" دنیا کو روشن کرتا اندھیرا چہرہ"

کالم نگار  |  مسرت قیوم

غیر مسلموں کا’’بغض ِ مسلم ‘‘تو آپ اپنا آئینہ ہے ۔ جو کبھی بھی پردے میں نہیں رہا ،چمکتے سورج کی طرح مگر مسلمانوں کا باہم تعصب ، دشمنی ، کینہ بھی چُھپائے نہیں چُھپتا ۔ عجب قوم ہے معاملات درست رکھنے کی بجائے معمولی باتوں میں زندگی گزار دینے والی ۔ ’’10منٹ‘‘کے فرائض کو بالائے طاق رکھے ہوئے کہ وقت نہیں مگر4-3 گھنٹے صوفے پر آلتی پالتی مارے "موبائل ۔ ٹی وی پر صرف کر دینے میں ہماری ہمسری کوئی نہیں کر سکتا ۔ 

"ملائیشیا کے نائب وزیر" ڈاکٹر اشرف واجدی کے الفاظ ہیں ۔ " مسلمان حلال کمائی نہیں حلال غذا کی زیادہ پرواہ کرتے ہیں" ۔ چند الفاظ نے پوری مسلمانی تاریخ اُدھیڑ کر رکھ دی کہ اسلام کن چیزوں سے روکتا اور کن چیزوں کی اجازت دیتا ہے یہ ممانعت ۔ اجازت ہم صرف اشیائے خوردو نوش تک محدود رکھتے ہیں ۔ ہماری پوری زندگی کا مدار کھانے پینے کے اردگرد گھومتا ہے ۔ "ملائیشیا عظیم شہریوں کا بڑا ملک "۔ اِسی کے قابل فخر سپوت ڈاکٹر" مہا تیر محمد "کے سنہری الفاظ ہمارے ایک کالم کا حصہ بن چُکے ہیں ۔" ہر مسلمان اپنے ہمسائے مسلمان کی خوشحالی سے جلتا ہے" ۔ متذکرہ فقرات ۔کِسی غیر مسلم نے نہیں کہے ۔ ہمارے اپنے لوگوں کی نبض شناسی ہے ۔ ہمیں نہیں پرواہ کہ ہمارا ہمسایہ بھوکا ہے یا سیر شکم ۔ ہمارے رشتے دار ہماری خیرات کے زیادہ حقدار ہیں ۔ انسان کی امارت غربت اُس کی حیثیت رتبے کا تعین کرتی ہے ہمارے رویے کیا ہیں ۔
ہم دولتمندوں کو جُھک کر ملتے اور غریبوں کو بیٹھے ہوئے سر کے ہلکے اشارے سے سلام کرتے ہیں ۔جبکہ "امیروں" کو دونوں ہاتھوں سے بدقسمتی سے اگر کوئی رشتہ دار مفلس ہے یا "مڈل کلاس کالونی "کا رہائشی تو ہنسی کو متعین بریک سے باہر نہیں جانے دیتے مبادا کچھ تقاضا نہ کر بیٹھے ۔ اکثریت ملازمین کے حقوق دبانے میں خوشی محسوس کرتی ہے معمولی کو تاہیوں پر تنخواہ کاٹ کر فخریہ اپنے ظلم کا چرچا کرتے ہیں ۔ انسان کیا چیز ہے ؟ تھڑولا ۔ ذرا ذرا سی بات پر ہتھیار ٹوکے اُٹھانے والا لمحہ بھر میں برسوں کے رشتے حرفِ غلط کی طرح مٹا ڈالتا ہے ۔ سائیکل پر ہو تو گاڑی والے کو گھورتا ہے ، گاڑی مل جائے تو سائیکل والے کو راستہ نہیں دیتا ، غصہ، نخوت سے دیکھتا ہے ۔ سوئی سے لیکر مریخ تک رسائی اب" روبوٹ ڈاکٹر" کی ایجاد۔
"اللہ تعالیٰ رحمن،رحیم ،کریم" کی عطا کردہ عقل کے زور پرزندگی کے ہر سانس کو آرام دہ پُر سہولت بنانے والے انسان نے پوری دنیا کو ایک شہربنا دیا ۔ صد افسوس پورے عالم کو برق رفتار نظام دینے والا انسان خود کی حالت نہیں بدل پایا ۔ اپنی انا کے زنداں میں پڑا ہے ۔ ساری دنیا کو بجلی سے منور روشن کرنے والا اپنی ذات پر چھائے اندھیرے دُور کرنے میں تا حال ناکام اب ذرا "اُمت "سے ہٹ کر اپنے ملک کی طرف چلے آئیں ۔ یونیورسٹی سے ہسپتال تک کِسی بھی جگہ میرٹ نہیں ۔
سرکاری محکموں سے نجی اداروں تک ہر کوئی دوسرے کی ترقی سے خائف ۔ خوشحالی کا حاسد ۔ حتیٰ کہ جائز حق کی راہ میں بھی کانٹے بچھا دینے میں عار نہیں سمجھتے ۔ وہ لوگ جنھوں نے ساری زندگی گرمی ۔ سردی ۔ موسم کے شدید حالات کے باوجود دن رات محنت کی ۔ آج اپنے ہی جیسے لوگوں کے ہاتھوں خواری ،ذلت ، دھکے کھانے پر مجبور" وزیر اعلیٰ پنجاب" کی نظر کرم کے منتظر ہیں ۔ بات پنجاب بناولٹ بورڈ کے 15ہزارسائلین کی ہے جن کے کیس تعبیر کے عمل سے محروم ہیں ۔ 6"برس" کے فنڈز استعمال نہ ہونے پر قومی خزانہ کو 8ارب کا نقصان الگ سے ۔ لوئر گریڈ کے ملازمین کی حق تلفی پر دفتر کی تزئین و آرائش حاوی رہی ۔ اِسی صوبہ کی ایک اور کمپنی لاہور پارکنگ کے ملازم2 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں وہ لوگ جو روزانہ لاکھوں روپے اکٹھے کر کے کمپنی کو دیتے ہیں اُن کے گھر فاقے شروع دنیا بھر کو روشنی بانٹتا چہرہ خود کتنے اندھیرے میں ہے ۔
دو دن پہلے ملتان میں بزرگ میاں بیوی کی تذلیل ایک عالم نے دیکھی بے رحمانہ سلوک کرنے والا اگرچہ معطل کر دیا گیا پر ایک بے عزتی، دوسرے ضعیفی ، حلال ، حرام صرف سالن ،روٹی کے لیے مخصوص ، حرام مشروبات کا استنثیٰ کیوں ؟ حرام کردہ اشیاء کا بڑھتا ہوا سونامی ہر و ہ چیز جو انسان کو ہوش و خرد سے بیگانہ کر دے ۔ اپنے حواس میں نہ رہے منع ہے ہر طرح کی نشہ آور اشیاء اِس میں شامل ہیں ۔ مگر ظلم نافرمانی کی انتہا دیکھیئے ۔ دو دن پہلے عمرہ پر جانے والا مسافر سے آئس ہیروئن بر آمد دنیا کو روشن کرتا اندھیرا چہرہ۔
16" نومبر" کو" برداشت ، رواداری کا عالمی دن منایا گیا یہ دن منانے کی رسم بھی انسان نے ڈالی ایجاد بھی اِس کی ہے ۔ سفاکیت ،تشدد ایک خطے یا مذہب تک محدود نہیں ۔ ایک شخص نے 3"دن "کی بیٹی کو پانی کی بالٹی میں ڈبو کر مار ڈالا یہ قصہ ہے اُس ملک کا جوروشن انڈیا کے خود تراشیدہ سحر میں نہیں بلکہ بزعم خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا باشندہ ایک ایسی فوج کا سپاہی جو اپنی ریاست کے مالی وسائل کے غالب حصہ کو ہتھیاروں کی خرید پر صرف کرتی ہے مگر خود کے ملازمین تنگ دستی کے ہاتھوں اتنے زچ کہ برداشت تحمل جیسی صفات سے کلیتاً محروم ہماری طرف قومی منظر پر نظر دوڑائیں تو قوم بے حد تنگ افلاس محرومی سب پر آشکار حالت یہ کہ64" فیصد" پاکستانی صاف پانی سے محروم یہ سرکاری انکشاف ہے جو قومی اسمبلی میں ہوا ۔ اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہاں البتہ وہ اعداد و شمار مطلوب ہیں کہ کتنے فیصد" آلودہ پانی" سے بھی محروم ہیں ۔