اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے

نذیر احمد غازی (سابق جج ہائیکورٹ)ghaziadvocate1@gmail.com
قوم اپنا مرثیہ‘ اپنی غیرت کا مرثیہ اور اپنے شعور کا مرثیہ مسلسل پڑھ رہی ہے‘ ڈیڑھ ماہ سے عذاب امتحانِ غیرت بن کر ہمارا گھیرا کئے ہوئے ہے۔ ایک انسانیت دشمن امریکی اہلکار نے قیدی ہو کر پوری ملت پاکستانیہ کو ایسے ناکوں چنے چبوائے کہ رہے خدا کا نام۔ اس دشمن دین کی اعلیٰ ایوانوں میں پذیرائی نے غیرت کا وہ جنازہ اٹھوایا کہ بے بسی کی تاریخ نے اب ایک نیا غلاف چڑھایا ہے۔ اسلام کے قانون کا فائدہ اسلام کے دشمن امریکہ نے اٹھایا اور اس ہزیمت و شکست کا جنازہ ہم نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے ناز اٹھانے والوں نے تو مسجدوں سے اذان کی آوازوں کا رخ بدلوایا تھا۔
یہ ناز بردار دین و ملت کے سب سے بڑے جنازہ بردار بھی بنتے ہیں۔ کون کون متحرک ہو کر شریک دغا تھا اور کون کونسے گونگے شیطان ملت پاکستانیہ کی اس رسوائی پر زیر لب مسکراتے تھے‘ یہ سب شریک قتل ہیں۔ جلد ہی انہیں اجل آکر اچک لے گی اور بہت زیادہ معتبر حکمرانوں کو اپنی پہچان کی مہلت نہ ملے گی۔
قانون کو لاقانونیت کے چوراہے میں لا کر امریکی بدمستی کو بھینٹ دینے والے پاکستانی روٹی پر پلنے والے مچھندر خدا کے قہر کا شکار ہونگے۔ پھر اگلے روز محکوموں کے گھروں پر آگ کی بمباری نے سفید ریش بزرگ‘ معصوم شیرخوار بچوں اور عفت مآب مستورات کو لقمۂ اجل بنالیا۔
پھر معلوم نہیں کیا ہوا‘ قوت والے حکمران‘ عصا بردار حکومتی اہلکار گھبرا کر چلائے اور چلا کر آنکھیں دکھانے کی کوشش کی لیکن اب تو نقار خانہ امریکہ کا ہے اور ہماری مصنوعی گھن گھرج بھی تو طوطی کے آواز سے زیادہ کمزور ہے۔
ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے‘ لیکن اب ہمارے ہاں نہیں ہوتا‘ وہ تو آسمان مغرب پر طلوع ہونیوالے ستارے ہوتے ہیں‘ جو اپنی ملت کی روشنی کا امین ہوتے ہیں۔ ریمنڈ گویا ایک انسان نما شیطان تھا‘ اہل مغرب تو اپنے کتے نما شیطان کو بھی مشرق کے انسانوں کے مقابلے میں بہت ہی اہمیت و عزت دیتے ہیں۔
انکے نزدیک بس وہی خود سب کچھ ہیں‘ مغرب کے علاوہ ساری کائنات کے انسان گھٹیا ترین غلام ہیں۔ مگر ان غلاموں کا کیا کیجئے جو وقت کی ہر گھڑی میں غلامی کو توانا کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ انکی جرأت ابلیسانہ حقائق کا منہ چڑاتے ہوئے جب چاہیں‘ جہاں چاہیں‘ جیسے چاہیں اور جس سے چاہیں درندوں کا سا سلوک کریں۔ چاہے وہ اقوام متحدہ کا اذن لیکر کریں یا ازخود اندھے کی لاٹھی کی طرح انجانے لوگوں پر برسیں۔
ہماری ملت کے مادی اسباب پر قبضہ کرنے کیلئے امریکہ اپنے چنگیزی حلیفوں کے ساتھ مل کر جس نئے کھیل پر اتر آیا ہے‘ وہ تو بہت ہی زیادہ قابل نفرت ہے۔ برسر لمحہ قابل مذمت ہے‘ پورے عالم اسلام میں اندرونی بغاوت کی سازش اور پھر اسکے نتیجے میں ہونیوالی بدامنی سے اپنے قبضے کا راستہ نکالنا اور تیل کے ذخائر پر اپنا ناجائز تصرف اور پھر اس عالمی تصرف کا وہ خواب جس کی تعمیر ساری دنیا کو غلام بنانا ہے۔
امریکہ ساری دنیا کے موضوعاتِ حیات کو اس طرح سے الجھا دینا چاہتا ہے کہ عقل بھی فالج زدہ ہو جائے اور دلوں سے جذبات کے شرارے اٹھنا بند ہو جائیں۔ عراق سے شروع ہونیوالا کھیل اب دنیائے اسلام کے کس کس ملک میں کھیلا جائیگا؟ اس کا اندازہ ہر ذی شعور مسلمان کو بخوبی ہو چکا ہے۔ لیبیا سے لیکر یمن تک پھر پاکستان تک اور جلد ہی ہماری نیم مفتوحہ عرب امارات اس شریر کھیل کی مکمل زد میں نظر آتی ہیں۔ ہم کیا کریں؟
