کابل کانفرنس کے مضمرات‘ امن مذاکرات کا منطقی انجام

کابل کانفرنس کے مضمرات‘ امن مذاکرات کا منطقی انجام

پاکستان کے گردوپیش حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں ایک ڈارونا خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس حقیقت سے اب کسی کو انکار نہیں کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے افواج اور قوم کی اس یکجہتی اور ہم آہنگی کو TOTAL WAR کہتے ہیں جو فتح کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اکیلی فوج یا اکیلی حکومت کی سول مشینری دفاع وطن اور مملکت کی آزادی کے کھٹن امتحان میں سرخروح نہیں ہو سکتی۔
ایک ایسے علاقائی منظرنامے میں جہاں بھارت کی نریندر مودی حکومت سے خیر کی توقع رکھنا اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کے مطابق طے ہونے کی امید رکنا خیال خام کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ باقی رہ گیا پاکستان کی مشرقی سرحد پر امن کی آشا اور مغربی سرحد پر طالبان کے ساتھ امن مذاکرات دونوں ڈرامے حادثاتی طور پر ایک ہی وقت میں اپنے منطقی انجام کو جا پہنچے ہیں۔ اور ان میں ملوث خفیہ ہاتھوں کا کردار ایک انوکھے انداز میں منظر عام پر آیا ہے۔ ان خفیہ ہاتھوں کی تحقیقات بعض سرکاری ادارے کچھ معاملات صوبائی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے طول و ارض میں سڑکوں پر نکل کر عوامی جذبات کی ترجمانی کی عکاسی کا عندیہ دیا ہے۔ ایسے GATHERING STORM کے ماحول میں ایک طرف ملک کے اندر امن و امان کی فوری بحالی کیلئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے کراچی اور کوئٹہ کے ہنگامی دورے جن میں بعض موقعوں پر چیف آف آرمی سٹاف اور سابق صدر و پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی یکجہتی کے طور پر انکے ہمراہ دکھائے گئے ہیں لیکن حرف تسلی کے ساتھ جو خبریں سہ فریقی فوجی کمانڈروں کی حالیہ کابل کانفرنس کے بعد گردش میں ہیں اور اس سے بھی زیادہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کے منطقی انجام کے بارے میں مختلف ذرائع سے سامنے آ رہی ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔انتہائی حساس نوعیت کی ان اطلاعات نے ان بھاری عطیات جو حال ہی میں سعودی عربیہ اور بحرین کی طرف سے حکومت پاکستان کو پیش کی گئیں ہیں انکی غرض و غاصیت بیان کی گئی ہے جن کے بارے میں چونکہ حکومت نے رازدانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اس لئے کسی کالم نگار کو ایسے رموز سلطنت کے بارے میں تبصرہ نگاری مناسب نہیں لیکن کیا پارلیمنٹ کا یہ فرض منصبی نہیں ہے کہ اگر ان رقوم کا قومی سلامتی یا کسی بیرونی ملک مثال کے طور پر شام کے اندرونی معاملات سے کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق ہو تو متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے۔ بے شک خفیہ طور پر ہی ایسا کیا جائے یہ اطلاعات تو فاٹا کی جگہ جگہ اڑتی چڑیا ہر طرف پھیلا رہی ہیں۔ کہ خیبر پی کے کے نئے گورنر نے اپنے عہدہ کا چارج لینے کے بعد نہایت سرگرم ہیں اور نہ صرف تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ افغانستان میں ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ ان کو کسی ٹارگٹ آپریشن کا ہدف بننے کا خوف طاری ہے بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے شمالی و جنوبی وزیرستان میں درجنوں سرکردہ کمانڈر کسی اور مشن پر پہلے سے کئی زیادہ معاوضہ ملنے پر اس علاقہ سے غائب ہیں اور آج کل دوسرے اور تیسرے گریڈ کے طالبان کمانڈروں نے چارج سنبھال رکھا ہے‘ اسی لئے جنوبی وزیرستان میں آج کل سید سجنا نے باضابطہ کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ اس بدلے ہوئے منظرنامہ میں فوجی فوری آپریشن کی صورت میں TTP پہلے سے کمزور پوزیشن میں ہونے کے باعث نہ صرف فوجی آپریشن سے خائف بلکہ انتہائی HARD LINE دہشت گردوں کے سوا اکثر TTP عناصر مارے جانے کی بجائے صلح اور سرنڈر کی طرف مائل ہیں اس لئے جنگی کامیاب حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ فوجی آپریشن میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے اور امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کیلئے بھی ایسے آپریشن میں تاخیر انخلاء کے عمل میں کئی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں جن کا تفصیلاً ذکر اس کالم کی محدود SPACE اجازت نہیں دیتی لیکن ذرائع کے مطابق فوجی کمانڈروں کی کابل میں ہونے والی حالیہ کانفرنس میں اس سٹرٹیجی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران پاکستان سے افغانستان بھاگنے والے طالبان کو سرحد پار کر کے افغانستان میں ملا عمر کی طالبان فورس میں پناہ لینے سے روکنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کا وزیرستان کے اندر ہی قلع قمع کیا جا جا سکے۔ بعض حلقے ان سنگین خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر فاٹا سے شام منتقل ہونیوالے دہشت گرد وہاں پہنچ کر دوبارہ مجاہدین کا رول اختیار کرلیں تو شیعہ سنی کی یہ پراکسی وار عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں عالم اسلام مڈل ایسٹ میں دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہونے کے راستہ پر اگر مزید آگے بڑھا تو پاکستان اس خوفناک دھڑے بندی کے مہلک اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔ اس موقع پر ذرا سی تبدیلی سے علامہ اقبال کا یہ شعر وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔…؎
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اللہ نہ کرے
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں