صدرکا خطاب اور اپوزیشن کا کردار

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مشرف رجیم کے بعد چوتھی دفعہ مسلسل منتخب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرکے جمہوری روایت کی آبیاری کی۔ یقینا پچھلے تین سالوں میں سب اچھا نہیں ہوا بے شمار مسائل نے جنم لیا ،ان گنت مسائل جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے تھے ان سب حالات سے نبردآزما ہونے والی اس اپاہج جمہوریت کو آپ پھر بھی آمریت سے بہتر تصور کریں گے۔
اس وقت وطن عزیز میں لاء اینڈ آرڈر کا بڑا مسئلہ ہے اور ہر شہر بلکہ اب تو دیہات قصبات میں ڈاکوئوں کے گینگ دندناتے پھر رہے ہیں۔ لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں اور ادارے افراتفری کا شکار ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ہروقت کسی خودکش حملہ آور کے نفسیاتی خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی اپنی ملازمت پر بددلی سے ڈیوٹی کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ یقینا کوئی بھی شخص اپنے بچوں کو کم سنی میں یتیم چھوڑ کر اگلے جہان سدھارنے کے پیکیج کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سب حالات میں جمہوریت کے ثمرات محض ایک طرفہ تماشہ بن کر رہ جاتے ہیں اوپر سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اس دیوقامت ’’جِنّ‘‘ کو خبر کی بھوک ستا رہی ہوتی ہے مشترکہ پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب سے دو روز پہلے سے میڈیا کے ایک مخصوص گروپ نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اپنی مخصوص مرضی کے تجزیہ نگار بلا بلا کر یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ خدانخواستہ اگر صدر خطاب فرمانے پارلیمنٹ چلے گئے تو قیامت آ جائے گی بلکہ کچھ نجومی کم اینکر حضرات تو واویلا کر رہے تھے کہ صدر کے خطاب کا سمے ستاروں کی چال کے مطابق صحیح نہیں ایک اینکر پرسن تو یہاں تک کہہ گئے کہ اپوزیشن اور حکومت کی ’’کنڈلی‘‘ نہیں مل رہی ۔ لہٰذا اگر یہ خطاب ہو گیا تو نصیب دشمناں کہیں ملک قہرو قحط اور سونامی کا شکار نہ ہو جائے؟ مگر صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جب اس ملک کی جمہوری اپوزیشن نے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا اور ایوان پارلیمنٹ سے پُرامن واک آوٹ کیا تو اس ملک کے ایک ایسے نام نہاد طبقہ فکر ودانش کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا کہ یہ کیا ہوا ؟نہ کوئی گالی گلوچ نہ ڈنڈے ،نہ انڈے ،نہ ٹماٹرچلے ،نہ کاغذات پھاڑے گئے نہ چلا چلا کر شورشرابہ کیا گیا بقول شخصے: ’’سانپ بھی مر گیا لاٹھی بھی بچ گئی‘‘مگر یہ بات ہمارے امن کی آشا کے پیاروں کو بھلا کب گوارہ تھی کچھ مخصوص اینکرز حضرات بوکھلائے ہوئے تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں؟ کبھی یہ کہا گیا کہ یہ میچ فکس تھا۔ ایک مشہور میزبان اینکر پرسن کی تو جان پہ بنی ہوئی تھی کہ کسی طرح وہ اپنی زبان پروگرام کے مہمانوں کے منہ میں ڈال دیں۔ وطن عزیز کی سالمیت ، وقاراور عزت کو اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ لوگ کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ لوگ نمک سے لے کر نیوکلیئر تک کے موضوعات پر سیر حاصل تبصرہ کرکے خود کو دانشوروں کی ایلیٹ کلاس کے نمائندہ کہلواتے ہیں جبکہ ان مخصوص دانشوروں کا ایک بڑا ٹولہ ڈگری کے بغیر ہے یا جن کے پاس ہیں ان کی ڈگریاں بھی ہائرایجوکیشن سے چیک کرائی گئیں تو اس ملک میں ان حضرات کو منہ چھپانے کے لیے اخبار کا ٹکڑا بھی نہ ملے گا۔گذشتہ روز جب صدر مملکت نے امریکی ملعون پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن پاک کو شہید کرنے کے واقع کے خلاف اقوام متحدہ سے ایک سخت نوٹس لینے کو کہا اور اپنی تقریر کا آغاز سلام و علیکم کی بجائے انہی مذمتی الفاظ سے کیا ۔اس طرح صدر مملکت نے مسلم دنیا کا ایک ادنیٰ کارکن ہونے کا ثبوت دیا او رمشترکہ ایوان سے درخواست کی کہ وہ ایک متفقہ قرارداد پاس کریں جس میں امریکہ سے بھرپور احتجاج کیا جائے ۔صدر مملکت کے اس خوبصورت انداز نے جنونی گروپ کی طرف سے بنائے گئے بے شمار سازشی و احتجاجی منصوبوں پر پانی پھیر دیا ۔ صدر مملکت نے بعدازاں ملک کے دیگراداروں کو پارلیمنٹ سے متصادم ہونے کی پالیسی پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے کا احترام کرے۔ صدر نے کشمیر کے موضوع پر حکومت پاکستان کے غیرلچکدار پالیسی کا بھی عندیہ دیا اور یہ بھی کہا کہ قائداعظم کے پاکستان کو اعتدال پسند پاکستان بنائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو دعوت دی کہ یہ جنگ اکیلے ان کی نہیں یہ جنگ پیپلزپارٹی نے نہیں چھیڑی تھی مگر اس جنگ کو بند کرانا ان کا مثبت انجام پیپلزپارٹی کی حکومت کا ترجیحی ایجنڈا ہے۔ (جاری ہے)