقائق بھی سامنے آتے ہیں جن پر دھیان دینا ضروری ہے۔
حکمران سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے صدر صاحب بدقسمتی سے سیاسی لحاظ سے ایک غیر جانبدار ریاستی سربراہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مسائل کی چکی میں بری طرح پسے ہوئے پاکستان میں کرپشن، بدعنوانی، بھوک افلاس اور بیروزگاری جیسی معاشرے کی بدترین بیماریوں کا ذکر تک نہیں کیا۔ چونکہ یہ تنقید اُنکی اپنی پارٹی کی حکومت پر ہوتی۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گندم کی قیمتوں میں پچھلے تین سالوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جس سے فوڈ سکیورٹی کی صورت حالت بدتر ہو گئی۔ صدر نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا زوردار طریقے سے ذکر تو ضرور کیا لیکن یہ بھول گئے کہ اس بالادستی کو صرف ایک مربوط اور ہر لحاظ سے آزاد عدلیہ ہی یقینی بنا سکتی ہے۔ جس کے ساتھ حکومتی تعاون کا معاملہ سب کے سامنے ہے‘ اس لئے کاش کہ صدر صاحب عدلیہ کے فیصلوں کے احترام سے متعلق بھی کوئی واضح بیان دے دیتے اور ساتھ یہ بھی کہتے کہ چونکہ غیر جانبدارانہ احتساب عدل کے نظام کا ایک اہم جزو ہے اس لئے قومی احتساب کمیشن میں جیالوں اور پیاروں کی سیاسی بھرتیوں کی بجائے مثبت سوچ والے غیر جانبدار اور دیانتدار لوگ لگائے جائینگے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو ملکی معیشت دان ایک ایسا معاشی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ کہتے ہیں جس کی کمزور ملکی معیشت متحمل نہیں ہو سکتی چونکہ کچھ صوبوں میں لوٹ مار اور چور بازاری مرکز سے بھی زیادہ ہے اس لئے اگر مرکز نے خطیر رقم اُن کو دے بھی دے تو اسکی بندر بانٹ ہو جائیگی محدود مالی وسائل کا صحیح مصرف بھی ایک آرٹ ہے جس سے ہمارے زیادہ تر سیاستدان اور بیورو کریٹ خصوصاً صوبائی سطح پر بالکل ناآشنا ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پر بہت سارے لوگوں کا اعتراض یہ ہے کہ یہ صرف سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ فرزانہ راجہ کی محنت کو تو میں ضرور داد دیتا ہوں لیکن بہت سے اکانومسٹ یہ کہتے ہیں کہ اگر بے نظیر انکم سپورٹ کے اربوں روپے استعمال کر کے فوج کے فلاحی صنعتی یونٹوں کی طرح کوئی ادارے کھڑے کر دئیے جائیں اور اُن میں غریب خاندانوں کے اہل افراد کو بھی نوکری دی جائے تو یہ ہزار روپے فی کس ماہانہ والی بھیک سے زیادہ بہتر ہو گا اور یہ لوگ ہمیشہ ملکی معیشت پر بوجھ نہیں بنے رہیں گے۔
صدر کی تقریر میں پاکستان کے مغربی دریائوں پر ہندوستان کے تقریباً 100 بند بنانے کا ذکر تک نہیں حالانکہ آنیوالے سالوں میں ہماری معاشی اور قومی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ یہی ہے جس پر امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے مطابق پاک و ہند جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ صدر صاحب نے ہندوستان کی افواج کے 34 ارب ڈالر کے بجٹ میں مزید اضافے اور اگلے چند سالوں میں 100 ارب ڈالرز کا اضافی اسلحہ خریدنے کے ہندوستانی منصوبے کو بھی اجاگر نہیں کیا۔ اندرونی خطرات کے علاوہ پاکستان کی قومی سلامتی کو یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔
