قومی مفاہمت کا ڈھونگ اور بے نظیر قتل سازش … (5)

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

rabaqi@sapulse.com .................
راقم کی رائے میں فائرنگ اور خودکش دھماکے میں تباہ حال گاڑی کے مکینوں سے یہ رابطہ تو بی بی کی بیک اپ سپورٹ گاڑی کے سواروں کو کرنا چاہئے تھا جنہیں بی بی قتل سازش میں معافی دینے کی احمقانہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ؟ اگر صدر زرداری کو وقتِ آخر بی بی کی حالت زار کا ذرا بھی احساس ہے تو اُنہیں اِس بیک اَپ سپورٹ گاڑی کے ڈرائیور خضر حیات خٹک کے اِس بیان پر ہی غور و فکر کرنا چاہئیے جو اُس نے یو این رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ پرائیویٹ چینل پر آ کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ \\\" رحمن ملک نے بی بی کی گاڑی پر فائرنگ اور دھماکے سے قبل کہا تھا کہ اگر ہم خیریت سے یہاں سے نکل جائیں تو یہ معجزہ ہی ہوگا جس پر میں نے اُن سے پوچھا کہ کیوں ، تو اُنہوں نے بتایا کہ بی بی کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کیلئے گاڑی کی سن روف سے باہر نکل آئی ہیں اور سیکورٹی موجود نہیں ہے \\\" ۔ خضر حیات کا مزید کہنا تھا کہ \\\" اِسی دوران فائرنگ ہوئی اور پھر چند سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہو گیا لیکن بی بی کی گاڑی پر خودکش حملے کے بعد رحمن ملک ، بابر اعوان ، فرحت اللہ بابر اور جنرل توقیر ضیاء بی بی کی خیریت معلوم کئے بغیر ہی زرداری ہائوس اسلام آباد چلے گئے \\\" ۔ کیا کرائم انویسٹی گیشن کے حوالے سے رحمن ملک وغیرہ کا یہ رویہ انتہائی سفاکانہ نہیں تھا ؟ ایوان صدرکے قانونی ماہرین یہ سوال تو قائم کرتے ہیں کہ فائرنگ اور خودکش دھماکے کے بعد بی بی کی گاڑی میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے جانثاروں نے بیک اپ سپورٹ گاڑی کو بی بی کے زخمی ہونے کی بابت کیوں اطلاع نہیں دی لیکن اِس اَمر پر توجہ نہیں کرتے کہ بابر اعوان بی بی پر حملے کے بعد میڈیا کو کیوں بتاتے رہے کہ اُنہوں نے بی بی کو گولی لگتے اور لینڈ کروزر میں گرتے دیکھا ہے تو دھماکے کی دھند صاف ہونے کے بعد وہ بی بی کی مدد کیلئے کیوں نہیں پہنچے ؟ رحمن ملک جنوری 2008 میں بی بی کی شہادت کے بعد پریس کو یہ بتا چکے تھے کہ جب وہ بی بی کے کارواں کو لیڈ کرتے ہوئے لیاقت باغ پہنچے تھے تو اُنہوں نے تقریباً پانچ سو افراد کو جائے شہادت کے نزدیک سڑک کے اطراف کھڑے ہوئے دیکھا تھا جس سے وہ خوفزدہ ہوئے تھے (لیکن اُس وقت پولیس کافی تعداد میں موجود تھی)لہٰذا بی بی کی روانگی سے چند منٹ قبل جب وہ اسٹیج سے نیچے آئے تو اُنہوں نے محسوس کیا کہ بہت تھوڑے پولیس والے وہاں موجود تھے لہذا اُنہوں نے SSP فاروق سے پوچھا ایسا کیوں ہے ، فاروق نے اُنہیں بتایا کہ کچھ پولیس والے میاں نواز شریف کی ریلی میں بھیج دئیے گئے ہیں جہاں فائرنگ کے دوران چار ا فراد ہلاک ہوئے ہیں \\\"۔ چنانچہ ، ایوان صدر کے قانونی ماہرین کو ر حمن ملک پر بھی سوال قائم کرنا چاہئے تھا کہ اُنہوں نے بی بی کی لیاقت باغ سے واپسی پر مناسب پولیس سیکورٹی کی غیرموجودگی پر بی بی کو سیکورٹی کے حوالے precautionary measures اختیار کرنے کیلئے فوری طور پر بریف کیوں نہیں کیا تھا ؟ یہ بات زرداری صاحب سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ فائر اور دھماکہ کی شدت کو برداشت کرنے والی سکیورٹی گاڑیوں میں سن روف نہیں ہوتی جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق بی بی کی سیکورٹی کیلئے پیپلز پارٹی کے دوستوں نے جرمن BMW گاڑی دینے کی پیش کش کی تھی لیکن بی بی کے سیکورٹی ایڈوائزر ہونے کے ناطے رحمن ملک لینڈ کروزر فائر اور بلاسٹ پروف گاڑیاں دبئی سے لیکر آئے تھے جس کی قیمت طارق عزیز اور رحمن ملک کے ایک مشترکہ دوست نے ادا کی تھی جبکہ حادثے نے ثابت کیا کہ اِن گاڑیوں کے ٹائر بھی بلاسٹ پروف نہیں تھے ۔ اندریں حالات ، کیا ایوان صدر کے قانونی ماہرین نے کبھی رحمن ملک اور بابر اعوان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ آپ دوسری فائر پروف گاڑی میں تھے تو دھماکے کے بعد بی بی کی جان بچانے کی بجائے آپ بی بی کو جان کنی کی حالت میں چھوڑ کر کہاں غائب ہوگئے تھے ؟ اِس سوال کا پوچھا جانا اِس لئے بھی ضروری ہے کہ یو این کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بیک اَپ سپورٹ گاڑی میں موجود رحمن ملک وغیرہ کو سنگین سیکورٹی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے بہرحال، ایوان صدر میں زیر بحث لائی گئی رپورٹ کے حوالے سے جب راقم نے ناہید خان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی تو اُن کا کہنا تھا کہ \\\" زرداری صا حب اُن کیلئے ہمیشہ ایک بھائی کی طرح محترم رہے ہیں لیکن اُنہیں یہی افسوس ہے کہ اُنہوں نے آج تک اِس ٹریجڈی کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ تو مدت سے انتظار کر رہی ہیں کہ کوئی اُن سے پوچھے کہ اُس دن کیا ہوا تھا تو ہم ضرور بتائیں گے ،کسی کو پوچھنے تو دو\\\"۔آئیے دیکھتے ہیں کہ حکومتی قانونی ماہرین مزید کیا کہتے ہیں :
(2) \\\" پاکستانی قوانین کے مطابق کسی مرحوم کی میت اُس کے شرعی وارثوں کے علاوہ قریبی رشہ داروں کو بھی نہیں دی جاتی تو پھر کیا وجہ تھی کہ بی بی کے تابوت کو مری روڈ ہسپتال سے اسلام آباد ائرپورٹ شفٹ کرنے میں عجلت برتی گئی ، حالانکہ قانونی تقاضا کہتا ہے کہ میت اُن کے شوہر جو دبئی سے آ رہے تھے ، کے آنے تک ہسپتال میں رکھی جاتی ، اِس طرح ہسپتال والے یا پولیس اُن کے پوسٹ مارٹم کی بابت گفتگو کر سکتے تھے مگر آصف علی زرداری کی پاکستان آمد سے قبل ہی مرحومہ کے تابوت کو ائر پورٹ پہنچا دیا گیا تھا لہٰذا ائرپورٹ پر نہ تو پوسٹ مارٹم ہو سکتا تھا اور نہ ہی شدید دبائو کے ماتمی ماحول میںآصف زرداری سے اِس طرح کی گفتگو کا سوال پیدا ہوتا تھا ..... مری روڈ کے ہسپتال میں محترمہ کی میت اُن کی سابق پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان اور شیری رحمان نے وصول کی تھی جو مرحومہ کی خون کی رشتہ دار تھیں نہ ہی شرعی وارث ، اِسی طرح بند تابوت وصول کرکے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور وجہ شہادت جیسی اہم شہادتوں کو کیوں ضائع کیا گیا \\\" ۔ حکومتی ماہرین کی اِس منطق کو ناہید خان تسلیم نہیں کرتی ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ ایوان صدر کے قانونی ماہرین نے بابر اعوان کی موجودگی میں تجویز کردہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بی بی کی میت کے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو یکسر نظر انداز کر دیا جس کے متعدد پیراگرف میں بی بی کی میت کے پوسٹ مارٹم کے حوالے ( اقوام متحدہ کمیشن آف انکوائری کی آبزرویشن کا مکمل متن کمیشن کی رپورٹ میں پڑھا جا سکتا ہے )۔
راقم کی جانب سے رابطہ کرنے پر ناہید خان نے اِس بات کی تردید کی ہے کہ بی بی کا تابوت اُنہوں نے وصول کیا تھا ، اُن کا کہناتھا کہ بی بی کا تابوت مقامی پولیس کے زیر انتظام ائرپورٹ بھیجا گیا تھا جس کی تائید اقوام متحدہ کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے ۔ راقم کی رائے میں زرداری صاحب کو حساس نوعیت کے متنازعہ معاملات میں ایوانِ صدر کو ملوث کرنے کی بجائے رحمن ملک اور بابر اعوان کے متنازعہ بیانات کا نوٹس لینا چاہئیے تھا جبکہ 6 جنوری 2008 میں بلاول ہائوس میں پریس سے خطاب کرتے ہوئے جو ریکارڈ پر موجود ہے ، رحمن ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم نہ کرانا محترمہ کی فیملی کا فیصلہ تھا لیکن اگر سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا تو پیپلز پارٹی اُس پر غور کریگی بھی معنی خیز بات ہے ؟
دراصل رحمن ملک اور بابر اعوان بی بی کی موت کے بعد سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے متعدد مواقع پر غلط بیانی پر مبنی متضاد بیانات سے بی بی قتل سازش میں کنفیوژن کا عنصر داخل کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی جاری رہا ۔ حیرت ہے کہ جب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے محترمہ قتل سازش کیس کی فیکٹ فائنڈنگ کیلئے کمیشن آف انکوائری قائم کیا اور انکوائری شروع کی تو رحمن ملک نے نہ صرف اِس اَمر سے ہی انکار کر دیا کہ وہ بی بی کی سیکورٹی کے انچارج تھے بلکہ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بھی جولائی / اگست 2009 میں یہ بیان جاری کیا کہ لیاقت باغ حادثہ کے موقع پر رحمن ملک بی بی کی سیکورٹی کے انچارج نہیں تھے ۔(جاری ہے)