’’جے میں پُلس نوں آکھاں چور تے فیدا کی ‘‘

’’جے میں پُلس نوں آکھاں چور تے فیدا کی ‘‘

ملک میں امن و امان کا قیام، قانون کی پاسداری اور جرائم کا سدباب حکومتی ذمہ داریوں میں سرفہرست ہے۔ اس ضمن میں عرصہ دراز پہلے جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک اشتراکی نظریے کے حامی WEBER نامی شخص نے کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کا حق صرف ریاست کو ہے اور یہ حق کوئی فرد واحد، افراد کی جماعت یا کوئی تنظیم استعمال نہیں کر سکتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جدید حکومتی نظام کا جز بن گیا۔ مزید براں اُس نے مسلح افواج اور پولیس کو حکومت کے وہ دو مرکزی ادارے قرار دیا۔ جن کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امن و امان کا قیام، عوام کے حقوق کی حفاظت اور جرائم کا خاتمہ پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان فرائض کی انجام دہی کے لیے حکومت پو لیس کو اختیارات تفویض کرتی ہے۔ جس میں طاقت کا مناسب اور جائز استعمال بھی شامل ہے۔ لیکن یہ اختیار غیر محدود، وحشیانہ اور ظالمانہ قطعاً نہیں ہیں۔ بلکہ پولیس یہ اختیارات قانون کے دائرے اورحدود میں رہ کر استعمال کرنے کی پابند ہے۔ چنانچہ پولیس کو اپنے اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ایک ضابطے کا پابند کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کے مرتکب نہ ہوں۔بدقسمتی سے پاکستان میں پولیس کی کار کردگی کسی بھی طرح عوامی امنگوں پر پوری نہیں اُترتی جس کی اصل وجہ اس کا اپنے اختیارات کا ناجائز اور اندھا دھند استعمال ہے اور اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت پیدا ہو رہی ہے اور آئے روز پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل اور غارت کی ورداتیں مشاہدے میں آتی ہیں۔ ایک تجربے کے مطابق نام نہاد اور جعلی پولیس مقابلوں میں عام طور پر مقابلہ یک طرفہ ہو تا ہے اور صرف گواہی چھپانے یا اپنی غیر قانونی کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لیے پولیس اسے مقابلے کا رنگ دیتی ہے۔ اس کی مثال چند ماہ پہلے ایک پولیس افسر نے اپنے بیان سے دی جس میں اُس بات کا انکشاف کیا کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے اُسے مختلف افراد کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے احکامات ملتے رہے اور ہمیشہ کی طرح اس خبر کو دبا دیا گیا۔ دراصل پولیس کی طرف سے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کی اصل وجوہات میں اُن کی سیاسی وابستگی اور ACCOUNTIBILITY یعنی جوابدہی کا فقدان بہت اہم ہیں۔پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد ہمیں پولیس ایکٹ 1861ء ورثے میں ملا۔ پولیس کے اس قانون کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا تا رہا اور اس کو تبدیل کر دیاگیا۔ لیکن وقت گواہ ہے کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود یہ قانون مجسٹریٹ ملکی ماحول اور طبعی صورت حال کے لیے بہت موزوں اور فائدہ مندتھا۔ کیونکہ یہ پولیس کو اُس کے غیرقانونی استعمال سے ماورا رکھتا تھا۔ اس قانون کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سب ڈوثیرنل مجسٹریٹ ضلع میں پولیس کے کام کی نگرانی اور اُس کو درکارمدد مہیاکرتے تھے۔ مثلاً عوامی ا حتجاج کے دوران یہ عہدے دار پولیس اور احتجاج کرنے والے میں BUFFER یعنی براہ راست ٹکرائو روکنے والے عنصر کا کام سر انجام دیتے تھے۔ اس قانون میں تبدیلی ہی کی وجہ سے ملک میں آئے دن ماڈل ٹائون لاہور اور ڈسکہ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔1861ء کے پولیس قانون کو 2002ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں تبدیل کیا گیا ۔ نئے قانون میں قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مختلف کمیٹیاں بنائی گئیں۔ تاکہ اُن کے ذریعے پولیس کی کار کردگی کو بہتر بنایا جائے اور اس فورس پر حکومتی کنٹرول اور مضبوط ہو ۔ لیکن سیاست دانوں کی عدم دلچسپی اور تعاون کی کمی اور بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی فورس کے بنیادی ڈھانچے میں مثبت اور دور رس تبدیلیاں کرنے کی بجائے صرف روزمرہ کے پولیس ایکٹ میں صرف COSMATIC تبدیلیاں کی گئیں۔ مثلاً IGP، PPO، ڈی آئی جی کو RPO اور ضلعی ایس پی کو DPO، کے ناموں سے تبدیل کر دیا گیا۔ موجود قانون کے مطابق ایس ایچ او کو وسیع اختیارات دئیے گئے ہیں اور ایک ملزم کے حوالے سے اُس کو تفتیش، حراست میں لینے اور بری کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں عموماً ایس ایچ او کے عہدے پر نان گزٹیڈ اور ادنیٰ گریڈ کے اہل کار کو تعنیات کیا جاتا ہے۔ مزید برآں مختلف تھانوں میں اُس کی تعیناتی اور تبادلہ اُس کی سیاسی وابستگیوں پر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو انصاف کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے نیز اس سے ملک میں امن وامان کی صورت حال تنزلی کا شکار ہے۔
قارئین! محکمہ پولیس کی کارکردگی کاملکی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود سے گہرا تعلق ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت اس اہم قومی ادارے کی مکمل تنظیم نوکرے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے ۔ جس میں پولیس اہل کار اپنے صوابدادی اختیارات کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ مزید برآں پو لیس کے محکمے کو سیاسی عمائدین کی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔ صرف اُس ہی صورت میں پولیس کی موجودہ حالت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں مزاحیہ شاعر جناب ابوذر کا ایک شعر جو حسب حال ہے۔ پیش خدمت ہے
’’جے میں پُلس نوں آکھاں چور تے فیدا کی
پچھو کردا پھراں ٹکورتے فیدا کی‘‘