تلخ اور تکلیف دہ

صحافی  |  جاوید قریشی

بعض حقائق اتنے تلخ اور تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ ان کے وجود کا اعتراف کر لینے پر طبیعت آمادہ نہیں ہوتی ۔ اپنی صفوں میں کالی بھیٹروں کی موجودگی ان تلخ حقائق میں سے ایک ہے۔ کچھ عرصہ قبل صوبہ کے پی (خیبر پختون خواہ) کے گورنر اویس غنی صاحب اپنے صوبہ کے متعلقہ افسروں کے ساتھ لاہور تشریف لائے تھے۔ گورنر ہائوس لاہور میں انہوں نے لاہور کے صحافیوں اور کالم نگاروں کو اپنے صوبہ کے حالات پر بریفنگ دی تھی۔ اس بریفنگ میں گورنر صاحب کی اعانت ان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کر رہے تھے۔ پروجیکٹر اور سلائڈز کے ذریعہ انہوں نے اپنے صوبہ میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا ایک خاکہ پیش کیا۔ اسی نشست میں ان کا یہ بیان کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں ہیں ۔ بلکہ ان میں سے کچھ تربیت حاصل کرنے کے بعد صوبہ کے ۔ پی میں بطور کمانڈرز مختلف محاذوں پر متمکن ہیں مجھ جیسے اور بہت سے سامعین کے لیے اچنبھے کا باعث ہوا لیکن اطلاع اتنے وثوق سے دی جارہی تھی اور اتنی ذمہ دار سطح پرکہ انکار کئے بنتی نہ تھی۔ اس اجلاس میں شرکت کے بعد میں اور میری طرح کئی دوسرے پریشان حال گورنر ہائوس سے رخصت ہوئے۔ اس کے بعد ہمارے صوبہ کے کئی حصوں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ جو بیشتر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ کبھی ڈیرہ غازی خان میں کوئی جان لیوا دھماکہ ہو گیا ،کبھی مظفر گڑھ میں ۔ کبھی خانیوال میں کسی مدرس کے گھرمیں چھپائے ہوئے بارود کے ذخیرہ میں دھماکے ہوگئے۔ کبھی دوردراز لاہور میں۔ غرض یہ کہ دہشت گردوں سے ہمارے اپنے صوبے اور ہمارے ملک کو بے شمار جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ سو طوہاً و کرہاً یہ تسلیم کرنا پڑا کہ دہشت گردی کے اس سرطان کی جڑیں خود ہمارے اپنے صوبے تک پھیل چکی ہیں۔ اس سے مسلسل انکار کئے جانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے \\\" مدارس\\\" کے نیٹ ورکس کے اپریل 2002 میں وزارت مذہبی امور کے ایک جائزے کے مطابق ان مدارس کی تعدادمحض 10,000 کے لگ بھگ تھی۔زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 17 لاکھ تھی۔ اس تعداد میں خواتین طالبات کی تعداد کوئی 448 تھی جو خواتین کے لئے علیحدہ قائم کئے گئے اداروں میں زیر تعلیم تھیں۔ لیکن اندازہ ہے کہ مدارس کی تعداد اب کوئی 12,000 اور ان مین زیر تعلیم طلبا کی تعدادکم از کم 20 لاکھ ہو گئی ہو گی۔ یہ تعداد محص اندازہ ہے ۔ ہوسکتا ہے حقیقت میں اس سے زیادہ ہو۔ مدارس کی تعداد جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں بڑی تیزی سے بڑھی۔اسلام میں ضیاء الحق کی دلچسپی اور اس سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل کی اصل وجہ درحقیقت یہ تھی کہ صدر موصوف اپنی حکومت کیلئے کوئی پناہ کوئی جوازتلاش کرنے کی کوشش میں تھے۔ کیونکہ غیر آئینی طور پر حکومت پر قبضہ کیا تھا وہ اس غیر آئینی اقدام کو کسی طرح بر حق ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ضیاء الحق نہ تو مذہبی عالم تھے ، نہ اسکالر تھے۔وہ ایک عام سے اوسط درجہ کے مسلمان تھے لیکن پابند صوم و صلوٰۃ ۔ ان کی دینی تربیت ان کے والد کے زیر نگرانی ہوئی ہو گی جو خود بھی فوج کے ایک یونٹ میں امام تھے۔ اس سطح پر زیادہ علم و دانش کی ضرورت ہوگی نہ موصوف نے حاصل کی۔
ضیاء الحق کے زمانہ میں علماء کا ایوان صدر سے براہ راست رابطہ رہتا تھا۔ بعض اہم فیصلے ان لوگوں کی مشاورت سے طے پاتے ۔جن کی انتظامیہ کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ اس زمانہ میں نیم خواندہ افراد جو خود کو عالم دین گردانتے اور کہلواتے تھے۔ ان کے اشارے پر حکو مت کی پالیسیاں بنتی اور بگڑتی تھیں۔ اس زمانے میں میں بطور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ صوبائی زکوٰۃ کونسل کا ممبر تھا۔ کونسل کی صدارت ہائی کورٹ کے جج کرتے تھے۔ صوبائی زکوٰۃ کونسل سے دینی مدارس کو امداد بھی دی جاتی تھی۔ اپنے اداروں کا نظام تعلیم کہ وہاں کیا پڑھایا جا ئے گا کیا نہیں۔ ادارے خود ہی طے کرتے تھے۔ ایک اجلاس میں میں نے تجویز دی کہ اداروں میں \\\" جدید علوم\\\" جیسے ریاضی، سائنس، فزکس، کمسٹری وغیرہ کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ یہ سن کر ان مدارس کے نگران اس قدر بھڑکے کہ پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔ یہ ان اداروں کا ذکر ہے جن کو باقاعدہ سرکاری امداد ملتی تھی۔ وہ اپنے کورسز سے آگے کچھ پڑھانا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن پھر بھی یہ ادارے غریب اور نادار بچوں کے لئے ایک نعمت غیرمترقبہ تھے۔ تعلیم ، خوراک مفت اور اس کے علاوہ ملازمت کی آس۔یہی وہ آسانیاں اور سہولتیں ہیں جو نادار بچوں اور ان کے والدین کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ جھنگ سے بہاولپور تک جگہ جگہ مدارس بھرے پڑے ہیں۔ ان کی سر پرستی بڑے بڑے مقامی زمیندار کرتے ہیں۔ اس علاقہ کے چھوٹے چھوٹے شہر اور قصبات مفلس اورنادارلوگوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب امارات اور کویت کے شہری اسے اسلام کی خدمت سمجھتے ہوئے اس علاقہ میں دل کھول کر رقم خرچ کرتے ہیں۔ مارچ 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 فیصد مدارس کا تعلق فرقہ وارانہ تنظیموں سے ہے۔ لیکن مدارس کی واضح اکثریت 90% جہاد اور منافرت کی تعلیم نہیں دیتی۔ یہ اور بات کہ اس کے یہاں دی جانے والی تعلیم جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔
پنجاب کے شدت پسندوں کے طالبان کے ساتھ رابطے ہیں۔ آمدورفت دو طرفہ ہے۔ طالبان کمانڈرز ان کے یہاں آ کر حسب ضرورت قیام کرتے ہیں۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق جھنگ پولیس نے کالعدم تنظیم کے ضلعی صدر کے خلاف ایف ۔ آئی۔ آر درج کی ہے کہ وہ طالبان کمانڈوز کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔ یہ رپورٹ پولیس کی انٹیلی جنس پر مبنی تھی کہ طالبان جنوبی پنجاب میں طاقت پکڑتے جارہے ہیں۔ جہاں وہ \\\" رضا کار\\\" بھرتی کرتے ہیں اور فنڈز اکٹھے کرتے ہیں۔ یہ کام جھنگ اور نواحی اضلاع میں ہو رہا ہے ۔ اگلے روز ہی ڈیرہ غازی خان سے ایک پنجابی طالبان کمانڈر نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا کہ اس کا ضمیر اور زیادہ برداشت نہیں کر سکا وہ خود کش حملے جن کی منصوبہ بندی اس نے کی تھی بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں پر بھی منتج ہوئے۔جس سے نہ جانے کتنے بے گناہ مسلمان لقمئہ اجل بنے۔
اس صورت حال کا مقابلہ کرنا محض حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری قرار نہیں دی جا سکتی ۔ ظاہر ہے حکومت تو اپنی ذمہ داری پوری کرے گی ہی لیکن عام شہریوں کو بھی چاہئے کہ اپنے کان کھلے رکھیں ۔ جب بھی کوئی غیر معمولی حرکت ان کے علم میں آئے اس کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تا کہ وہ اس کا قلع قمع کر سکیں۔ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو لوگ ہماری نیتوں پر شک کریںگے کہ ہم آخر ہیں کس طرف؟
یہ بحث بھی اب ختم ہو جانی چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدا ء میں یہ جنگ کسی اور کی ہو لیکن نقصان اس میں سب سے زیادہ کس کا ہو اہے؟ ہزاروںسکیورٹی فورسز کے افراد اور ہزاروں نہتے بے گناہ شہری ان درندہ صفت لوگوں کی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ۔ بیٹیاں بیوہ ہوئیں۔ بچے یتیم اور بزرگ اپنے بڑھاپے کے سہاروں سے محروم ۔ اقتصادی طور پر ہمارے ملک کو 30/35 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ۔ صنعت کا نقصان، زراعت کا نقصان۔ زندگی کے ہر شعبہ پر اس جنگ کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قوم کو اپنی سکیورٹی فورسز ، اپنی افواج اور ہر اس شخص کی مدد کرنی چاہئے جو ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ آئیے سب مل کر عہد کریں کہ دشمنوں کے ناپاک ارادوں کوخاک میں ملا دینے تک ہم میں سے کوئی چین سے نہ بیٹھے گا۔