بالا تر و بالادست ۔ کون؟

اعجازالحق ..............
پارلیمنٹ سے منظور شدہ اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے پچھلے چند ہفتوں میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ صائبِ الرائے، صاحبِ ادراک اصحاب نے اپنے اپنے فہم میں مختلف زاویوں اور پہلوﺅں سے اس کی تدوین، نفا ذ اور قوتِ نافذہ کا جائزہ لیا ہے۔ ان ترامیم کو ترتیب و تدوین دینے والی آئینی کمیٹی پرحکومتی حلقوں کی جانب سے داد و دہش اور واہ و اہ کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ اس جشنِ عید کی آڑ میں اخلاقی مجرموں کی بیڑیاں کھولی جا رہی ہیں۔ آئین ۳۷۹۱ءکو اپنی ابتدائی اور اصلی صورت میں بحالی اور آمرانہ آمیزشوں سے پاک کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی عمائدین جماعتی جیالوں اور شیخی بازوں نے آسمان سر پر اُٹھالیا ہے ۔ اس کے حسن و قبح سے بے خبر اور بے نیاز اس ترمیم اور حکمرانوں کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اس ترمیم کے ذریعے ننگے بدن اور بھوکے پیٹ عوام کی انگلیاں گھی میں ہوں گی اور سر کڑاہی میں۔ وطن عزیز کے چاروں گوشوں میں دودھ کی نہریں اور شہد کے چشمے ابل پڑیں گے۔ عوام کی جملہ خواہشات و ضروریات پوری ہوں گی۔ انصاف دہلیز پر ملے گا۔ روٹی کپڑا اور مکان میسر ہو گا۔ بنجر ہوتی ہوئی زمینوں، جانوروں اور انسانوں کو صاف و شفاف پانی کثرت سے ملے گا۔ بجلی پوری فراوانی سے وافر و سستی ملے گی۔ نہ اندھیرا ہو گا نہ اندھیر نگری ہو گی۔ ہر طرف چین ہو گا ۔ راوی چین ہی چین لکھے گا۔ عوام با اختیار، مطمئن، خوش، خوشحال اور مالا مال ہو گی ۔
دوسری طرف متذبذب، ششدر اور پریشان حال عوام سوچنے پر مجبور ہے کہ خربوزوں کی رکھوالی گیڈر کیسے کریں گے۔عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ملکی خزانے کی رکھوالی ڈاکو لٹیرے کیسے کر پائیں گے۔ جعلی ڈگریاں جیب میں رکھنے والے، فراڈیے سچ اور انصاف کے علمبردار کیسے بن جائیں گے؟ مگر حکومت خوش اور حزبِ ِ اختلاف مطمئن ہے۔
عوام کی بات کرنے وا لا کوئی نہیں۔ امداد باہمی اور ستائشِ باہمی کے حامل یہ خواتین و حضرات اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اس سارے کھیل میں موجودہ حکمرانوں اور آئندہ حکمرانوں کے لیے سب کچھ ہے۔ ان کے لیے بھی بہت کچھ ہے جو اپنی باری بھگتا رہے ہیں اور ان کے لیے بھی کافی پس خوردہ ہو گا جو اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔
من ترا ملا بگویم ، تو مرا حاجی بگو
اس منافقت با زی اور ملمع سازی میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں اہلِ پاکستان پر اتنا برا وقت کبھی نہیں آیا جو آج ہے۔ لو گ اس نظام اور اس جمہوریت پر تین حرف بھیج رہے ہیں جس نظام کے علمبردار حکمران اور منتظر حکمران دونوں ہیں۔ اندھے، بہرے بے حس حکمرانوں کی نااہلی، عاقبت نااندیشی بد دیانتی اور بد طینتی کے ستائے ہوئے نان و نفقہ کو ترستے عوام مجبورِ محض ہیں ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں
نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
ان کوتاہ نظر فرزانوں کی تجویز شدہ ترمیم کے دوررس اور مضر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے بشمول راقم ، عدالتِ عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس وقت عدلیہ ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کی طرف ہر نظر اُٹھتی ہے کہ وہاں سے ہی مدد اور مداوا کی اُمید ہے۔ ادھر یہ بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ ہی ہمہ مقتدر ، بالا دست و بالاتر ، عقلِ کل، منصفِ مطلق، اعلیٰ و ارفع اور ہر خامی سے پاک ادارہ ہے۔ جس کا کہا اور لکھا ہی حتمی اور حرفِ آخر ہے۔ کسی بھی دوسرے آئینی اور قانونی ادارے کو پر مارنے کی جرا ت نہیں ورنہ پر جل جائیں گے یا جلا دیئے جائیں گے۔ گویا
’مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا‘
دھمکانے اور دھمکیاں دینے کی نئی روایات ڈالی جا رہی ہیں حزبِ اختلاف جو آئینی حکمرانی ، قانون کی بالا دستی اور حق و انصاف کی مالا جپتے نہیں تھکتی اس کے روحِ رواں نے بھی پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ جب کہ دوسرے اکابرین نے بھی مبہم اور غیر واضح موقف اختیار کیا ہے ۔ اس آئینی حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو جوڈیشل پاور یا جوڈیشل ریو یو ( Judicial Power یا Judicial Review ) کے اپنے آئینی اختیار سے کیسے محروم اور دست بردار رکھا جا سکتا ہے۔ آئینی نکتہ سنجی اور وضاحت و توضیح کا اختیار صرف اور صرف اعلیٰ عدلیہ کو حاصل ہے۔ اس دو ٹوک رائے کو مشکوک اور اختلافی نکتہ بنانے کی مذموم مہم چلائی جا رہی ہے جب کہ قوم پوری یکسوئی کے ساتھ عدلیہ کے پیچھے آن کھڑی ہوئی ہے۔
صدر، وزیراعظم، مقننہ یا پارلیمنٹ ، عدلیہ انتظامیہ تمام آئینی ادارے ہیں جو آئین کی پیدوار ہیں۔ اور آئین سے ہی اپنی ہیئت، ترتیب و ترکیب ، قوت اور طاقت پاتے ہیں۔ آئین ہی وہ بنیادی دستاویز ہے جو ان اداروں کی ترقی، ترویح ارتقا اور بقا کی ضامن ہے۔ جو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے تفویض شدہ آئینی فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے پابند ہیں۔
آئینی اصلاحات کی حکومتی کمیٹی کے بند کمروں میں منعقدہ خفیہ اجلاس، کچھ بھی نہ بولنے اور نہ بتانے سے متعلق حلف نامے اور عہد نامے، چوری چھپے کی ملا قاتیں اور سمجھوتے ۔ آخر پارلیمنٹ کے ایکٹ اور پبلک لاءکے حامل معاملات کو متاثرہ پبلک اورعام پاکستانی سے اس قدر راز داری میں اور خفیہ رکھنے کے کیا اسباب تھے؟ کیا ایسے اقدامات و حرکات کسی بدنیتی کا شاخسانہ تو نہ تھے؟ جبکہ جمہوری تقاضہ تو یہ تھا کہ اس قدر وسیع، جامع اور مختلف الجہت آئینی ترامیم کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے پوری قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا۔ تاکہ عوامی حمائت اور اکثریتی تائید حاصل ہو جاتی۔ آخر حزبِ اختلاف کو کیا خوف مانع تھا کہ اس فریب کاری میں حکومتی حلقوں کی ہم نوا بن گئی۔ (جاری ہے)