کھربوں میں سے عوام کیلئے کتنے؟

کھربوں میں سے عوام کیلئے کتنے؟

2014-15ء کے بجٹ کا سائز بڑھ کر 3.864 کھرب روپے ہونے جا رہا ہے۔ بجٹ کا خسارہ جی ڈی کے 55 کے مساوی 1630 ارب روپے ہوگا۔ 3.290 کھرپ روپے جاری اخراجات کیلئے جبکہ 525 ارب ترقیاتی اخراجات کیلئے مخص ہونگے۔ ٹیکسں سے آمدنی کا ہدف 3.937 کھرب مقرر کیا گیا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو 1703 ارب روپے منتقل کئے جائیںگے۔ 2013-14ء کے سارے اہداف کے نشانے خطا گئے ہیں۔ 1347 ارب قرضوں کی واپسی پر خرچ ہونگے۔ یہ رقم موجودہ 115 ارب سے 17 فیصد زیادہ ہوگی۔ پینشن کی رقم 171 ارب سے بڑھا کر 215 ارب کی رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے آلو کے نرخ 30 روپے تک کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا وہ آلو سے ہٹ کر اور اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں کمی کا اعلان کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ دودھ‘ دہی‘ پھل‘ سبزیوں‘ روٹی‘ نان‘ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کمی کا اختیار کے حامل ہیں۔ اہل پاکستان کی زندگی صرف آلو پر نہیں چل رہی۔ 2013-14ء میں ترقیاتی بجٹ برائے نام رہا ہے۔ گروتھ ریٹ 3 فیصد سے آئے نہیں جا رہا۔ برآمدات میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 11 ماہ کے دوران جمع ہونے والا 300 ارب روپے کا گردشی قرضہ سر پر سوار ہے۔ بجلی پر سبسڈی میں کٹوتیوں سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ وسیع تر ہو جائے گا۔ 480 ارب کے گردشی قرضے کی واپسی کے باوجود سسٹم میں 1700 میگاواٹ بجلی داخل کرنے کی باتیں درست ثابت نہیں ہوئیں۔
2013-2014 میں 1.347 کھرب روپے قرضوں پر سود کی نذر ہورہے ہیں۔ یہ رقم پیپلزپارٹی کے 2012-13ء سے 36 گنا زیادہ ہے۔ بجٹ آنے سے پہلے ہی اعدادوشمار منظرعام پر آجاتے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ برآمدات کی وجہ سے نہیں بلکہ بیرونی قرضوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے تعلیم‘ صحت اور ترقیاتی اخراجات گھٹا دیئے گئے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے کے بجائے 13 فیصد کم ہوئی ہے۔ شریف حکومت کے پہلے سال میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کم کرنے کیلئے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو گھٹانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا گیس اور بجلی کی عدم دستیابی پر رونا شروع ہو چکا ہے۔ 300 ارب نہ ملنے پر آئی پی پیز کی وارننگ سامنے آچکی ہے۔ حالات کنفیوژن کی طرف جار رہے ہیں۔ تجارتی خسارہ کو بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے سہارا دے رکھا ہے۔ حکومت 2.81 کھرب کا ہدف مقررکرکے اسے 2.2 کھرب پر لے آئی۔ کیا یہ پسپائی نہیں‘ سٹیٹ بینک وہی کرتا ہے جس کی آئی ایم ایف سے ہدایت ملتی ہے۔ وزارت دفاع نے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پانچ سال سے دفاعی بجٹ کی رقم 700 ارب روپے ہے۔ اس سال تو اس میں 10 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا۔ لاہور ہائیکورٹ نے دو درجن سیاستدانوں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ وہ بیرون ملک اثاثے سامنے لائیں۔ اسحاق ڈار پہلے ہی اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوںکے ڈالر بازیاب کراکے پاکستان لائے جائیں گے۔ بجلی کے صارفین کیلئے یہ خبر اچھی نہیں کہ آئی پی پیز نے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ 300 ارب روپے کی ادائیگی کرے یا پھر12 سے 14 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کیلئے تیار ہو جائے۔ شریف حکومت نے 2013ء میں بجلی پیدا کرنے والے خودمختار اداروں (آئی پی پیز) کو 480 ارب روپے کی ادائیگی کی تھی۔ ادھر وزارت دفاع نے بھی دفاعی بجٹ میں اضافے پر زور دیا ہے۔ 43 فیصد بجٹ تو ملازمین 26 فیصد آپریشنز اور 10 فیصد سول ورکس پر خرچ ہو جاتا ہے۔ 2013-14ء کیلئے دفاعی بجٹ 6.27 ارب ڈالر تھا جبکہ بھارت کا دفاعی بجٹ 31 ارب ڈالر ہے۔ پاکستانی فوجی ہر سال 8427 ڈالر جبکہ بھارتی فوجی پر 24075 ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ نوازشریف حکومت بھی گئی حکومتوں سے مختلف ثابت نہیں ہوئی۔ اس کا بھی سارا زور اور انحصار قرضوں اور بالواسطہ ٹیکسوں پر ہے۔ نئے بجٹ میں 2.8 کھرب روپے کے بالواسطہ اور براہ راست ٹیکس تھوپے جائیں گے۔ حکومت نے 535 ارب روپے کا اضافہ ریونیو اکٹھا کرنا ہے۔ ہماری ٹیکس جی ڈی پی ریشو 9 فیصد ہے۔ زمینداروں سے ٹکرانا بھی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ حکومت کا بس موٹرسائیکل سواروں اور چنگ چی رکشا والوں پر ہی چلتا ہے۔ ٹریفک وارڈنوں کو حکم ہے کہ چالان کی کتابیں بھرتے چلے جائو ۔ 2014-15ء کے بجٹ میں 255 ارب کے نئے ٹیکسوں کا اضافہ ہوگا۔ بجٹ کا خسارہ 5.7 فیصد سے کم کرکے 4. فیصد کیا جائے گا۔ 2013-14 ء میں 2275 ارب کا ریونیو اکٹھا ہو رہا ہے جبکہ 15 فیصد اضافے کے ساتھ 2014-15ء میں 2810 ارب کا ریونیو جمع کیا جائے گا۔ ریونیو میں 15 فیصد اضافے کا بوجھ پاکستان کے صارفین ہی برداشت کریںگے۔ مہنگائی میں کم از کم 15 فیصد اضافہ تو ضرور ہوگا۔
زیادہ سے زیادہ کی کوئی حدد مقرر نہیں۔ SRDS کے ذریعے 48 ارب روپے کی Exempions واپس لی جا رہی ہیں۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بھی بڑھا کر 17 فیصد کی جا رہی ہے۔ حکومت جتنا ریونیو اکٹھا کرتی ہے‘ اس کا 41 فیصد قرضوں کی واپسی کی نذر ہو جاتا ہے۔ بقایا 59 فیصد ریونیو کا بڑا حصہ دفاعی بجٹ کو دینا پڑتا ہے۔ بچی کھچی رقم سے حکومت چلتی ہے۔ سرکاری ملازموں کو روزی ملتی ہے۔ حکمرانوں کے عیش ہوتے ہیں‘ سرکاری رہائش گاہوں‘ سکیورٹی اور گاڑیوں کے اخراجات کیساتھ ساتھ بیرونی دوروں کی عیاشیاں اپنی جگہ ہیں‘ عوام سے لیا جاتا ہے دیا نہیں جاتا۔ عوام کو دینے کیلئے وعدے ہی کافی ہیں۔ مانیٹری پالیسی کو اس ملک کے کتنے لوگ سمجھتے ہیں اور جانتے ہونگے۔ عام آدمی تو آٹے‘ روٹی ‘ آلو کی قیمت اور چنگ چی رکشے یا بس کے کرائے سے مہنگائی کا اندازہ کرتا ہے۔ اسے ڈالروں اور سوئس اکائونٹس سے کیا مطلب۔ حکومتی اندازوں کے برعکس نومبر 13 سے اپریل 14 تک مہنگائی ہدف سے سو فیصد زیادہ رہی ہے۔ اسی وجہ سے کسی حکومت نے پہلی بار تنخواہوں میں اضافے کیلئے مہنگائی کے تناسب کو پیمانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت بیرونی ملکوں میں پاکستانی سرمایہ داروں کے دو سو ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔ اگر اتنی دولت واپس آجائے تو ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات مل سکتی ہے۔