اخوت کا ترجمان بن جا

صحافی  |  عطاء الرحمن

ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کے کام سے اخبارات کے قارئین ناواقف نہیں۔ ان کی فلاحی تنظیم اخوت کی سرگرمیوں کا چرچا پڑھنے کو ملتا رہتا ہے۔ اخوت لاہور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع میں تندہی سے کام کرنے والی ایک ’’این جی او‘‘ ہے۔ میرے نزدیک اس کے دوسرے کمالات کے علاوہ ایک منفرد بات یہ ہے کسی بیرونی حکومت یا مغربی ملک کے اداروں کی فراہم کردہ رقوم کی مدد سے کام نہیں کرتی۔ اس لئے ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بھی سرگرم نہیں رہتی۔ بھاری تنخواہیں بڑی اور لینڈ کروزر کاریں، ہوائی جہازوں کی فرسٹ کلاس میں سفر، غیر ملکی دورے یہ وہ نوازشات ہیں جو امریکہ و یورپ کے اداروں سے بھارتی رقوم حاصل کرکے کام چلانے والی ’’این جی اوز‘‘ کے پاکستانی عہدیداروں کو حاصل ہوتی ہیں۔ وہ انہی کی تہذیبی و معاشرتی اقدار (جن کے پیچھے بیرونی طاقتوں کے سیاسی مفادات چھپے ہوتے ہیں) کو فروغ دینے میں سرگرداں رہتے ہیں یا موقع ملتے ہی بیرونی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔ یوں زیادہ مدد اور رعایات کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کے ساتھیوں نے زیادہ تر داخلی وسائل، ملک کے اہل خیر کے تعاون اور اللہ اور رسول کی تعلیمات سے شعور و جذبہ حاصل کرکے اخوت کے نام پر مستحق اور غریب مردوں اور خواتین کو غیر سودی بنیادوں پر چھوٹے قرضے فراہم کرنے، انہیں اپنا کاروبار چلانے اور زندگی میں خود کفیل بن جانے کا وہ جال بچھایا ہے کہ لوگ حیران ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عالمی شہرت یافتہ گرامین بنک کا تجربہ اس کے سامنے ماند پڑتا جا رہا ہے اور مائیکرو فنانس کے کچھ عالمی ماہرین کی آنکھیں بھی خیرہ ہوا جاتی ہیں کہ اسلام کے سرمایہ کو سود سے پاک رکھنے کے نظام کو روبہ عمل لا کر ایسے نتائج بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔
اخوت نے دس سال قبل کام کا آغاز کیا تھا۔ پہلے قدم کے طور پر مستحق افراد کو خالصتاً غیر سودی بنیادوں پر دس ہزار روپے کا قرضہ حسنہ دیا گیا۔ ان کی ہمت افزائی کی گئی کہ ان پیسوں سے چھابڑی لگائیں۔ ریڑھی پر پھل یا سبزی سجا کر اسے فروخت کریں۔ سائیکل مرمت کی دکان چلا لیں۔ اگر بیوہ اور غریب خاتون ہے تو گھر میں سلائی مشین رکھ کر کپڑے سینے شروع کر دے۔ یہ چھوٹے پیمانے پر بغیر کسی تشہیر کے آغاز تھا۔ جس نے جلد نتائج دکھانا شروع کر دئیے۔ سال کے بعد معلوم ہوا جن افراد کو قرض دیا گیا ہے ان کی جانب سے واپسی کا تناسب بہت حوصلہ افزا ہے۔ اگر کسی کا کاروبار زیادہ چمکا اور اسے ضرورت پڑی تو مزید قرض دے دیا گیا۔ کام پھیلتا گیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اعوان و انصار ملتے گئے۔ پروفیسر ہمایوں احسان، ڈاکٹر اظہارالحق اور ڈاکٹر کامران جیسے جواں عمر اور جوش و جذبے والے صاحبان درد نے جو اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب لوگ ہیں ہاتھ بٹانے کی ٹھان لی۔ ہمارے دوست اخلاق الرحمن نے جو پہلے ہی ہیلپ لائن کے نام پر تعلیم اور صحت کے میدان میں لاہور اور پاکپتن کے ضرورت مند لوگوں کی خدمت گزاری میں مصروف تھے ڈاکٹر امجد ثاقب کی مثال کی تقلید کرتے ہوئے اپنی تنظیم کے تحت اسی طرح کا ایک شعبہ کا قائم کر دیا۔ پنجاب کے دوسرے اضلاع میں نہ صرف اخوت کی برانچیں وجود میں آ گئی ہیں بلکہ کئی لوگوں نے اس تنظیم کی پیروی کرتے ہوئے اپنے طور پر نیکی اور تعاون کے اس کام کو آگے بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے۔
اگلے روز ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کے رفقاء نے اپنی دس سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے لاہور کے اصحاب ثروت صاحبان دانش اور تعاون کرنے والے اہل خیر کا ایک اجتماع منعقد کر رکھا تھا۔ بتایا گیا کہ جو کام دس ہزار روپے کے ایک قرضے سے شروع ہوا تھا اب ایک ارب روپے تک پھیل گیا ہے۔ واپسی کا تناسب حیران کن حد تک 99.88 فیصد ہے۔ یہی نہیں ایک ارب میں سے ایک کروڑ روپیہ ان خواتین و حضرات کی جانب سے چندے کے طور پر دیا گیا ہے جنہوں نے نہایت کسمپرسی کے عالم میں چند برس پہلے دس، پندرہ یا بیس ہزار روپے کا قرضہ لے کر معمولی درجے کا کاروبار کا آغاز کیا۔ پھر ان کی محنت اور سود سے پاک سرمائے کی برکت رنگ لائی اور آگے بڑھ کر چندہ دینے کے قابل بن گئے۔ لینے والے دینے والوں میں تبدیل ہو گئے۔ یوں سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مواخات مدینہ کے ماڈل کا اتباع آج کے پاکستانی معاشرے میں روشنی اور خیر و برکت کی کرنیں پھیلا رہا ہے۔ یہ غربت دور کرنے اور بے وسیلہ لوگوں کو اپنے پائوں پر خود کھڑا ہونے کے قابل بنانے کا تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں جوہر قابل کی کمی نہیں۔ صرف اسے صحیح راہ دکھانے اور اس پر گامزن کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایسی ہی ایک مثال قائم کی ہے۔