در مدح حقِ سوال

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

سنو! یہ صرف حسن و دلربائی‘ اداءو نیاز اور حسن و عشق کی باتیں اور گھاتیں ہیں۔
گماں نہ کر کہ مجھے جرات سوال نہیں
فقط یہ ڈر ہے تجھے لاجواب کر دونگا
ورنہ تصوراتی معاہدہ عمرانی فرد اور ریاست کے درمیان صاف کورے کھرے تعلق کی غمازی کرتا ہے۔ جو بات بھی فرد کے ذہن میں آئیگی پوچھی جائیگی۔ جو سوال ذہن میں کھڑا ہو گا کیا جائیگا۔ حضور کوئی لحاظ نہیں‘ کوئی شرم نہیں‘ کوئی مناہی نہیں اور کوئی بھی تقدس مآب نہیں سوال کے وار سے کسی کو استثناءحاصل نہیں۔ پھر یہ بات بھی کہ وقت کی بھی کوئی قید نہیں۔ کوئی سوال زائد المعیاد نہیں۔ اگلی نسل بھی پچھلی نسل سے پوچھ سکتی ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ زمانہ گزر گیا‘ اب بات پرانی ہو گئی۔ رات گئی بات گئی۔ اعمال کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔ کھرے کھوٹے الگ الگ کئے جائیں گے۔ ہر لمحہ امتحان گاہ میں ہے۔ ہر لحظہ پیش کر غافل عمل کو ئی اگر دفتر میں ہے۔ مورخ ابن اثیر نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”اصول الحدیث“ میں بیان کیا ہے۔ حضورﷺ مدینہ منورہ کی ایک گلی میں کھڑے تھے‘ اماوس کی رات تھی‘ دو انصاری پاس سے گزرے۔ گلی میں اندھیرا تھا۔ حضورﷺ نے ان راہگیروں کو وضاحت فرمانی ضروری سمجھی کہ میں اپنی منکوحہ صفیہؓ بنت حیئی کے ساتھ کھڑا ہوں۔ یہ راہگیر بڑی خاموشی سے گزر رہے تھے۔ وہ بڑے ادب سے بولے حضورؓ ہماری جان مال اور والدین آپ پر قربان ہم کون ہوتے ہیں پوچھنے والے۔ حضور نے فرمایا شیطان انسان کے رگ و پے میں خون کی طرح ہی گردش کرتا ہے۔ اللہ کے آخری نبی انسانوں کے ”حق سوال“ کا اعلان فرمارہے تھے۔ ہر شخص کو اپنے حکمرانوں سے حکمرانی کی بابت پوچھنے کا حق حاصل ہے۔ بدو سوال کرنے میں کتنے بیباک تھے امام سیوطیؒ نے لکھا۔ ایک بدو نے بیعت کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے پوچھا کہ اس پر بیعت کی پابندی کب تک واجب رہے گی۔ فرمایا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں گا۔ یہ انسانیت کے لئے قانون کی حکمرانی کا اعلان ہے۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔ ”مرحوم“ پیپلز پارٹی جب زندہ ہوا کرتی تھی وہ جوابات ادھار نہیں رکھتی تھی۔ غلام مصطفٰی کھر گورنر پنجاب تھے موچی دروازے کی تاریخی جلسہ گاہ میں حضرت آغا شورش کاشمیری کہہ رہے تھے کہ گورنر کھر نے اپنی حفاظت کے لئے گورنر ہاوس کے ارد گرد خاردار تاریں لگوانے کا بندوبست کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سلسلہ میں ٹھیکہ دینے کا بندوبست شفاف نہیں۔ گورنر پنجاب کی جانب سے اس سوال کا فوراً خاطر خواہ جواب آیا آج وزیر اعظم گیلانی کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ادھر سے کوئی جواب وضاحت نہیں بس ایک تکرار ہے۔ ”ہمارے تین سال ابھی باقی ہیں۔ ہمیں کسی بات کی فکر نہیں۔ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ اقتدار کے خواہشمند ابھی انتظار کریں اور اپنے گھوڑے چھاوں میں باندھ کر رکھیں۔“ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ووٹر بیچارے کیا کریں؟ کیا ان کاسوا پوچھنے کا حق بھی ختم ہو چکا ہے؟ بوڑھے جیالے حسرت سے اپنی مرحوم پیپلز پارٹی کو یاد کرتے آہیں بھرتے رہتے ہیں۔ دردمند شاعر شعیب بن عزیز نے بھی کسی جیالے کی کہانی ہی بتائی ہے۔
دلِ مرحوم یاد آتا ہے
کیسی رونق لگائے رکھتا تھا
گزشتہ دو سالوں میں بینکوں نے 40 ارب کے شہر ملتان میں سرکاری خزانے سے گیلانی ہاوس کے ارد گرد 18 فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ ملتان میں غربت بے پناہ ہے۔ آپ کو یہاں اکیسویں صدی میں کچی اینٹوں سے چنی ہوئی دیواریں بھی جابجا نظر آئیں گی لیکن گیلانی ہاوس کے ارد گرد یہ دیوار صرف سریا‘ سیمنٹ‘ ریت اور کنکریٹ سے بنائی جا رہی ہے۔ حضور! پختہ اینٹیں بھی استعمال میں نہیں لائی جا رہیں۔ غریب لاچار ملتانیوں کی نظریں جب اس پختہ دیوار سے ٹکرائیں گی تو کیا قیامت بپا ہو گی۔ زمیں قیامت کے روز اپنے بوجھ اگل دے گی اور انسان سوال کریگا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ آج حکمران خزانوں کے بوجھ اکٹھے کر رہے ہیں۔ بھوکے ننگے عوام سوال کرتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ آج حکمران خزانوں کے بوجھ اکٹھے کر رہے ہیں۔ بھوکے نگے عوام سوال کرتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ہمارے آج کے مقبول سیاسی رہنماوں نے یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ مانا جاتا ہے تو کیا اکثریت کا فیصلہ ہمیشہ درست ہوتا ہے؟