ہائیڈ پارک

سید شعیب الدین احمد ۔۔۔
شاہراہ قائداعظم پر مظاہرے اور ٹریفک جام نیا نہیں بلکہ پرانا مسئلہ ہے۔ سول سیکرٹریٹ، لاہور ہائیکورٹ، صوبائی اسمبلی، 90۔ شاہراہ قائداعظم اور گورنر ہاﺅس لاہور کی وہ وی وی آئی پی عمارات ہیں جن کے سامنے مظاہرہ کرکے ہر پریشان حال یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو۔ اس کا نوٹس تو ضرور لیا جائیگا۔ یہ مظاہرے ہر دور میں اسی شاہراہ پر ہی ہوتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کیخلاف چلنے والی تحریک ختم نبوت کے جلوس بھی روزانہ اسی سڑک پر نکلا کرتے تھے مگر یہ جلوس سہ پہر کو دفاتر کے اوقات کے بعد نکلا کرتے تھے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی کم متاثر ہوتا تھا۔ ضیاءالحق مرحوم کے دور میں بے حد سختی کے باوجود بھی جلوس یہاں سے ہی نکلا کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کیخلاف ایک دوسرے کے ورکرز بھی یہیں سے جلوس نکالا کرتے تھے مگر 2001ءمیں نیا بلدیاتی نظام آیا تو لاہور کے پہلے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے اس مسئلے کو حل کروانے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے شاہراہ قائداعظم پر جلسے، جلوسوں پر پابندی نہ صرف عائد کی بلکہ اس پر سختی سے عمل بھی کروایا جس سے نہ صرف شاہراہ قائداعظم کے تاجروں بلکہ لاہور کے شہروں نے سکھ کا سانس لیا۔
میاں عامر محمود نے جلسے اور جلوس کیلئے مینار پاکستان کا کھلا اور کشادہ گراﺅنڈ مخصوص کردیا جو اتنا وسیع و عریض ہے کہ بڑی سے بڑی سیاسی جماعت اس خوف سے یہاں جلسہ کرنے سے کتراتی ہے کہ اس کی ”مقبولیت کا پول“ کھل جائیگا اور اس کے ”چاہنے والوں“ کی اصلی تعداد سامنے آجائیگی۔ اس مسئلے کا حل کچھ سیاسی جماعتوں نے کرسیوں کو جلسہ گاہ میں ایک ترتیب سے اور درمیان میں خاصی جگہ چھوڑ کر لگا کر نکالا تاکہ جلسہ بڑا نظر آئے مگر اس کا اصل فائدہ یہ ہوا کہ شاہراہ قائداعظم پر جلسہ اور جلوس بند ہوگئے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں کاروں کی تعداد میں بے حد تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ بینکوں سے کم سود پر ملنے والے قرضے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ جنہوں نے بینکوں سے اقساط پر گاڑیاں حاصل کیں بعد میں ٹائم پر واجب الادا اقساط ادا نہ کرسکے اور انکی گاڑیاں بینکوں نے ضبط کرلیں جس سے بینکوں کو بہت فائدہ ہوا اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ قرضوں میں پھنس گئے۔ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام صرف ناقص ہی نہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے ہر مڈل کلاس فیملی نے اپنا پیٹ کاٹ کر کار ضرور خرید لی۔ یوں کاروں کے اس رش نے لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسئلے کو جنم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاہور کی کشادہ سڑکیں تنگ ہوتی چلی گئیں۔ جلسے جلوسوں کی راہ پر چل کر اب ہر شخص اپنے مسائل کے حل کیلئے شاہراہ قائداعظم کا رخ کرتا ہے۔ سب سے زیادہ جلوس ایپکا کے ہوتے ہیں۔ ایپکا والے ہر ہفتے دو دن شاہراہ قائداعظم کو تین سے چار گھنٹے بند رکھتے ہیں۔ کلرکوں کے مسائل یقیناً حل ہونا چاہئیں۔ مہنگائی کے اس دور میں غریب کلرک موجودہ تنخواہ میں کس طرح گزارہ کرسکتا ہے اس کا اندازہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کو جب ہوگا جب انہیں بھی اسی تنخواہ میں گزارے کا کہا جائیگا۔کلرکوں کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین، سیاستدانوں، وڈیروں، صنعتکاروں، پولیس افسران و دیگر طاقتور افسران کے ظلم و ستم سے ستائے افراد بھی شاہراہ قائداعظم پر ہی مظاہرے کرتے ہیں۔ ظلم و ستم کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھونے والوں کے ورثاءبھی اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھا کر اسی شاہراہ قائداعظم پر مظاہرے کرتے ہیں حتیٰ کہ بمشکل 25 سے 50 افراد فیصل چوک کو چاروں طرف سے بند کرکے ٹریفک جام کردیتے ہیں اور سارا لاہور اس کی سزا بھگتتا ہے۔مظاہرے دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ عراق پر حملے کیخلاف لندن میں ”ملین مارچ“ ہوا تھا مگر وہاں کہیں ایسا ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس میں یقیناً انکے نظام اور خصوصاً پولیس اور ٹریفک پولیس کو سراہا جاسکتا ہے مگر ہمارے ہاں پولیس اہلکار گنتی کے چند مظاہرین کے ہاتھوں اسی طرح یرغمال بن جاتے ہیں کہ کچھ نہیں کرپاتے۔ مظاہرین کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سڑک پر صرف ان کا حق نہیں، ان کا بھی حق ہے جو ان سے تعداد میں کہیں زیادہ ہیں اور ان کی وجہ سے سڑکوں پر سخت گرمی میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ سابق ناظم میاں عامر محمود اگر صرف ایک ضلع کے ناظم ہو کر شاہراہ قائداعظم کو جلسہ جلوس فری سڑک بنا سکتے ہیں تو پنجاب کے خادم اعلیٰ انکے بھی خادم اعلیٰ ہیں جو ان جلوسوں کی وجہ سے سڑکوں پر گھنٹوں ذلیل ہو کر گھر پہنچتے ہیں۔ معصوم بچوں کا کیا قصور ہے کہ سکولوں سے چھٹی کے بعد انہیں گھنٹوں گھر پہنچنے میں لگ جاتے ہیں۔لندن میں دل کی بھڑاس نکالنے اور کسی کے بھی خلاف مظاہرہ کرنے کیلئے ”ہائیڈ پارک“ موجود ہے۔ ہماری بھی خواہش ہے کہ خادم اعلیٰ ناصر باغ کو ہائیڈ پارک کا رتبہ دیدیں۔ جس کسی کو حکومت کیخلاف یا حق میں مظاہرہ کرنا ہے وہ اس ”ہائیڈ پارک“ میں جائے اور دل کھول کر مظاہرہ کرے مگر خدارا شاہراہ قائداعظم کو معاف کردیا جائے۔ مظاہرے کرنیوالے یاد رکھیں کہ انکے بچے بھی کسی جلسہ اور جلوس کی وجہ سے گرمی میں گھنٹوں خوار ہوسکتے ہیں۔ مظاہروں کے دوران اکثر ایمبولینس بھی شور مچاتی بلکہ گڑگڑاتی نظر آتی ہیں مگر راستہ نہیں مل پاتا۔ ہائیڈ پارک بننے سے شاید چند مریضوں کی جانیں بھی بچائی جاسکیں۔