کیا صرف اِس لیے…؟

کیا صرف اِس لیے…؟

وہ میرے پاس آفس میں آیا اور آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔ اپنے ہاتھ پیشانی پر رکھ لیے۔ میں نے اس سے پہلے اسے کبھی اتنا پریشان نہ دیکھا تھا۔ ’’جھورا جہاز‘‘ ایک دردِ دل رکھنے والا پاکستانی ہے، وہ پاکستان کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میرا صرف یہ پوچھنا ہی تھا کہ کیا ہوا تو وہ پھٹ پڑا اور ہیجانی کیفیت میں بولتا چلا گیا کہ ہم نے یہ پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ ان جاگیر داروں، سرمایہ داروں، مخدوموں، چوہدریوں، لغاریوں، مزاریوں، خواجوں اور دولتانوں کی اولادیں اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے ہم پر مسلط کر دیئے جائیں۔ اقتدار اور سیاست کی یہ بھوکی جونکیں نسل در نسل ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کی رگوں سے خون چوسنے اور ہڈیوں سے آخری ماس بھی نوچنا چاہتے ہیں۔ کیا دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے اس ملک میں قیام پاکستان کے مخالفین اور پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کرنے والوں کی اولادیں اب اپنا حق جتانا شروع کر دیں۔ کیا صرف اس لیے پاکستان کا وجود عمل میں آیا تھا کہ ہم اپنی ثقافت کو بھلا کر اپنی روایات کو پس پشت ڈال کر انڈین فلموں اور ترکی ڈراموں کو دیکھ کر اپنے سماج کو پراگندہ کر لیں۔ پاکستان کی خدمت کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے صرف لاہور اور لاڑکانہ کو ہی پاکستان سمجھ لیا ہے جبکہ بقیہ پاکستان آج بھی چودہویں اور پندرہویں صدی جیسے جہالت سے لبریز مناظر پیش کر رہا ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ ہمارے حکمران اپنی تجارت کو وسعت دینے کیلئے اپنے تجارتی معاہدے چین اور ترکی کے ساتھ کریں اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کیلئے اپنے ملک کو میدانِ حشر بنا دیں اور پھر ان ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہماری فوجیں اور جوان اپنی جانیں قربان کریں۔ کیا ہم نے پاکستان صرف اس لیے بنایا تھا کہ چند طالع آزما اس ملک کو مقتل گاہ بنا دیں۔ جہاں آج چہارسو بارود کا دھواں پھیل چکا ہے۔ صرف اس لیے 70 ہزار سویلین اور 10 ہزار عسکری جوانوں کو اپنی ہی تیار کردہ مقتل گاہ میں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں درندگی کا سامنا کرنا پڑے؟ کیا مذہب کے نام پر ریاست کے اندر ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنا لشکر ترتیب دینا اور جلادوں کو کمانڈرز کہنا اور اپنے رکھوالوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنا ہی پاکستان کا مقصد تھا؟ کیا صرف اس لیے یہ ملک بنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث 25 ہزار مجرموں کو باعزت بری کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے آقائوں کا مشن پورا کر سکیں۔
اس ملک عزیز میں ڈاکٹر اپنی مسیحائی چھوڑ کر، نرسیں اپنی جذبۂ خدمت چھوڑ کر، استاد اپنی ذمہ داری، وکیل اور جج اپنا نصب العین چھوڑ کر ہڑتالوں اور احتجاج کی روش اپنا لیں، حتیٰ کہ کلرک قلم چھوڑ ہڑتال پر یقین رکھیں اور پولیس اپنا فرض چھوڑ کر اپنی جیبیں بھرنے پہ اور عوام کی جیبیں کاٹنے پر لگ جائے اور اس ملک کی بیوروکریسی ایک بدمست ہاتھ کی طرح اپنے مفادات کے پائوں تلے 20 کروڑ عوام کو روندتی چلی جائے جبکہ گذشتہ اور موجودہ حکمران اپنی کھربوں کی جائیدادیں دیارِ غیر میں بنائیں اور غیر ملکی انویسٹرز سے یہ توقع رکھیں کہ وہ ان حکمرانوں کے آبائی ملک میں جا کر سرمایہ کاری کریں، تو بھلا کون ہے جو ان کی معصومیت کے صدقے واری نہ جائے۔