صدر کی تقریر میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیبیا پر حالیہ حملے کی مذمت کے علاوہ افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا کا ذکر بھی قومی امنگوں کے عین مطابق ہوتا مغربی مبصر کہہ رہے ہیں کہ اوباما نے اس حملے کی کانگرس سے اجازت بھی نہیں لی۔ کل یہ حملہ پاکستان سمیت کسی ملک پر بھی ہو سکتا ہے۔
ملک میں سی آئی اے اور را کے جاسوسوں کے جال اور ریمنڈ ڈیوس کے عدالتوں سے نہایت عجلت میں شرم ناک چھٹکارے جس پر پوری قوم سراپا احتجاج بنی رہی، کا ذکر بھی صدر صاحب کو کرنا چاہئے تھا تاکہ مشترکہ اجلاس اور قوم کو صحیح صورتحال کا پتہ چلتا کہ ہماری تاریخ کا یہ سیاہ باب کیسے رقم ہوا۔
صدر صاحب نے سرکاری اداروں کی تشکیل نو کا ذکر تو کیا لیکن اُنکی تباہی کے ذمہ دار لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات نہیں کی۔ مجرموں کو عبرتناک سزا نہ ملی تو ڈاکہ پھر پڑیگا ان اداروں کے نیم مردہ ڈھانچوں کو گلوکوز کی ڈرپ لگانے سے بھی زیادہ یہ ضروری ہے کہ ان پر قاتلانہ حملے کرنے والے قومی مجرموں کو تختہ دار پر کون اور کب لٹکائے گا۔
صدر صاحب نے اس اٹھارویں آئینی ترمیم کا ذکر بھی کیا جس نے چند اچھے پوائنٹس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو شہنشاہیت میں بدل دیا ہے اب سیاسی جماعت کا صدر بے تاج بادشاہ کی حیثیت میں کسی بھی رکن کو جماعت سے ہٹ کر اپنا مختلف نکتہ نظر پیش کرنے پر اسمبلی کی رکنیت سے الگ کر سکتا ہے۔ پہلے سے وراثتی کینسر کا شکار ہماری سیاسی جماعتیں اس ترمیم کے بعد ملک کے اندر جمہوریت کی کس منہ سے بات کرینگی۔
صدر صاحب یہ بھی سوچیں کہ اُنکی ساری کامیاب سیاست کے باوجود پارلیمنٹ کے تقریباً نصف افراد نے اُن کی تقریر سننے سے انکار کر دیا۔
قارئین ان ساری باتوں سے قطع نظر اب ہمیں دیکھا یہ ہے کہ کیا پاکستان کو مزید دو سال کیلئے موجودہ کومے یا بے ہوشی کی حالت میں رہنے دینا ملکی مفاد میں ہو گا۔ اگر نہیں تو پھر ہمارے پاس صرف محدود آپشنز ہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ موجودہ نظام کو ہی چلنے دیا جائے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب سب سیاسی جماعتیں اسمبلیاں توڑے بغیر دیانتدار لوگوں کے اتحاد سے نئی حکومت تشکیل دیں جو اگلے دو سال چلے یہ بہتر راستہ ہو گا۔
دوسرا یہ کہ اسمبلیاں توڑ کر ایک عبوری قومی حکومت بنا دی جائے جو غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دے کر نئے انتخابات کروائے یہ یقین کرتے ہوئے کہ جعلی ڈگریوں کے کیس میں ملوث قرضے معاف کروانے والے اور جانے پہچانے بدکردار اور بددیانت لوگ جو انکم ٹیکس کی چوری میں ملوث ہوں اور اپنی ناجائز بینک بیلنس اور جائیدادوں کا تسلی بخش جواب سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے آگے نہ دے سکیں۔ وہ سب انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تاحیات نااہل قرار دے دئیے جائیں۔ تیسرا یہ کہ ملک میں صدارتی نظام رائج ہو پورا ملک ایک دیانتدار صدر کا انتخاب کرے جو اپنی محدود کابینہ کا انتخاب امریکہ کی طرح ہر طبقہ فکر سے کرے اور ملک پانچ سال کیلئے چلائے اسمبلیاں صرف قانون سازی کریں۔ اس سے سیاسی بلیک میلنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے لیکن یہ کون کرے کہ ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز ہے۔