ہماری معیشت کے کشکول میں غیروں کے ٹکڑے ہیں‘ ہماری معاشرتی کی ترکیب میں دشمنوں کی نقل ہے‘ ہماری فکری تدبیر میں انہی شیطانی قوتوں کا سایہ ہے اور اب ہمارے مذہبی جذبات کو بتدریج سرد کرنے کا سلسلہ اپنے بلند مراحل کو چھو رہا ہے۔
گزشتہ پانچ سال سے قرآن اور صاحب قرآن جانِ ایمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور شدید توہین کا تجرباتی سلسلہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ قرآن پاک کی تحریف‘ قرآن پاک کی توہین کا سلسلہ مغرب ہی سے اٹھتا ہے۔
ٹیری جونز بدبخت ننگ انسانیت نے قرآن پاک کی شدید توہین کی اور ساری دنیا کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کردیا۔ یہ ہمارے مذہبی و ایمانی جذبات کو نذر آتش کرنا ہے جس فرد و قوم کو زندہ نذر آتش کر دیا جائے‘ اسے اب مزید سوچنے اور انتظار کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
قارئین! امریکہ کی مذمت کریں‘ پادریوں کی مذمت کریں‘ یا یورپ کی مذمت کریں‘ مذمت ایک زبانی لفظ ہے‘ اس لفظ کی قوت صفر کے برابر ہے۔ احتجاج ایک روایت کا نام رہ گیا ہے‘ اب ہم کیا کریں؟ ہمارے دشمنوں کو پوری طرح سے معلوم ہے کہ ہم مذمت اور احتجاج کیا کرتے ہیں جو ان کیلئے ایک ربڑ کی گولی کی طرح بھی نہیں ہے۔ انکے نزدیک مذمت اور احتجاج ایک ٹوٹی ہوئی چھڑی کا نام ہے‘ جو برسنا تو درکنار‘ معمولی سا سہارا بھی نہیں دے سکتی۔
پھر انہوں نے ہمارا معاشیاتی دائرہ اتنا تنگ کر دیا ہے کہ اتنا روٹی پانی بھی میسر نہ آئے کہ ہماری احتجاجی آوازیں بھی بلند ہو سکیں اور ہمارے قومی اخلاق و غیرت کو اتنا ٹھنڈا کر دیا ہے کہ دین کا مسئلہ ہماری ترجیحات میں بہت دور نظر آنے لگا ہے۔ ہمارا قومی کردار سست نظر آتا ہے۔ ہماری سیاسی و مذہبی قوتوں کو انجانے ہاتھوں نے چھوٹی تفریق کے اصول پر رکھا ہوا ہے۔
لیکن ایک اصول فطرت کا بھی ہے‘ ایک پیمانہ غیرت کا بھی ہے اور ایک معیار ایمان کا بھی ہے اور ایک قوت غیب کی بھی ہے اور ایک رفتار قدرت کی بھی ہے‘ جب یہ رفتار و قوت طبیعت کائنات کے اصول پر اکٹھے ہوتے ہیں تو شیطانی قوتوں کا کردار گھٹنے لگتا ہے۔ تدبیر اور تقدیر ایک دوسرے کے معاونت کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں لیکن کب؟
تو مسلمان ہو تو تدبیر ہے تقدیر تیری..... ماسویٰ اللہ کیلئے آگ ہے تکبیر تیری
مذہبی قوتوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے تمام قسم کے اختلافات کو ذرا دیر کیلئے پس پشت ڈال دیں اور قرآن سوزی کے اس شیطانی فعل کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے اکٹھے ہو جائیں‘ ورنہ پادریوں کی دیدہ درہنی بڑھے گی اور وہ یہ فعل اپنے ابلیسی آقائوں کے اشارے پر اسلامی ممالک میں دہرائیں گے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کا یہ سلسلہ بڑے پیمانے پر اشتعال کو جنم دیگا۔
خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ قرآن اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر سنجیدگی اور متانت سے نہ سوچنے پر فطرت تمہیں مستقل توہین کے سپرد کر دیگی اور انقلاب کے الٹے پہیے کے نیچے کچلے جائو گے اور خدا اپنے دین کی حفاظت کیلئے جھنڈا کسی اور کے ہاتھ میں تھما دیگا۔…ع
اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے