اہلیان اسلام آباد کیا سوچتے ہیں؟

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

راقم دو تین روز سے اسلام آباد میں مقیم ہے۔ گذشتہ روز راقم کو روزنامہ اساس راولپنڈی کے چیف ایڈیٹر شیخ افتخار عادل کے صاحبزادے شیخ دانش افتحار کی شادی میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ لاہور میں تو شادیوں کی تقریبات دس بجے بند کر دی جاتی ہیں لیکن اسلام آباد میں رات 2بجے تک شادیوں کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور اوقات کی پابندی نہیں ہے۔ شیخ دانش افتخار کی شادی میں متعدد ایڈیٹروں اور صحافیوں سے ملاقات ہوئی۔ ان سب کا کہنا تھا کہ حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو تقریباً تین سال ہو چکے ہیں مگر اس عرصہ میں صدر آصف علی زرداری عوام میں اپنا اعتماد بحال نہیں کرسکے ہیں۔
موجودہ حالات میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کیلئے مشکلات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صدر آصف علی زرداری آئینی مدت پوری نہیں کر سکیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ اول روز سے ہی المیہ رہا ہے کہ جب بھی ان کی حکومت بنی ہے وہ اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عوام کو مڈٹرم الیکشن کی تیاریاں شروع کر دینی چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ سے بھی راقم کی ملاقات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنی پانچ سالہ مدت صدارت پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی لغاری، فضل الٰہی یا غلام اسحاق خان نہیں ہیں۔ وہ وفاق کی علامت ہیں اور انہیں کسی کے کہنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں فوجی بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی ہے تو وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
ان کے اس بیان پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کرے کہ ملک میں جمہوریت قائم رہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور ملک پر آمریت مسلط نہ ہو لیکن حالات تیزی سے جو رُخ اختیار کر رہے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کوئی نہ کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے اور تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں۔ یہ تبدیلی اہم منصب پر موجود چہروں کی بھی ہو سکتی ہے اور مڈٹرم الیکشن کی بھی، لیکن اس ساری صورت حال سے عوام مضطراب اور بے چین ہیں ملک کے اہل دل اور اہل درد طبقات پریشان ہیں اور ان پر یہ حقیقت بڑی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ ان کے دکھوں کا مداوا چھوٹی چھوٹی رنجشوں پر اوراپنے مفادات کے حصول کیلئے صبح شام سیاسی قلابازیاں لگانے والے سیاستدانوں کے پاس نہیں ہے جن کو انہوں نے اپنا نجات دہندہ سمجھ لیا تھا یہ وہ لوگ نہیں ہیں۔ اپنی محرومیوں اور پریشانیوں کے ازالہ کیلئے ملک کے سولہ کروڑ غریب ووٹروں کو اپنی صفوں میں نئی قیادت پیدا کرنی ہوگی جو ان کے کرب اور دکھ کا احساس کر کے اس کا صحیح اور بروقت علاج کرسکے۔
اسلام آباد کے دورے کے دوران راقم کی پاکستان پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل محمد سلیم بیگ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پندرہ سو ساٹھ اخبارات و جرائد میڈیا لسٹ پر ہیں۔ ان تمام اخبارات اور جرائد کو ہم اشتہارات جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس ان سب اخبارات و جرائد کیلئے اشتہارات نہیں ہیں۔ بہرحال جن اخبارات اور جرائد کی سرکولیشن بہت زیادہ ہے ان کو وفاقی حکومت ہر صورت اشتہارات دے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو ایسی خبریں دینے سے گریز کرنا چاہئے جس سے ملک و قوم میں مایوسی پھیلتی ہو۔