تعزیتی ریفرنس

ڈی ایس پی غلام عباس..............
گذشتہ دنوں چیمبر آف کامرس کے کشادہ ہال میں پولیس کے بہادر سپوت کانسٹیبل محمد یاسین بٹ کی شہادت کے ضمن میں تعزیتی ریفرنس ہوا۔ 8 مارچ سپاہی محمدیاسین بٹ نے آٹھ پولیس افسران وجوانوں کو شہید کرنے والے انتہائی خطرناک اشتہاری آصف عرف وڈھو کے ساتھ مقابلے میں جام شہادت نوش کیا۔ تعزیتی ریفرنس کے دوران شہید یاسین بٹ کے والد اسٹیج پر تشریف لائے تو پورے ہال نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ شہید کی لازوال بے مثال قربانی پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ شہید کے والد محترم نے بانگ دہل کہا کہ شہریوں کے جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے بیٹے نے جس بہادری سے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی ہے اس پر ہمارے خاندان کو فخر ہے۔
ڈی آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ صاحب نے کہا کہ ہمیں اپنے ہیرو پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ قرآن پاک نے واضح کہا ہے کہ شہید زندہ ہوتاہے۔ پولیس نے اس آیت مقدسہ کی عملی تعبیر کردکھائی ہے۔ ڈاکوﺅں دہشت گردوں‘ سفاک اشتہاریوں سے مقابلے کے دوران شہید ہونے والوں کی سروس فائل بند نہیں ہوتی بلکہ شہید کے ورثاءکوباقاعدہ تنخواہ ملتی رہتی ہے اور ہر سال کی انکریمنٹ بھی لگائی جاتی ہے۔ جرم کرنے والا خواہ کتنا ہی چالاک اور با اثر کیوں نہ ہو ایک دن مکافات عمل کا شکار ہوتے ہوئے قانون کے شکنجہ میں ضرور آتاہے۔ خدا کے ہاں دیر ہوسکتی ہے اندھیر ہرگز نہیں۔ درندہ صفت آصف عرف وڈھو بیسیوں شہریوں سے کروڑوں روپے تاوان وصول کرتا رہا ہے اور آخر آٹھ مارچ کو اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ محافظ اور مجرم کا فرق ملاحظہ کیجئے۔ آٹھ مارچ محافظ اپنی جان نچھاور کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا جبکہ مجرم حرف غلط کی طرح مٹ کر رہ گیا۔ محافظ کو سلامی دی گئی اورمجرم کی موت پر نفرت و حقارت کے پتھر برسائے گئے۔آصف وڈھو اور کالے گجر کی لاشیں جب پہلوانوں کے شہر میں لائی گئیں تو عوام نے پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے اور آصف عرف وڈھو کو موت کے گھاٹ اتارنے والے بہادر پولیس افسران کو پھولوں سے لاد دیا۔ اتنی گل پاشی ہوئی کہ جی ٹی روڈ پر چہار سو پھول ہی پھول تھے۔ آئیے امن عامہ تہ و بالا کرنے اور خود کش حملوں میں ملوث انسانی صورت میں بھیڑیوں کی نشاندہی کریں اور ان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کے لئے عدالت میں لا کھڑا کریں۔ پولیس حسب روایت شہریوں کے جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے پیش پیش ہے۔