;;;موجودہ پاک فوج بھارت کیلئے نیوکلیئر بم ثابت ہوگی

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
;;;موجودہ پاک فوج بھارت کیلئے نیوکلیئر بم ثابت ہوگی

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کیلئے جو پالیسی بیان دیا ہے اُس میں پاکستان کو خطرناک نتائج سے ڈرایا گیا ہے لیکن امریکہ کیلئے یہ بات تعجب کی ہوگی کہ اس ڈرائونے پالیسی بیان سے پاکستان کی عوام، سیاستدان اور پاک فوج ذرہ برابر بھی نہیں ڈرے اسکی وجہ بہت سادی ہے۔ وہ یہ کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ڈرائونی تقریر میں کوئی نئی دھمکی نہیں دی بلکہ انہوں نے اپنے پیش رو صدور کی جانب سے مختلف اوقات میں دی جانے والی برس ہا برس کی مختلف دھمکیوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے فریج میں رکھے پرانے بچے کُچھے کھانوں کو ایک ہنڈیا میں مکس کرکے دسترخوان پر رکھ دیا جائے۔ البتہ ٹرمپ کی اس تقریر میں دو پہلو نئے تھے۔ پہلا یہ کہ سابقہ روایات کے برعکس انہوں نے وائٹ ہائوس کی بجائے یہ بیان امریکی فوجی اڈے سے جاری کیا۔ دوسرا یہ کہ بیان دیتے ہوئے اُن کا لب و لہجہ امریکی صدر کے رُتبے کیمطابق ہونے کے بجائے پنجابی فلموں کے ولن جیسا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس پالیسی بیان پر درج ذیل تجزیہ کرتے ہیں۔ .1صدر ٹرمپ نے افغانستان اور دہشت گردی کے ایشو پر پاکستان کو دھمکایا ہے لیکن غور کریں تو امریکی دفاعی پالیسی سازوں کیلئے پاکستان ایک بہانہ ہے جبکہ اُن کا اصل نشانہ چین ہے۔ .2امریکی تاجر یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ دنیا میں اُن کا کوئی مدمقابل ہو۔ چین کی ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ والی تجارتی فلاسفی امریکی تاجروں کیلئے ایک ڈرائونا خواب ہے۔ اس منصوبے کی شہ رگ سی پیک ہے جو پاکستان سے گزرتی ہے۔ .3سی پیک پر عملی کام کا آغاز نوازشریف کی حکومت کے دوران ہوا۔ اگر سی پیک امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے تو یہ بات بھی منطقی ہے کہ اس منصوبے کو شروع کرنیوالے نوازشریف بھی امریکہ کیلئے ناپسندیدہ ہوگئے ہوں گے۔ .4امریکہ بھارت کو طاقت کے انجکشن لگا رہا ہے اور اس کیساتھ پہاڑوں جیسے وزنی فوجی معاہدے کررہا ہے۔ بھارت کو امریکہ کی اس مصنوعی طاقت دینے کی دراندازی کے نتائج کو بُھگتنا ہوگا کیونکہ طاقت کی اِن غیرفطری دوائیوں سے شوگر، بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، گُردوں کا فیل ہونا اور جگر کے کینسر جیسے بیشمار جان لیوا مرض اُسے لاحق ہوجائیں گے۔ .5امریکی صدر نے افغانستان میں موجودہ امریکی فوجیوں کی تعداد 9 ہزار کے قریب بتائی ہے جوکہ خود ایک جھوٹ ہے کیونکہ اِس وقت افغانستان میں تقریباً 12ہزار سے زائد امریکی فوجی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جو 4 ہزار مزید امریکی افغانستان بھیجنے کا کہا ہے کیا وہ یہی 4 ہزار فوجی ہیں جو پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں؟ .6صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی تاریخ کے کم ترین پاپولر لیڈر ہیں جبکہ گزشتہ 212 دنوں کے اپنے صدارتی قیام کے دوران اُن کی شہرت اُن کی حرکتوں کی وجہ سے نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی سطح پر مزید گری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی صدر کی حالیہ بڑھکوں پر انٹرنیشنل سطح پر کیا ردعمل آتا ہے؟ .7ٹرمپ کیمطابق پاکستان میں 20 ایسی تنظیمیں موجود ہیں جنہیں امریکہ دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اسکی جگہ امریکہ یہ تسلیم کیوں نہیں کرتا کہ اِن تنظیموں سے دراصل بھارت کو شکوہ ہے؟ وہی بھارت جو آزادی مانگتے نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہا ہے۔ بھارت کے درد کو امریکہ نے اپنا درد محسوس کیا اور ان تنظیموں پر پابندی لگا دی۔ یہ عجیب غیرفطری بات ہے کہ بچے کو ایک عورت جنم دے اور زچگی کا درد اُسکی دوست محسوس کرے۔ .8دہشت گردی کیلئے اربوں ڈالر دینے کی ٹرمپ کی بات پر اُن سے پاکستانی عوام یہ پوچھتے ہیں کہ اگر امریکہ کو اربوں ڈالر دیئے جائیں تو کیا وہ اسکے عوض اپنے 60 ہزار سے زائد شہریوں، سیاستدانوں اور اعلیٰ ترین سول و فوجی افسران کی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہوگا؟ اگر پاکستان کے ہاتھوں دہشت گرد کمزور نہ ہوتے تو آج مغربی دنیا اور جنوبی ایشیاء بہت زیادہ کمزور ہوچکا ہوتا۔ .9صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایٹمی ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھ نہیں لگنے دیگا۔ دراصل یہ بات بھارت کی خواہش بذریعہ امریکہ ہے تاکہ پاکستان اُسکے مقابلے میں ایٹمی طاقت نہ رہے۔ .10امریکی صدر نے اپنی تقریر میں امریکی عوام کے سامنے بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کہ امریکہ نے نسل در نسل مسائل کا سامنا کیا اور ہمیشہ فاتح رہا۔ امریکی عوام آج بھی امریکہ کی ویتنام اور کمبوڈیا میں شکست پر سوال اٹھاتے ہیں۔ آج بھی امریکہ کا چھوٹا سا ہمسایہ کیوبا امریکہ کیلئے سردرد ہے۔ آج بھی امریکہ شمالی کوریا کو ڈرا نہیں سکا۔ آج بھی امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ .11امریکی صدر نے بھارت کی تعریف کرتے ہوئے اُس سے افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مدد مانگی۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہوا کہ خربوزوں کی نگرانی کیلئے گیدڑوں، بکریوں کی حفاظت کیلئے بھیڑیوں یا کماد کے کھیت کی حفاظت کیلئے سوروں کو مقرر کردیا جائے۔ .12صدرِ امریکہ کے پالیسی بیان کا پاکستانیوں پر کچھ خاص اثر نہیں ہوا۔ شاید وہ دور اندیش نہیں ہیں، ڈھیٹ ہوگئے ہیں یا امریکہ کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں مگر امریکی پالیسی سازوں کو درج ذیل پوائنٹس کا اثر لینا ہوگا۔ امریکی صدر کی تقریر کے چند گھنٹے بعد ہی چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان پر اِن امریکی الزامات کو مسترد کردیا۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دے کر بڑی غلطی کی ہے کیونکہ افغانستان میں امن کیلئے اب چین اور روس کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ پاکستانی قوم میں ویتنام اور کمبوڈیا والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اگر امریکہ کے صدر چاہتے ہیں کہ پاکستان امریکی افواج کا قبرستان بن جائے تو ہم اُسے ویلکم کہتے ہیں۔ .13اس سے قبل افغان طالبان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو افغانستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کا قبرستان بنا دیں گے۔ .14پاک فوج کی بات کریں تو وہ ایسے کسی بھی پالیسی بیان کے پس منظر اور پیش منظر کو اچھی طرح ڈی کوڈ کرسکتی ہے اور ہر گھڑی تیار کامران ہے۔ .15امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز کلپر صدر ٹرمپ کو ذہنی مریض کہتے ہیں اور صدر کے عہدے کیلئے موزوں نہیں سمجھتے۔ پاکستانی بھی ٹرمپ سے کسی بھی قسم کے غلط ایڈونچر کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ، پاکستان اور افغانستان تینوں کی باہمی دشمنی کروا کے بھارت جو فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اُس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی کیونکہ کُھلی جنگ میں موجودہ پاک فوج بھارت کیلئے نیوکلیئر بم کی طرح تباہ کن ثابت ہوگی۔