کشمیر میں کافرانہ عیاری و زناری

کالم نگار  |  نواز خان میرانی
 کشمیر میں کافرانہ عیاری و زناری

عالمی برادری ہمارے ملک کو نجانے کس نظر سے دیکھتی ہوگی، جہاں آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ملک میں آمریت کا دور دورہ رہا۔ یحییٰ خان جسکی رانی جنرل رانی کہلائی اور وہ ملک کو دولخت کرنے کا سبب بنا۔ یحییٰ خان ہمارے ملک کا نیرو تھا، اس کے بعد جنرل مشرف، بھارت کی بجائے اپنی رعایا کو مکے دکھاتا رہا اور اس نے اپنے اعمال کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور اب بڑے فخر سے کہا ہے کہ ضرب عضب کی شروعات بھی میں نے کی تھی، کشمیر کو عملاً دیوار برلن تعمیر کر کے دو حصوں میں تقسیم کرنیوالا اور ملک میں ڈرون حملوں کا بانی کشمیر کو ’’کور ایشو‘‘ کہنے سے کتراتا رہا۔ جنرل ایوب بیرون ملک اور اندرون ملک غیر ملکی سربراہوں سے مشترکہ اعلامیے میں ہمیشہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنیکی ضرورت پہ زور دیتے رہتے اور جنرل ضیاء الحق تو ببانگ دُہل یہ کہتے تھے کہ روس کی افغانستان میں یلغار اور قبضے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے بعد یکسو ہو کر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرا لیں گے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرینگر تک مجاہدین کی مکمل رسائی تھی اور اسرائیلی کمانڈوز اور بھارتی کمانڈر کو ان کے خیموں سے مجاہدین اٹھا لیا کرتے تھے۔ ان کی قسمت اگر وفا کرتی تو ایک فوجی حکمران کے دور میں کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ ان دونوں حکمرانوں کے دور میں امن و امان مثالی تھا۔ بدقسمتی سے اب سیاسی حکمرانی میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ بھی سیاسی بن چکا ہے جس کی کاکردگی اور مراعات و مفاد کو کسی طور رزق حلال نہیں کہا جا سکتا۔ ان زمینی حقائق کی روشنی میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ سیاسی اور فوجی حکمران ہم آہنگ ہو کر ملک کے مفاد میں یکجا نظر آتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کی ساکھ بحال نہیں کی بلکہ ممکن حد تک بڑھائی بھی اور اپنے منصب کو وقار بخشا۔ اتنا فعال و مسلسل، متحرک، انتھک، محنتی، نڈر، لگن اور دل سے کام کرنیوالا چیف قابل تعریف ہے کیونکہ ہماری دانست میں ہمیشہ اگلے مورچوں پہ جوانوں کے ساتھ پہنچ جانیوالا مشرف اور کیانی سے یکسر اس لئے مختلف ہے کہ ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں۔ بھارتی للکار اور کشمیر کی بیٹیوں کی پکار پر جنرل راحیل شریف کے دوٹوک بیان نے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور ہمارا دشمن غیر روایتی طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے کھلے عام کہا تھا کہ پاکستان کے اندر ہونیوالی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے ’را‘ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
جنرل راحیل نے کہا پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں کسی بھی قیمت پہ جدا نہیں ہو سکتے لہٰذا ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، دشمن دہشت گردی کرا کے ملک میں عدم استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے مگر ہم اس کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جنرل راحیل شریف تمام دشمن ملک کی ایجنسیوں کو چیلنج دے چکے ہیں کہ وہ خصوصاً بلوچستان میں ان کی طرف سے ہر منفی کارروائی کو سبو تاژ کر کے اسے ناکام بنا دیں گے اور ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ جنرل راحیل نے یہ بیان خاص طور پر بھارتی وزارت داخلہ کے اس بیان پر کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے کے جواب میں فوراً دیا ہے جسے نہ صرف میرواعظ اور تمام حریت پسند رہنمائوں، کشمیری عوام اور پاکستان کے کروڑوں شہریوں اور مرد مجاہد حافظ محمد سعید نے سراہا ہے۔ اصل میں ایک بندہ حر نے دوسرے بندہ حر کی بے ساختہ تعریف کی ہے اور جناب مجید نظامی کے اس راسخ مُوقف کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر کو بھارت کبھی تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کرے گا اس کے لئے ہمیں نہ صرف جدوجہد بلکہ جنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ بقول اقبالؒ…
وہی ہے بندہ حر جس کی ضرب ہے کاری
نہ وہ کہ ضرب ہے جس کی تمام عیاری!
زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے!
انہیں کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری
مگر مقام افسوس ہے کہ کچھ سیاستدان نہ صرف کشمیر کو آزاد کرانے کا عزم رکھنے والے اور پاکستان کو دہشت گردی اور منافقت، خود غرضی، وطن دشمنی، کرپشن، بھتہ خوری بلکہ حرام خوری سے پاک کرنیوالے کے خلاف انتہائی بچگانہ اور منافقانہ بیان دے کر اور اب مختلف وضاحتیں دے کر اس کی تاویلیں، تفصیلات و انحراف کی بھونڈی کوششیں کر رہے ہیں۔ روس کا دورہ کر کے آرمی چیف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں کسی دوسری طاقت سے مرعوب نہ ہو کر اپنے حلف سے وفا کرتے ہوئے اپنے اقدامات کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچا کر فلاحی و مثالی مملکت بنا کر دم لیں گے جس میں دیر لگ سکتی ہے مگر اندھیرنگری کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ پریشانی محض سوئیٹرز لینڈ، انگلینڈ، دُوبئی اور امریکہ میں جائیداد اور پیسہ رکھنے یا دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو ہے۔ عوام نے تو احتساب کے نام پہ مک مکا کرنیوالے کو دس سال تک اپنے اوپر مسلط کرا لیا تھا مگر اب فرق صاف ظاہر ہے۔