بے رنگ، بے بُو، بے ذائقہ خطاب ’’ہومیو پیتھک‘‘ احتجاج

اسرار بخاری ۔۔۔
غالب کو تو قرض کی شراب پی کر یہ احساس ہو گیا تھا کہ یہ فاقہ مستی ایک دِن رنگ لائے گی کیونکہ وہ خود کو دھوکا نہیں دینا چاہتا تھا خود کو دھوکا تو شاید صدر آصف زرداری بھی نہیں دینا چاہتے لیکن ان کی بات سے اگر قوم دھوکا کھا جائے تو یہ الگ بات ہے مشترکہ پارلیمنٹ میں اپنی بے رنگ، بے بُو اور بے ذائقہ تقریر میں جو پچھلی تین ایسی تقریروں کا چربہ تھی۔ فخریہ انداز میں سترہ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کا ذکر کیا مگر قوم کے سر پر قرضے کا بوجھ کتنا ڈالا گیا ہے روزانہ اڑھائی ارب کے کاغذ کے نوٹ چھاپ کر ملکی کرنسی کی قدر میں زوال کی راہ کھول دی گئی ہے۔ صدر نے اپنی پارٹی کی حکومت کو سب اچھا کا سرٹیفکیٹ تو دے دیا مگر اس حقیقت کو مدنظر نہیں رکھا کہ حکومت اس سرٹیفکیٹ کی عوام سے توثیق نہیں کرا سکے گی۔ صدر نے فاٹا میں اصلاحات کا ذکر تو کیا جو ابھی ہونی ہیں مگر فاٹا میں امریکی میزائل سے ہر روز ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے سانحہ عظیم پر ایک لفظ تک اس تقریر میں شامل نہیں تھا۔ جو یقینا مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے امریکی سفیر کیمرون منٹر کی جانب سے شاباش ملنے کا باعث بنے گا اور صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا یہ یقین اور پختہ ہو جائے گا کہ اس سے صدر کے دورۂ امریکہ کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی حالانکہ دتہ خیل کے حملے پر تو وہ ہونٹ بھی وا ہو گئے۔ جن پر ایک مدت سے خاموشی کی مُہر لگی ہوئی تھی۔ اگرچہ صدر آصف زرداری کو سابق صدر غلام اسحاق خان، سردار فاروق لغاری اور جناب رفیق تارڑ جیسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن پچھلے تین پارلیمانی خطابات سے صورتحال بہرحال مختلف رہی عوام کی اکثریت نے اسے ’’ہومیو پیتھک‘‘ احتجاج ہی سمجھا ہے مگر یہاں تک تو پُہنچے یہاں تک تو آئے‘‘ کو بھی غنیمت سمجھا گیا ہے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ اپوزیشن نے شور شرابا کی بجائے بائیکاٹ کر کے صدر کو پرسکون مگر صرف پیپلزپارٹی اور اتحادی ارکان سے خطاب کا جو موقع فراہم کیا یہ اس روز الصُبح وزیر داخلہ رحمان ملک کی مولانا فضل الرحمن سے چالیس منٹ طویل ملاقات کا ’’کرشمہ‘‘ تھا جناب نواز شریف سے صدر زرداری کے براہ راست ٹیلیفونک رابطہ بھی کہا جاتا ہے بالکل غیرمئوثر نہیں رہا اپوزیشن کے طرز احتجاج سے عوام اگر مطمئن نہ ہوئے تو اس میں صدر، ان کی حکومت اور ان کی پارٹی کیلئے بھی اطمینان کا کوئی پہلو تلاش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وزیراعظم، پارٹی کے تمام وزراء اور لیڈر سر توڑ کوششوں کے باوجود صدر کو پارلیمانی خطاب کیلئے ماضی جیسا ماحول فراہم نہیں کر سکے اور پارلیمنٹ کا اجلاس محض پیپلزپارٹی اور اتحادی ارکان کا اجلاس بن کر رہ گیا جسے ایوان صدر کی بجائے قومی اسمبلی کے ایوان میں منعقد کیاگیا اور ان کے ساتھی اگر پچھلے تین سال میں چالاکیوں کی بجائے اخلاصِ نیت سے عوامی و ملکی مفاد کیلئے کوئی کام کرتے تو صدر کا خطاب عوام کیلئے مزید خوشی کا پیغام بن سکتا تھا لیکن جناب صدر نے اس خطاب میں نہ امید کی کوئی روشنی دکھائی نہ مستقبل کے حوالے سے کوئی ڈھارس بندھائی۔ جہاں تک اس مشترکہ بائیکاٹ کے بطن سے کسی مشترکہ اپوزیشن کے جنم کا تعلق ہے تو اس پر کوئی حتمی رائے اس لئے قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ بائیکاٹ حکومت کی ناقص کارکردگی پر احتجاج سے زیادہ اظہار ناپسندیدگی تو ضرور تھا مگر اس کی بنیاد آئندہ کا کوئی مشترکہ پروگرام نہیں تھا اپوزیشن کے باہمی تحفظات اور تضادات کی راہ میں حائل نہیں۔ البتہ حکومت کے موجودہ اور پچھلے تین سال کے چلن میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا اس لئے مگر یہ چیز مشترکہ اپوزیشن کی بنیاد بن جائے تو اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