غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے؟

رفیق غوری ۔۔۔
ایک بدبخت نے نبی آخرالزمان‘ رحمتِ دو عالم کی شان میں گستاخی کے لئے Draw Muhammad Day کے عنوان سے پوری مسلم امہ کی غیرت اور حمیت کو ایک مرتبہ پھر للکارا ہے اس حرکت پر ہم مسلمانوں نے جس طرح احتجاج کیا بلکہ جس طرح بے حسی‘ بے بسی کا مظاہرہ کیا اسے کافی لوگ رواداری کا بھی نام دے رہے ہیں مگر ایک کلمہ گو ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہم مجبوروں نے احتجاج کے سوا کچھ نہیں کیا۔راقم نے کئی دن کی خاموشی کے بعد یہ سطور لکھنے کی کوشش کی ہے کہ ذہن میں یہ بات آ رہی تھی کہ ہم حرماں نصیبوں کا لفظی احتجاج کوئی معنی نہیں رکھتا کہ شاتمِ رسول ہمارے نبی آخرالزمان کی شان میں گستاخی کرنے والے آج جس طرح دندناتے پھر رہے ہیں ماضی میں اس طرح کے سخت بلبلے کی طرح ابھرتے اور محو ہوتے رہے ہیں مگر ہم کلمہ گوئی کا دعویٰ کرنے والے جو محض احتجاجوں کے سہارے گزارا کر رہے ہیں وجہ اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے کہ ہم یہود و نصاریٰ کی خوشنودی‘ ویزوں اور غیروں سے امدادوں کے سہارے جینا چاہتے ہیں اور ہمیں یہ بھول ہی چکا ہے کہ ہمارا ماضی کیسا ہوا کرتا تھا۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مگر اب ہمیں اعلاناً مان لینا چاہئے تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہم نام لیوا ہونے کا نہیں نام نہاد عاشق رسول ہونے کا دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں ورنہ کسی شاتم رسول میں یہ تاب یہ مجال ہو سکتی ہے؟ کہ ایسی حرکتوں کے بعد وہ دندناتا پھرے اور ہم مجبوراً محض احتجاجوں اور قراردادوں کے ذریعے خانہ پوری کرتے رہیں ہم میں سے کسی کو یاد نہیں کہ ایک شاتم رسول نے ایک کتاب لکھی اور شائع کروائی تو سید عطاءاللہ شاہ بخاری مرحوم تب لاہور میں ہی آئے ہوئے تھے شاہ صاحب نے اس بات کا رات گئے اپنی تقریر میں ذکر کیا جن لوگوں نے سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تقریریں سنی ہوئی ہیں وہ جانتے ہیں کہ تب ان جلسوں کا عشاءکے بعد آغاز ہوتا اور فجر کی اذانوں تک یہ جلسے جاری رہا کرتے تھے سید عطاءاللہ شاہ بخاری مرحوم نے یہ تقریر جلسے کے آغاز میں کی غازی علم الدین شہید نے یہ بات سنی اور روایت کے مطابق شاتم رسول کو قتل کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے فجر کے بعد جب پھر اس بدبخت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کوئی ہے جو اس بدبخت کو سزا دے تو غازی علم دین جو اس کا کام تمام کرکے جلسہ میں آ چکے تھے نے روایت کے مطابق کہا تھا کہ ”شاہ جی وہ کام ہو چکا‘ اس بدبخت کا کام تمام ہو چکا“ مگر ہم میں محض قراردادوں اور غیروں کی امدادوں کے علاوہ کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔کئی سال پہلے کا ذکر ہے کہ ایک اور شاتم رسول نے اسی طرح کی ہی حرکت کی اور ایران کے امام آیت اللہ خمینی نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا امام خمینی دنیا سے اٹھ گئے مگر ایرانی حکومت نے اس فتوے کا احساس کیا لفظوں کا پاس کیا! ہمیں اپنے کہے ہوئے لفظوں کا اگر احساس ہو گا‘ پاس ہو گا تو یقیناً ایسے گستاخانِ رسول دنیا میں دندناتے نہیں پھریں گے۔ ویب سائٹوں پر مقابلے نہ ہو پائیں گے مگر اس کےلئے ہمیں کچھ عمل بھی کرنا پڑے گا کہ
لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے
ہمیں اپنے طرز عمل پر غور کرنا ہو گا اگر ہم رسول کے غلام ہیں تو ہمیں ثابت کرنا ہو گا کہ اس راہ میں ہمیں موت بھی قبول ہے چھوٹی چھوٹی دنیاوی آسائشوں‘ چند روزہ اقتدار اور دنیاوی ٹہکے کے لئے ہمیں جو کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ جو کچھ کرنا آتا ہے اس کا ذکر کرنے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے اس کے لئے ہمیں صرف اپنے اپنے گریبان میں جھانک لینا کافی ہو گا۔