حب الوطنی کے سامنے سوالیہ نشان

مصباح کوکب .... سالق ایم پی اے
اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے پریشان کن صورتحال میں گِھرا ہوا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، لاقانونیت، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ، پی سی ایس آفیسرز و ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں اور اس طرح کے کئی دوسرے مسائل نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ خارجی محاذ سے بھی کوئی مثبت اور امید افزا پیغامات نہیں مل رہے۔ غیر ملکی مداخلت بھی ہر طرح سے بڑھ چکی ہے۔ کہ قرضے بھی سخت شرائط پر مل رہے ہیں۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے پالیسی مذاکرات میں جن چار نکات پر اتفاق رائے ہوا اس میں سے ایک یہ کہ انہیں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اپریل سے جون تک تین مہینوں کے درمیان دو فیصد ماہانہ اضافہ کی شرح سے بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر چھ فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ قرضوں نے ہمیں خودکفیل اور خوشحال بنانے کی بجائے اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا ہم پر حیران ہے کہ ایسی قوم جس کے پاس انتہائی زرخیز زمین ہے، چاروں موسم ہیں، جفاکش محنتی افرادی قوت ہے، بے شمار معدنی خزانے موجود ہیں وہ آخر محتاجی اور بے بسی کی زندگی کیوں گزار رہی ہے؟ انہیں نہیں معلوم کہ ہمارے پاس قائد تو بہت ہیں مگر قائداعظم جیسی بصیرت والا سیاستدان کوئی نہیں۔ اقبال تو بہت ہیں مگر علامہ اقبال جیسی بصارت والا انسان کوئی نہیں۔ شریف اور زرداری تو بہت ہیں مگر ہوگیو شاویز جیسا سیاستدان کوئی نہیں جو قوم کو مشکلات سے باہر نکال سکے۔ عوام تو موجودہ سیاستدانوں کی حب الوطنی پر بھی شک نہیں کرتی مگر کیا کِیا جائے کہ سیاستدانوں کی اکثریت نے تو خود ہی اپنے عمل سے اپنی حب الوطنی کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے؟ صدر زرداری دنیا بھر کے ممالک میں واحد صدر ہیں جو مستقل بیرونی دوروں پر رہتے ہیں اور ہر بار کہا جاتا ہے کہ صدر کا دورہ بہت کامیاب رہا ہے اس سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اب تک تو صدر کے دوروں سے اور خادم اعلیٰ پنجاب سے جو فائدہ پہنچے ہیں وہ تو کچھ یوں ہیں کہ ملک میں CNG سٹیشنز پر دو روز تک گاڑیوں کے لئے گیس بند رہتی ہے۔ ریلوے، واپڈا، پی آئی اے، سٹیل ملز، پی ایس او، دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ عوام روٹی اور علاج مہنگا اور نہ ملنے کی بنا پر سستی موت کو گلے لگا رہے ہیں جس سے زندگی مہنگی اور موت سستی دکھائی دے رہی ہے۔ وطن عزیز میں عزت نفس اور قومی وقار کا تصور ہی نہیں۔ جعلسازی، دھوکہ دہی اور ڈرامے ہماری منافقانہ سیاست کے بدنما اور قابل نفرت روپ ہیں جبکہ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے کرتوتوں پر داغ ندامت ہے نہ حرفِ ملامت ہے بلکہ باری کے چکر میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے باہم دست و گریباں ہیں جو کہ اچھا شگون نہیں ہے۔ اگر موجودہ سیاسی جماعتیں آپس میں لڑ کر خلا پیدا کریں گی اور ڈھٹائی کے ساتھ خود ہی فوج کو بلائیں گی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا مذاق اڑائیں گی تو پھر خلا کو پُر کرنے کے لئے نظر نہ آنے والی طاقتوں کو آگے آنا پڑے گا اور عدالت عظمیٰ کو بھی اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے مجموعہ ضابطہ دیوانی کے آرٹیکل 190 کا استعمال کرنا پڑے گا لیکن تمام سیاستدان ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ملک کو بنے 63 سال ہو چکے ہیں عوام کے ساتھ کئے جانے والے ڈرامے ختم، اب بے رحم احتساب کا جھرلو پھرنے والا ہے۔ پاکستان کے 64ویں سال کا اختتام احتساب کے ساتھ ہو گا۔ بڑے سیاستدانوں کی اکثریت احتساب کے دائرے میں آنے والی ہے اور ان سیاستدانوں کی حماقتوں، غفلتوں اور ناکامیوں سے ایک ایسا سیٹ اپ آئے گا جو ہمیشہ کی طرح فوجی مارشل لا تو نہ ہو گا بلکہ عدالتی مارشل لا قسم کا ہو گا۔ اگر کسی نے آئندہ عدالتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جرأت کی تو میڈیا، وکلا، مڈل کلاس کے نمائندے، سول سوسائٹی، اساتذہ کرام اور سول اور ملٹری کے ریٹائرڈ افسران آگے بڑھیں گے، ملک کو بچانے کی خاطر احتساب کی مہم چلائیں گے۔ بہت ہو گیا، جس ملک میں روٹی مہنگی ہو جائے زندگی مہنگی ہو جائے، علاج مہنگا ہو جائے اور موت سستی ہو جائے وہاں اس ناپاک مافیا سے جان چھڑانا ضروری ہو جاتا ہے۔