جَام کا دَور

نواز خان میرانی ۔۔۔
عافیہ صدیقی سے لیکر نائن الیون تک ان لوگوں پہ دہشت گردی کا الزام لگا کر گرفتار کیا جاتا ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے۔ یا بدقسمتی سے انہوں نے پاکستان میں آنیکی غلطی کی ہوتی ہے۔ اگر معیار پابندی سلاسل و زنداں یہی ہے تو پھر حامد کرزئی ا ور اوبامہ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ پاکستان آ چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہونیوالی بم دھماکوں اور میزائل و ڈرون دہشت گردی میں بالواسطہ ملوث رہے ہیں اور اسی لئے انکا گٹھ جوڑ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی لڑائی کی طرف نورا کشتی کا روپ و رنگ اختیار کرنیکے بعد مقابلہ برابر کرا کے لڑائی بند کرا دی جاتی ہے مگر پاکستان میں اوبامہ اور کرزئی کی پذیرائی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ پختونوں اور افغانوں کا تو نہیں پتہ مگر امریکیوں اور پاکستانیوں میں ایک فرق جو واضح ہے آج تک کوئی امریکی غدار، راز فروش اور ملک دشمن ثابت نہیں ہوا۔ نہ ماضی بعید میں نہ ماضی قریب میں ماسوائے روس امریکہ سرد جنگ میں اکا دکا واقعے کے پاکستانی عوام کی حب الوطنی وقتی یعنی سیزنل ہو تی ہے۔ ملک میں کوئی خدانخواستہ افتاد پڑے جنگ چھڑ جائے یا پھر جلوس اور احتجاج نظریہ ضرورت کے تحت ضروری ہو جائے۔ ہم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اعتزاز احسن نے چیف کی چیف کے ساتھ لڑائی کے دوران موسم کی سختیوں، مشرف کی تلخیوں اور پولیس کے ہاتھوں توہین کے باوجود چیف کی ڈرائیوری کیوں جاری رکھی۔ آخر اس کے پس پردہ کوئی عوامل اور کوئی مفاد ضرور کار فرما ہو گا مگر جب جینا مرنا، اور وکلا کا دھرنا ایک ہو کر اسلام آباد پہنچ گیا تھا تو پھر اس کو کس مصلحت کے تحت ملتوی کر دیا گیا جس طرح وزیراعظم اچانک چیف جسٹس کے پاس بن بلائے پہنچ گئے تھے۔ چیف جسٹس صاحب کو اسطرح زرداری کے پاس پہنچ جانیکا مشورہ کس نے دیا تھا۔ حال ہی میں کچھ ملزمان کو عدالتوں نے مجرم قرار دیا تو اعتزاز احسن کا بیان آ گیا کہ صدر کو اختیار حاصل ہے، عدالتیں سزائیں دیتی جائیں وہ معاف کرتے رہیں۔ ایسے بیان دیکر قانون کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یا قانون کی حمایت کی گئی ہے حالانکہ اس کے لئے کسی بیرسٹری کی نہیں عام سطح کے دماغ کی ضرورت ہے کہ منصفوں اور صدر کو ملکر ملزمان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے کیا صدر کا اختیار صرف ملزم چھڑوانے کیلئے ہے پکڑوانے کیلئے نہیں؟ میرا تو خیال ہے صدر کے مشیر اور وزیر انکو صائب مشورہ نہیں دیتے۔ عوام کا کیا ہے۔ صدر زرداری خوش قسمت ہیں کہ انہیں خوش فہمیوں میں مبتلا رعایا ملی ہے جو بہت جلد امید اور حسن ظن قائم کر کے مطمئن ہو جاتی ہے اور پھر اس کی امیدوں کا محور رب کائنات نہیں اوبامہ کی نانی بن جاتی ہے۔ اللہ کا اپنے بارے میں فرمان ہے کہ مجھ سے ناامیدی شرک کے مترادف ہے مگر ہم کبھی مشرف کے کہنے پر کہ میں گارنٹی دیتا ہوں امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا حالانکہ وہ افغانستان سے نکلنے کی بجائے وہ پاکستان کو خیمہ سمجھ کر اونٹ کیطرح گھس کر نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ بات بات پر گارنٹیاں دینے والا سینے پہ ہاتھ مار کر کہتا تھا مجھ پر اعتبار کریں میں مسئلہ کشمیر حل کراﺅں گا مجھ پہ اعتبارکریں اور میں گارنٹی دیتا ہوں کالاباغ ڈیم میرے ہی دور میں بنے گا حالانکہ اقتدار کا دور جام کا دور نہیں جو بار بار آئے۔ اب امید کا محور و مرکز جمہوری چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے داماد سے ہے۔ صدیوں پہلے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا تھا کہ لوگ! آج ہمارے دور میں عمل کی اہمیت علم سے زیادہ ہے۔ ایک دور آئیگا کہ علم کی اہمیت عمل سے بڑھ جائیگی۔ آج کتابوں، کمپیوٹر، رسالوں، پوسٹروں اور دوسرے ذرائع سے علم جتنا پھیلتا نظر آ رہا ہے۔ اتنا ہی عمل کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ حکمران باعمل اسلئے نہیں ہوتے کہ وہ جمہوری دور کو جام کا دور سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ بار بار آئیگا اور یہی ہماری تنزلی کی وجہ ہے کہ ہمیں وقت کی قدرومنزلت کا احساس نہیں۔ کسی بھی بڑے عہدے پر پہنچنے والی شخصیت کا پورا خاندان لوٹ کھسوٹ میں کسی سابق گورنر کے بھائیوں کی طرح”گورنر کا بھائی کی مہر“ بنوا کر خود گورنر والے اختیارات، اور فوائد حاصل کرنے میں جت جاتے ہیں!!