ماں کیا ہوتی ہے

آمنہ نثار … ناروے
ماں وہ ہوتی ہے جو اپنے بچے کو بتاتی ہے کہ وہ سب سے اچھا اور سب سے خوبصورت ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ماں ایسی نہیں ہو گی جس نے اپنے بچے کو کبھی بدصورت کہا ہو گا ماں ہی انسان کے لئے سب سے مضبوط سہارا ہوتی ہے اور ماں ہی سب سے بڑی کمزوری انسان کی ہوتی ہے جب بھی انسان دکھی ہوتا ہے یا اپنے آپ کو کمزور سمجھتا ہے یا تکلیف میں ہوتا ہے تو اسے جو ذات سب سے زیادہ سہارا دے سکتی ہے وہ ماں ہوتی ہے۔ ماں کے چند الفاظ ہی اسے طاقت دے دیتے ہیں ماں کے بولے ہوئے الفاظ کمزور انسان کیلئے وہ کام کر سکتے ہیں جوکہ دنیا میں طاقت کی روانیاں بھی نہیں کر سکتیں۔ ماں کی کمزور آغوش میں آ کر انسان اپنے آپ کو محفوظ اور پرسکون سمجھتا ہے۔
ماں کی تعریف کے لئے الفاظ ناکافی میں یہ ایک بے لوث رشتہ ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی رشتے ہوتے ہیں اور ان میں جتنی بھی محبت ہو وہ اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں۔ شوہر بیوی بچے بہن بھائی جو رشتے بھی دنیا میں ہیں اگر آپ انہیں پیار دیتے ہیں تو پیار ملتا ہے جتنا آپ دیں گے اتنا آپ واپس لیں گے مگر ماں کا رشتہ دنیا میں واحد ایک ایسا رشتہ ہے جو صرف آپ کو دیتا ہی دیتا ہے۔ اور اس کے بدلے آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔ آپ ماں سے بولیں نہ بولیں اس سے ملیں نہ ملیں مگر اس کی زبان پر ہمیشہ آپ کے لئے دعا ہی رہے گی ماں کا رشتہ ایسا بے لوث رشتہ ہوتا ہے جو آپ سے کبھی بھی اپنی خدمت کی قیمت نہیں مانگتا۔
خدا نے جسمانی طور پر مرد کو مضبوط بنایا ہے۔ لیکن میں سمجھتی ہوں عورت جسمانی طور پر تو کمزور ہو سکتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ہوتی ایک ماں کے اندر اتنی قدرتی طاقت ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب بچوں کو سنبھال لیتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے اگر سب بچوں کو مل کر ماں کو سنبھالنا پڑے تو وہ نہیں سنبھال سکتے۔ ماں بچے کی آہ برداشت نہیں کر سکتی اور اسے تکلیف میں دیکھ کر اپنے سارے درد بھول جاتی ہے بڑے ہی بدقسمت لوگ ہیں جن کے پاس ماں جیسا عظیم رشتہ موجود ہوتے ہوئے بھی اس کی قدر نہیں کرتے انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کو بڑا کرنے والی اس مقام تک پہنچانے والی ہستی ماں ہی ہوتی ہے۔
دنیا میں واحد ایک ماں کا ہی رشتہ ایسا ہے جس کو صرف معاف کرنا آتا ہے۔ انسان کوئی بھی غلطی کرے ماں سے معافی مانگے تو ماں اس کی سب غلطیاں بھلا کر اُسی وقت گلے سے لگا لیتی ہے۔ ماں کے دل میں رہنے کیلئے صرف اور صرف محبت ہی ہوتی ہے۔
مجھے اپنے والدین پر فخر ہے۔ میں جو کچھ ہوں ان کی محبت کی بدولت ہوں۔ مجھے اپنی ماں کی قربانیوں پر فخر ہے جن کا میں کبھی بھی صلہ نہیں اتار سکتی۔ میری تمام لوگوں سے یہ ہی درخواست ہے اگر ان کی والدہ حیات ہے تو اپنی جنت کما لیجئے۔ آخر میں میں یہی کہوں گی اپنی اپنی مائوں کی قدر کریں جن کی بدولت آج دنیا میں آپ کا وجود ہے۔ آپ کی کوئی حیثیت ہے۔ آپ کی کوئی عزت ہے۔