اسلامیانِ عالم ناموسِ رسالت مآب ﷺ کے تحفظ کی خاطر جان بکف ہیں

نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور پاکستان موومنٹ ورکرز ٹرسٹ نے شاہراہِ قائِداعظم محمد علی جناح لاہور پر واقع ایوانِ کارکنان تحریکِ قیامِ پاکستان کی جدید لائبریری میں 22 مئی 2010ءکو گیارہ بجے قبل از دوپہر سے دو بجے تک ایک ایسی دینی و اسلامی فکری نشست کا اہتمام کیا جس میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور نوائے وقت گروپ کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی کے ایما پر پاکستان کے ممتاز علمائے کرام و مشائخِ عظام کے علاوہ صحافیوں، دانشوروں، تعلیمی ماہروں، مذہبی مفکروں اور سیاستدانوں نے اس امریکی فیس بک ویب سائیٹ کی شدید مذمت کی جس نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں توہین انگیز خاکوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، وہ اجتماع بلاشبہ تمام اسلامیانِ عالم، مسلمانانِ پاکستان اور لاہور کے فرزندانِ توحید کے احساسات کی نمائندگی کر رہا تھا، اس اجتماع کے منتظمین نے صدارت کے لئے مجید نظامی ہی کو مدعو کیا تھا مگر انہوں نے تجویز کیا کہ علماءو مشائخ میں سے کوئی شخصیت صدارت کے فرائض ادا کرتی تو زیادہ موزوں ہوتا چنانچہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری نے جو نظامت کے فرائض ادا کر رہے تھے پیر کبیر علی شاہ کا نام تجویز کیا اور وہ صدارت کے سنگھاسن پر متمکن ہوئے، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد نے ابتداً اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائیکورٹ لاہور کو مبارکباد کا مستحق ٹھہرایا کہ انہوں نے ”فیس بک“ اور ”یو ٹیوب“ پر پابندی عائد کردی، انہوں نے ترکی کے اس نوجوان فرزندِ اسلام کو بھی ہدیہ تہنیّت پیش کیا جس نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے فیس بک ویب سائیٹ کے گستاخانہ خاکوں کو وائرس سے اڑا دیا، ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے غازی علم الدین شہید کے عظیم الشان کارنامے کی یاد بھی تازہ کی اور فرمایا کہ لاہور کو وہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس شہرِ بے مثال کے نوجوان مسلمان غازی علم الدین شہید نے 1927ءمیں لاہور میں راجپال نامی اس ہندو کو ہسپتال روڈ پر دن دیہاڑے اور اس کی دکان کے اندر داخل ہو کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جس نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس و والاصفات کے بارے میں ایک ناقابل برداشت کتاب شائع کی تھی، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یوروپ میں تو بہت عرصے سے توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلامیانِ عالم کی دل آزاری کی جا رہی ہے اور اب امریکی فیس بک وہیب سائیٹ نے بھی مسلمانانِ عالم کی دل آزاری کا سامان کیا ہے، وہ سلسلہ ڈنمارک کے ایک بدبخت نے شروع کیا تھا مگر پورا عالم اسلام وہ صورتِ حال پیدا کرنے والوں کی مذمت کر رہا ہے جبکہ پاکستان پر ان خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کرنے کا زیادہ فرض عائد ہوتا ہے کیونکہ پاکستان تو قائم ہی دین اسلام کی سربلندی اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لئے ہوا ہے اور پاکستان میں عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا بھی جا رہا ہے جو اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ پاکستان کوئی سیکولر ریاست نہیں ہے، آج جن دیگر شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے ایثار و قربانی سے معمور جذبات کی جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ان میں مولانا راغب نعیمی، علامہ احمد علی قصوری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، بیگم بشریٰ رحمان، پروفیسر عبدالرحمان بخاری، پروفیسر غلام سرور رانا، مولانا محمد شفیع جوش، ڈاکٹر ایم اے صوفی اور صاحبزادہ نصیر احمد قادری شامل تھے جبکہ مجید نظامی نے بطور مہمان خصوصی تمام مقررین کے جذبات کو اپنے الفاظ کا ملبوس عطا کرتے ہوئے فرمایا:
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
دراصل بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کا یہ شعر آج مجید نظامی کے ایما پر اس احتجاجی تقریب کا موضوع سخن رکھا گیا تھا، چنانچہ تمام مقررین اپنے ایمان و اطاعت کے اعتبار سے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت و ناموس پر قربان و فدا ہو جانے کے لئے تیار نظر آتے تھے۔ صدر مجلس کی طرح دیگر تمام جیّد مقررین نے بھی واشگاف الفاظ میں کہاکہ ہم اس حقیقت پر یقینِ کامل اور ایمانِ مکمل رکھتے ہیں کہ ہمارے اجسام و ارواح میں جب تک نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کی خاطر جاں بکف ہو جانے کا جذبہ موجزن نہیں ہوگا ہمارا یقین و ایمان بھی کامل و مکمل نہیں ہو سکتا۔ مجید نظامی بھی ہمیشہ کی طرح آج اس جذبہ سے سرشار تھے، انہوں نے اپنے روائتی دو ٹوک الفاظ میں حالاتِ تازہ کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ طاغوتی طاقتوں کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت مسلمانوں کے خلاف اسی صلیبی جنگِ جاریہ (کروسیڈ) کا درجہ رکھتی ہے جس کا آغاز مجاہدِ اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی کے عہدِ حکمرانی میں ہوا تھا اور عہدِ حاضرہ میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے باقاعدہ نام لیکر اس صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا، یہ جنگ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے پیچھے یہود و ہنود کی سازشیں بھی ایک مستقل ریشہ دوانی کے طور پر موجود ہیں، دراصل یہود و ہنود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ایک شیطانی اتحادِ ثلاثہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ مجید نظامی نے ترک نوجوان کو دلی مبارکباد دی کہ اس نے ویب سائیٹ پر گستاخانہ خاکوں کو ”ہیک“ کر لیا، آئندہ بھی ہمیں ایسی کسی بھی جنگ اور مذموم حرکت کو نابود کر دینے کے لئے ایثار و قربانی کے میدان میں اتر جانا ہوگا مگر افسوسناک صورت وہ ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے حکمران تو اس بارے میں ایک کڑی بے حسی کا مظہر بنے بیٹھے ہیں خصوصاً سعودی عرب کے بادشاہ ، مصر کے ڈکٹیٹر اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان گستاخانہ خاکوں کے خلاف کوئی جان دار بیان نہیں دیا، محض دفتر خارجہ کی (احتجاجی) لب کشائی ہی کافی نہیں شاید وہ اس لئے ہو رہا ہے کہ جناب قائِداعظم کی عظیم الشان قیادت میں اسلام کی ایک تجربہ گاہ استوار کرنے کے لئے جو پاکستان قائم کیا گیا وہ پاکستان اب ساستدانوں اور جرنیلوں کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا۔