اللہ خیر کرے

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

پاکستان کے اندرونی و بیرونی افق پر دیکھتے ہی دیکھتے غیر متوقع طور پر ایسے سیاہ بادل نمودار ہونے کا آغاز ہو گیا ہے جو وطن عزیز کی قومی سلامتی کے لئے نیک فال قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ فاٹا کے حالات اور دیگر صوبوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے تو قوم معمول تسلیم کرتے ہوئے عادی ہوتی جا رہی ہے لیکن ناقابل برداشت مہنگائی اور بے روز گاری کے ساتھ لوڈ شیڈنگ کا بحران بھونچال بن کر سامنے آیا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ ہی ہزارہ میں نئے صوبے کا نعرہ بلند ہوا۔ جنوبی پنجاب میں سرائیکی کی سلگتی ہوئی تحریک نے صوبہ بہاولپور کے مطالبہ کی شکل اختیار کر لی اور اس ہلچل کے عالم میں وزیراعظم نے سندھ میں ضلع حیدر آباد کو موجودہ حدود میں عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے پرانی حدود کو بحال کرنے کا اشارہ دے دیا اس پر ایم کیو ایم نے جس سنگین احتجاج کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک سیاسی بحران سے کم نہیں ہے لیکن اس اندرونی محاذ آرائی کو ہالی وڈ کی ڈراﺅنی فلموں کا رنگ دینے کےلئے عدلیہ اور انتظامیہ کے ستونوں کے درمیان ٹکراﺅ کا جو ممکنہ نقشہ پیش کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے دعائے خیر کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ عین اس وقت نیویارک کے ٹائم سکوائر میں ایک گاڑی میں رکھے ہوئے بم کے باعث دہشت گردی کا ایک منصوبہ ناکام بنا دیا جاتا ہے اور اس جرم میں ملوث گرفتار کئے جانے والا ملزم ایک ایسا امریکی شہری ہے جس کے حسب نسب کا تانہ بانہ پاکستان سے جا ملتا ہے لیکن ہر ڈراﺅنا کھیل وقت کے ہاتھوں کھلونا بن کر ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے۔ یہ حالات و واقعات کچھ قدرت کے پیدا کردہ ہیں اور کچھ شامت اعمال کی صورت میں ہمارے اپنے پیدا کردہ۔گزشتہ رات لاہور کے بدنام زمانہ علاقہ”بازار حسن“ میں یکے بعد دیگرے چھ عدد بم دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں پورے علاقے میں بلکہ پورے لاہور میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے اگرچہ ان تنگ و تاریک گلیوں میں صرف دس افراد زخمی ہوئے ہیں اور سرچ آپریشن میں تا دم تحریر صرف پانچ اشخاص گرفتار کئے گئے ہیں لیکن چونکہ اموات واقع نہیں ہوئیں اس لئے کوتوالی شہر نے یہ نصف درجن پٹاخے معمول کی مجرمانہ حرکت قرار دیتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف متعلقہ تھانہ ٹبی میں رپورٹ درج کر لی ہو گی۔ اس لئے پنجاب کے دارالحکومت میں رہنے والے خاص طبقہ کو اپنی نیند میں کسی خلل اندازی کا خطرہ محسوس کرنے کی قطع ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے ان کے جان ومال کی حفاظت کےلئے شہر کے 285 مقامات پر پولیس نے ناکے لگا رکھے ہیں جن سے عوام کی بھلائی کم اور قانون کی نفی کرنے والے اداروں کی کارکردگی بلاشبہ ثمر آور رہتی ہے پھر بھی ایک کروڑ کی آبادی کے شہر میں صرف اقبال ٹاﺅن یا بازار حسن جیسی آبادیوں میں دس بیس افراد شدید زخمی یا حادثاتی ہلاکت کا شکار ہو جائیں تو آٹے میں نمک برابر چند بے نام افراد کے ہونے یا نہ ہونے سے کوتوالی میں بسنے والے صاحب اتھارٹی مکینوں کو نہ کبھی پہلے احساس ہوا ہے اور نہ آئندہ کسی انقلاب کی امید رکھنی چاہئے۔ اللہ خیر کرے کی دعا کے سوا یہ خاکسار اور کیا کر سکتا ہے۔ قدرتی حوادث کے ناطے سے گلگت کے شمال میں دریا نے ہنزہ نے اچانک 26 کلومیٹر لمبی جھیل کی صورت اختیار کر لی ہے۔ کیا سچ مچ کسی الہ دین کے چراغ سے راتوں رات یہ جھیل معجزانہ طور پر آسمانوں سے نازل ہو گئی ہے یا آب زمزم کی طرح زمین کا سینہ پھاڑ کر غیب سے ایک معجزہ برپا ہو گیا ہے لیکن کہنے والوں کے مطابق کئی سال پہلے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بڑے تودے نے گر کر دریائے ہنزہ کے سامنے ایک پہاڑی کی مانند ایسا بند باندھ دیا جیسے انسان نے 50برس پہلے تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ کے سامنے پتھر اور سیمنٹ اور ریت کا مصنوعی پہاڑ کھڑا کر دیا تھا۔ اب تربیلا ڈیم کی طرح دریائے ہنزہ پر عطا محمد جھیل نے ہنزہ دریا میں جنم لیا جو اب 26 کلومیٹر میں پھیل کر خطرے کی گھنٹیا ں بجا رہی ہے۔ اس تمام عرصہ کے دوران کسی مقامی علاقائی یا مرکزی حکومت کو ٹس سے مس ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور اب جب کہ فوج کے سپاہی سے لے کر چیف آف آرمی سٹاف تک اور مقامی آبادی کے یونین کونسلر کے چیئرمین سے لے کر وزیراعلیٰ گلگت و بلوچستان اور وزیراعظم پاکستان بھاگے بھاگے جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں۔ جسے ٹیلی ویژن میں دیکھ دیکھ کر میرے ایک ملازم تنویر نے جب اچانک مجھ سے سوال کیا کہ اتنے سالوں سے مقامی گورنر وزیراعلیٰ اور وفاقی حکومت کے وزراءاور وزیراعظم کیا محو خواب تھے تو اب کیا ہو گا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ جس پر میں نے تسلی دیتے وہئے جواب دیا کہ اللہ خیر کرے گا۔