میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

کہتے ہیں کہ نیم حکیم خطرہ جاں نیم مُلا خطرہ ایماں ہوتا ہے۔ اگر نیم سیاسی رہنما ہو تو کیا ہوتا ہے ’’کسی نے حکیم سے سوال کر ڈالا وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے وہی کچھ ہوتا ہے جو معاشرے میں ہو رہا ہے۔ لیکن اگر یہ تینوں عناصر ہی معاشرے میں موجود تو پھر کیا ہو گا’’اس سوال پر حکیم صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولے۔ پھر وہی ہو گا جو منظور خدا ہو گا۔
حکیم صاحب کی باتوں نے ہمیں تذبذب میں ڈال دیا۔ مملکت خداداد کا قیام تو حاکمیت الٰہی پر مبنی تھا پھر یہ خود غرضی ‘ ذاتی مفادات اور ہوس زر کا وائرس کیوں پھیلتا چلا گیا۔ حکیم صاحب کا خیال ہے کہ بیمار معاشرے کا علاج کسی حکیم‘ وید یا طبیب کے پاس نہیں ہوتا بلکہ خود معاشرے کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تو یہ بھی خیال ہے قوموں کی بقا کیلئے حب الوطنی وفاشعاری اور حیاداری لازمی عناصر ہیں۔ وہ حکیم الامت کی خدمات کے بھی معترف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انکی شاعری سے نفس کی غلامی سے بڑی طاقتوں سے آزادی کا سبق ملتا ہے۔ حکیم صاحب کا نظریہ ہے کہ حب الوطنی اور حیاداری تو انکے خاندان کا طرہ امتیاز تھی۔ انکے دادا نے وطن کے حصول کیلئے جان دی جبکہ انکے والد اتنے حیادار تھے کہ اگر کوئی باپردہ خاتون علاج کیلئے تشریف لائیں تو وہ ان کو دوسرے کمرے میں بٹھا رہے‘ دھاگے کا ایک سہرا انکے ہاتھ پر بندھوا دیتے اور دوسرا خود پکڑ لیتے منٹوں سینکڑوں میں بتا دیتے کہ ان مریضہ کو کیا دکھ ہے ارے وہ تو آنکھیں پڑھ کر حالت دل بتا دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ درست احباب ان سے آنکھیں چرانے لگتے تھے۔ حکیم صاحب ہمارا دکھ یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی خود غرضی کا قلع قمع کیسے ممکن ہے‘‘ کسی نے ان سے سوال کر ڈالا وہ تھوڑا سا مسکرائے اور بولے اس مرض کے علاج کیلئے صرف ایک عنصر ضروری ہے وہ ہے حب الوطنی‘ بھیا تم نظر اٹھا کر دیکھو بہت کم ایسے لوگ نظر آئینگے جن میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو‘ حکیم صاحب کو پھر واقعہ یاد آ گیا وہ بولے میرے والد محترم میں خلوص اور اپنائیت کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ ایک بار دادا حضو نے ان سے کہا کہ بھئی اشفاق تم فربہ ہوتے جا رہے ہو روزانہ تین کلومیٹر واک کیا کرو۔ کافی دن تک ابا حضور کا کچھ پتہ نہ چل سکا دادا حضور نے ہر کار ے دوڑا دئیے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دادا حضور کی اطاعت میں روزانہ تین کلومیٹر واک کرتے ہوئے سو کلومیٹر تک جا پہنچے ہیں۔ دادا حضور نے فوراً انہیں واپسی کاحکم دیا۔ حکیم صاحب ٹھنڈی سانس لے کر بولے۔ بھئی اطاعت اور فرمانبرداری ہو تو ایسی جب ہر فرد ہی اس پر عمل پیرا ہو گا تو ہر قسم کا مرض رفوچکر ہو جائیگا۔ ’’لیکن ہمارا آج کا المیہ تو کرپشن ہے‘‘ ان سے سوال کیا گیا وہ رنجیدہ ہو گئے اور بولے بھائی میاں میرے پاس ہر قسم کا علاج اور توڑ موجود ہے ارے میں تو کہتا ہوں کہ سانپ کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا‘ کرپشن تو خود ایک زہریلا ناگ ہے لیکن اسکا ڈسا ہوا تو سب کچھ مانگتا ہے۔ اسکا مریض تو ’’زر‘‘ کے چکر میں باولا ہو جاتا ہے۔ ایک کی بجائے دو دو نظر آئے لگتے ہیں تم نے وہ لطیفہ نہیں سنا کہ ایک کرپشن کا شکار آدمی کسی نیم حکیم کے پاس علاج کیلئے گیا اس نے کہا کہ حکیم صاحب میرا مرض شدید ہو گیا۔ مجھے ایک کے بجائے دو دو نظر آتے ہیں۔ نیم حکیم نے اپنا حشمہ درست کرتے ہوئے کہا تم چاروں کو یہی مرض لاحق ہے اب برخودار جب ایسی صورت حال ہو تو بیمار معاشرے کا علاج کیسے ممکن ہے؟’’علاج تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی مرض لاعلاج پیدا نہیں فرمایا اس سوال پر وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے جب آوے کا آوا ہی بگڑ جائے تو پھر خدا سے ہی دعا کی جا سکتی ہے کہ ایسا رہنما بھیج دے جو کہ معاشرے میں پھیلے تمام وائرس کو جڑ سے نکال پھینکے اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
ابن مربم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی