صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب اور جمہوری تقاضے

گلزار احمد طاہر......
اس وقت پاکستان کو جو اہم مسئلے درپیش ہیں ان میں انتہا پسندی، شدت پسندی، عدم برداشت، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی ، کمزور معیشت سرفہرست ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھی صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انہی مسئلوں کو مرکز نگاہ بنایا۔ انہوں نے جہاں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی وہیں18 ویں اور 19ویں ترمیم وفاقی کابینہ کے حجم میں کمی اور معیشت کو دوبارہ صحیح راستے پر لانے،7ویں این ایف سی ایوارڈ سمیت معیشت کی بہتری لانے کے ضمن میں کیے جانے والے متعدد اقدامات کا بھی ذکر کیا اور ان کامیابیوں پر پارلیمنٹ کو مبارکباد دی۔
صدر کا یہ بیان پاکستان کے مستقبل کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت کسی کو پاکستان پر یہ الزام لگانے کی گنجائش نہیں رہتی کہ پاکستان سے دہشت گردی برآمد ہوتی ہے یا پاکستان دہشت گردوں کی پس پردہ حمایت کرتا ہے۔اس کے ساتھ ہی مغربی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھو ں میں چلے جائیں گے۔ صدر کے خطاب میں اس فتنے کو جتنی اہمیت دی گئی ہے اس کے بعد اب کسی کو پاکستان پر یہ شک و شبہ نہیں کرناچاہیے کہ پاکستان مستقبل میں مذہبی انتہا پسند عناصر کی آماجگاہ بن جائے گا یا پاکستان ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے گا۔ صدر مملکت کے خطاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کی حلیف جماعتوں کے ارکان تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور کئی ممالک کے سفارتکار بھی موجود تھے۔
معاشی محاذ پر پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں توانائی کی قلت، پاکستان پر اندرونی اور بیرونی قرضے،ٹیکس اصلاحات، سرکاری ملکیت، اداروں کی تشکیل نو اور معیشت کی مضبوطی شامل ہیں جن پر قومی اتفا ق رائے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقتصادی شعبے میں حکومت کی شاندار کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین سالہ دور حکومت میں قومی معیشت کو دوبارہ صحیح راستے پر ڈالا گیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کے خطاب کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے واک آئوٹ کیا لیکن اگر وہ صدر مملکت کی بات سن کر اپنے موقف کا اظہار کرتے تو ملک سیاسی رواداری کی جانب ایک قدم آگے بڑھتا مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم نے جیسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ منزل اب بھی دور ہے راستہ کٹھن اور مشکلات سے پُر ہے لیکن صدر آصف علی زرداری جیسی مستقبل بین اور روشن خیال قیادت کے سائے میں اس منزل تک پہنچنا ناممکن نہیں ہے۔