عمران خان فیصل آباد میں کیوں جلسہ کر رہے ہیں؟

عمران خان فیصل آباد میں کیوں جلسہ کر رہے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ دھاندلی کیخلاف احتجاجی تحریک منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گی حکمران جو مرضی کرلیں عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کو نہیں چھپا سکیں گے حکمران ریاستی اداروں کو سپورٹ کرنے کے بجائے اپنے حواریوں کو سپورٹ کررہے ہیں (ن)لیگ نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ سمیت قوم سے انتخابات میں کئے جانے والا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا عوام حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور ظالمانہ اقدام سے تنگ آچکے ہیں ۔ اپنے ایک انٹرویو کے دوران تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہاکہ ہم نے ایک سال انتظار کیا لیکن حکومت عام انتخابات میں ہونیوالی دھاندلی کی تحقیقات کروانے کیلئے تیار نہیں بلکہ اس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی جب حکمرانوں نے دھاندلی نہیں کی تو 4 حلقوں میں ووٹوں کی چیکنگ کے مطالبے پر یہ خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب25 مئی کو ٹھاٹھیں مارتا سونامی مخالفین کو بہالے جائیگا گذشتہ روز راقم فیصل آباد گیا تو دیکھا تحریک انصاف فیصل آباد کے کارکنوں نے شہر بھر میں دھوبی گھاٹ کے جلسے کو تاریخی بنانے کیلئے بڑے بڑے بینرز لگا رکھے ہیں تحریک انصاف کے کارکن اوران کے رہنما ضلع بھر کے غریبوں اورمزدورں اور نوجوانوں کو 25 مئی کو دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں منعقد ہونیوالے جلسہ میں مدعو کر رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے فیصل آباد کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ فیصل آبادمسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے 25 مئی کو یہاں کوئی طوفان نہیں آئیگا لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں راقم نے مسلم لیگ کے رہنمائوں کو پریشان بھی پایا ہے۔راقم نے فیصل آباد کے سیاسی سماجی رہنائوں اور سینئر صحافیوں سے دریافت کیا کہ عمران خان کی پارٹی کو فیصل آباد میں حالیہ ضمنی الیکشن میں ہی صرف ایک پنجاب اسمبلی کی نشست ملی تھی جبکہ جنرل الیکشن میں عمران خان کی پارٹی کو ضلع فیصل آباد سے ایک نشست بھی نہیںملی تھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انکی پارٹی کو ضلع فیصل آباد میں مقبولیت حاصل نہیں ہے لیکن اسکے باوجود عمران خان نے فیصل آباد میں جلسہ کرنے کا پروگرام کیوں بنایا ان کا کہنا تھا اسکی وجہ یہ ہے کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے اور یہاں نوے فیصد لوگ غریب رہتے ہیں بجلی اور سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے فیصل آباد کی انڈسٹری کیساتھ ساتھ ٹریڈ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ انڈسٹری بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آچکے ہیں طویل دورانیہ کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کو ذہنی اور جسمانی اذیت سے د وچار کر دیا ہے صنعت کار مزدور اور غریب لوگ آئے روز سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے فیصل آباد میں جلسہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انکے جلسہ میں سوئی گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں تنگ لوگ اور بے روز گار غریب لوگ بڑی تعداد میں شریک ہونگے۔عمران خان کی احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ فے الحال رکتا نظر نہیں آتا ۔ گزشتہ سال کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام کم و بیش سبھی سیاسی جماعتیں عائد کر رہی ہیں حتیٰ کہ جمعیت العلمائے (ف) کے مولانا فضل الرحمن بھی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات مشکوک ہیں دھاندلی صرف چار حلقو ں میں نہیں ہوئی پورے ملک میں ہوئی جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک انصاف کے تعلقات کو سیاسی مخالفت سے آگے سیاسی مخاصمت تک شمار کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بھی کم از کم قبل از انتخابات دھاندلی کی شکایت ہے ۔ مسلم لیگ (ق)بھی دھاندلی کی شکایت کرتی ہے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دھاندلی کی شکایت ہے۔ سرکاری پارٹی کو چار حلقوں کے نتائج کی پڑتال کا معاملہ بہت پہلے تسلیم کر لینا چاہیے تھا اب بھی اگر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا جائے توا س سے کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا۔ موجودہ صورتحال میں جب عوام کے جذبات اور مطالبات اور حکومت کے رویے کے درمیان فاصلہ روز بروزبڑھ رہا ہے حکومت پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو جائیگا ۔ انتخابی اصلاحات کیلئے آل پارٹیز اجلاس بلایا جانا چاہیے۔جس سے اتفاق رائے سے انتخابی نظام میں بہتری کی سفارشات لائی جا سکیں ۔