گذشتہ الیکشن مئی2013ء میں ان ہی طبقات نے اس ملک کے عوام کے منہ پر دھاندلی کا ایساطمانچہ رسید کیا کہ یہ قوم پھر بھول کر بھی جمہوریت اور الیکشن کا تقاضا نہ کرے اور اس بین الاقوامی سازش میں بھارت، امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب سمیت خود ہماری افواج کے سپہ سالار، اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ، بیوروکریٹس، ٹیکنوکریٹس، ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں، نام نہاد الیکشن کمشن اور ایک بدمست میڈیا گروپ نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ سابق آرمی چیف، سابق چیف الیکشن کمشن، سابق چیف جسٹس اپنا حصہ وصول کرکے اب مالِ غنیم ہضم کر نے کا چِلہ کاٹ رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور ان کے درجنوں ساتھی اربوں اور کھربوں کا مال ہڑپ کرکے اپنی سیاسی عدت پوری کر رہے ہیں جبکہ ان کو سڑکوں پر گھسیٹ کر لانے اور غیر ملکی بینکوں سے لوٹا ہوا مال واپس لانے کے نعرے لگانے والے آج خود کرپشن کی بھنگ پی کر اس دلدل میں اس حد تک پھنس چکے ہیں کہ جہاں سے اب نکلنا ان کیلئے ممکن نہیں رہا ایک طرف پوری قوم اور افواج پاکستان آئی ایس آئی پر بہتان اور الزام تراشی کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ شانِ صحابہؓ اور ناموسِ اہلبیت پر حملہ کی جسارت اور تحریف قرآن جیسے جرائم کے باوجود حکمرانوں کا کوئی ایکشن نہ لینا اس بات کا غماز ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ جانثارانِ صحابہ و اہلبیت اور رسالت کے پروانوں نے ملک بھر میں شاتم اہلبیت و صحابہ کے خلاف ہزاروں مقدمات درج کروا کر اولادِ نبیؐ سے جس عقیدت کا اظہار کیا ہے اس پر بھی حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی بلکہ وہ وزیر اطلاعات پرویز رشید و دیگر وزراء کے ذریعے نہ صرف وہ جیو مالکان کو مل رہے ہیں بلکہ انہیں گارنٹی بھی دے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی جیو کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔
قارئین جھورا جہاز حیران و پریشان ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ جج ایک ہی دن میں دو مختلف فیصلے دے رہے ہیں کہ این اے 118 میں وہ حامد زمان کے کیس سے اس لیے دستبردار ہوتے ہیں کہ وہ جج صاحب کا عزیز ہے جبکہ اسی دن جیو کے مالک میر شکیل الرحمن سے وابستہ ایک کیس میں وہ سماعت کرنے والے بنچ سے علیحدہ ہونے سے انکار کر رہے ہیں جبکہ میر شکیل الرحمن کی بہن ان کی سگی بھابھی ہیں اور اوپر سے محترم جج صاحب فرما رہے ہیں کہ میں اپنے ضمیر کے عین مطابق فیصلہ کروں گا۔ جھورا جہاز بڑی حیرت سے مجھے پوچھ رہا تھا کہ چوہدری صاحب یہ ضمیر ہے کیا چیز جو ایک ہی دن میں دو ایک جیسے مقدمات پر دو مختلف قسم کے فیصلے صادر فرمائے؟ کیا صرف اس لیے ہم نے پاکستان بنایا تھا، لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی تاکہ چور، ڈاکو، لُٹیرے اس ملک میں اپنی من موجیاں کر سکیں؟ قارئین! میرے پاس جھورے جہاز کی باتوں کا کوئی جواب نہیں۔