ڈرون حملے کب بند ہونگے

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

امریکی ڈرون حملے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کو مارنے کی سازش ہے میران شاہ میں ڈرون حملوں میں دو کمسن بچے اور ایک بچی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس طرح کے واقعات ہر روز ہوتے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کے خلاف ایک طرح سے جزوی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے جس پر ہمارے حکمران خاموش ہیں۔ ہماری فوجی قیادت بھی ان حملوں کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کر رہی روزانہ یہ خبر ملتی ہے کہ 30 جنگجو مارے گئے جن میں عام شہری بچے اور خواتین شامل ہوتے ہیں۔ اب تو ڈرون حملوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے وادی تیرہ جہاں ڈرون حملے نہیں ہوتے تھے وہاں بھی 34 افراد مارے گئے ڈرون حملے اندھا دھند ہوتے ہیں جن میں اکثر پاکستانی شہری شہید ہوتے ہیں اور نام یہ لیا جاتا ہے کہ اتنی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیا سبھی لوگ دہشت گرد ہیں جن پر دن رات بمباری کی جاتی ہے اگر یہ ڈرون حملے نہ روکے گئے تو ان کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ امریکہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان میں گھس کر اپنے جہازوں سے بمباری کرے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہماری حکومت نے اسے کھلی چھٹی دے رکھی ہے امریکہ کی ایک عرصے سے یہ خواہش تھی کہ وہ کسی طرح ابھرتی ہوئی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست کو کمزور کرے اور عالم اسلام میں اس کی اہمیت کو ختم کرے اس کےلئے وہ کسی بہانے کی تلاش میں تھا ہماری نااہل حکومتوں کے باعث اسے یہ موقع آخر مل ہی گیا اور آج یوں لگتا ہے کہ پاکستان امریکہ کی کالونی بن گیا ہے۔ اس وقت امریکہ پاکستان کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے زک پہنچا رہا ہے۔ گستاخانہ خاکے اس سلسلے کی کڑی ہے۔ مگر جس طرح ڈرون حملوں پر ہمارے حکمران خاموش ہیں گستاخانہ خاکوں پر بھی ان کی طرف سے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں ہوا۔ عیسائی دنیا نے اپنے طور پر کروسیڈ شروع کر دیا ہوا ہے مگر مسلم امہ خواب خرگوش میں ہے۔ او آئی سی نے آج تک پاکستان میں امریکی زیادتیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور نا ہی گستاخان خاکوں پر کوئی ردعمل ظاہر کیا۔ یوں لگتا ہے کہ عالم اسلام مار کھا کھا کر اور بے عزتی سہ سہ کر اٹھ کھڑی ہو گی مگر تب بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ ہماری وزارت داخلہ و خارجہ میں اتنی بھی جرات نہیں کہ وہ امریکہ سے کہے کہ ڈرون حملے بند کرے یہ براہ راست ہماری خود مختاری پر زبردست چوٹ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم خود لڑ سکتے ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان میں جو کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اس سے ناصرف ہماری معیشت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ بلکہ ہماری عسکری قوت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکہ کا اتحادی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑے بھارت بھی امریکہ کا اتحادی ہے مگر اس نے امریکہ کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان کے حکمران اب ہوش میں آئیں اور امریکہ کو نکال باہر کریں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا جس قدر مالی نقصان ہو رہا ہے اس کا عشرے عشیر بھی امریکہ سے پاکستان کو نہیں مل رہا ہے ہم نے اپنی سرحدیں اس کےلئے اس انداز سے کھول دی ہیں کہ جس کا جی چاہے اندر داخل ہو کر پاکستان دشمن کارروائیاں کرے اس وقت پاکستان میں دنیا بھر کی اسلام دشمن و پاکستان دشمن قوتیں اطمینان سے کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کے 17 کروڑ عوام کا دلی مطالبہ ہے کہ ڈرون حملے بند کر دئیے جائیں حکمران اپنے 17 کروڑ ووٹروں کی بات ماننے کے پابند ہیں۔ پھر وہ کیوں ان کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتے۔