خواب سچے ہوتے ہیں

خواجہ عبدالحکیم عامر ۔۔۔
ریمنڈ ڈیوس کو جانا تھا چلا گیا۔ اس کے ڈرامائی طور پر پاکستان سے جانے پر مجھے بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح دکھ تو ہوا ہے مگر حیرت اس لئے نہیں کہ میں چند روز پہلے اپنا ایک خواب بذریعہ کالم آپ کے ساتھ شیئر کر چکا ہوں جس کے مطابق USA کا ایک جہاز لاہور ائرپورٹ پر اترنے سے لے کر ریمنڈ ڈیوس کے فلائی کر جانے تک کے تمام واقعات بدرجہ اتم اور پیشگی طور پر تحریر کر چکا ہوں۔ آج مجھے یقین ہو چلا ہے کہ بعض خواب سچے ہوتے ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس کون تھا، پاکستان کیوں آیا، اس کے ہاتھ پاکستانیوں کے خون سے کیونکر رنگے گئے۔ اس کی گاڑی سے کیا کچھ برآمد ہوا۔ جیل میں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ قانون کے محافظوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا رہا۔ امریکیوں نے اسے رہا کرانے کے لئے کیا کیا پینترے بدلے۔ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے مابین کیا مذاکرات ہوئے۔ مقتول پاکستانیوں کے اہل خانہ کو کیا کیا سبز باغ دکھائے گئے۔ یہ سب کچھ ہمیں نہیں قوم کہ پتہ چل چکا ہے مگر اس کے باوجود ریمنڈ ڈیوس پاکستانی جیل سے نکل کر امریکہ کی آزاد فضائوں میں جا بیٹھا ہے۔ پاکستانی قوم اس ساری صورتحال پر سراپا احتجاج بن کر اینٹ سے اینٹ بجا سکتی تھی مگر دشمن عیار ثابت ہوا اور ڈالروں کی چمک دکھا کر 19 لوگوں کی زبانیں اور کان بند کر ڈالے اور جو بھرپور احتجاج متوقع تھا وقت سے پہلے ہی دم توڑ گیا کیونکہ چالاک دشمن نے پاکستانیوں کی کمزوری ڈالر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ہم سب منہ تکتے رہ گئے۔
ریمنڈ ڈیوس کو جس خفیہ طریقے سے رہا کرکے امریکہ روانہ کیا گیا اپنے پیچھے بے شمار سوالات چھوڑ گیا ہے مگر ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے میں مصروف ہیں اور ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے دوسرے لفظوں میں ہماری ملی جرات ماند پڑ گئی ہے شائد۔ پنجاب مرکزی حکومت پر اور مرکز پنجاب سرکار پر ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کرنے کے الزامات عائد کر رہا ہے مگر حقائق جاننے کی کوشش کوئی نہیں کر رہا شائد جان بوجھ کر؟ چند دنوں سے مدھم سی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں اور میں سمجھا ہوں کہ اگر ان آوازوں کو ہوا دی جائے انہیں توانائی مہیا کی جائے تو ایک بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ ریمنڈ کی رہائی کی ذمہ دار سیاسی حکومتیں نہیں ہیں سیاسی حکومتوں کی ذمہ داری کا تناسب شائد 50 فیصد ہے بقیہ پچاس فیصد ذمہ داری ان بہادروں کی ہے جنہوں نے CIA کے ساتھ مذاکرات کئے اور لواحقین کو سودے بازی کرنے پر مجبور کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں ہماری معزز عدلیہ برابر کی شریک ہے اور یہ سچ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی ڈرامائی اور خفیہ رہائی نے عدلیہ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سچ کہنے دیجئے کہ پی پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں تو شروع دن سے ہی خود کو ریمنڈ کیس کی سیاہی سے اپنے چہرے بچاتی رہی ہیں۔
دوستو! میں زرداری اور شہباز شریف حکومتوں کو ریمنڈ ڈیوس کی خفیہ رہائی کے ڈرامے سے مبرا قرار نہیں دے رہا البتہ اتنا کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ سیاسی حکومتوں سے زیادہ ذمہ داری پاکستان کی سرحدوں اور قانون کے محافظوں پر عائد ہوتی ہے اور یہ امر پاکستانی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں اس وقت سینکڑوں ریمنڈ ڈیوس دندنا رہے ہیں اور یہ سب کچھ قوم اور قانون کے محافظوں کے نوٹس میں ہے
فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہبان..... بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
حرف آخر کے طور پر میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور جناب شہباز شریف کی توجہ اپنے دماغ میں جنم لینے والے ایک خطرے کی طرف مبذول کرا رہا ہوں کہ خدارا اپنی تمام تر توجہ اپنے عزیزوں کا خون بیچنے والے ان 19 پاکستانیوں کی طرف مبذول کریں کہ وہ خیریت سے تو ہیں۔ خدا نہ کرے کہ کل کلاں کو ان کے بارے میں کوئی منحوس خبر سننے کو مل جائے۔ پاکستان زندہ باد۔