کراچی والوں کا خونِ ناحق کس کے سر؟

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
 کراچی والوں کا خونِ ناحق کس کے سر؟

سٹیل مل کے ایک انجینئر بتا رہے تھے کہ وہ 1977ء میں اس مل میں ملازم ہوئے۔ انکے سامنے اسکی بنیاد رکھی گئی۔ بنیادوں میں لوگوں نے اس وقت کے پاکستانی اور روسی سکے ڈالے تاکہ صدیوں بعد جب کبھی یہ آثار قدیمہ میں شمار ہو تو اُس دور کے لوگوں کو پتہ چلے کہ یہ بنیادیں کس زمانے میں کھودی گئی تھیں۔مگر اس کی بنیادیں تونصف صدی سے بھی قبل ہلا دی گئی ہیں۔وہ صاحب کہہ رہے تھے ۔’’سٹیل مل نے مجھے بہت کچھ دیا، کئی ملکوں کے دورے کئے،مل نے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں معاونت کی اور گھرتک بھی دیا۔یہ پودا میرے سامنے لگا ، پھلا پھولااور ثمر آور ہوا،اب اسکے سوتے خشک ہورہے ہیں۔ پتے جھڑرہے ہیں۔ خزاں اسے اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔خزاں کے بعد بہار فطرت کا اٹل اصول ہے مگر آبیاری شرط ہے وہ نہیں ہورہی توانجام گلستاں نوشتہ دیوار ہے‘‘سٹیل مل کی طرح کئی اور ادارے بھی خسارے میں چل رہے ہیں۔ ان میں پی آئی اے سرفہرست ہے۔ مگر اسے طرفہ تماشا کیوں نہ کہا جائے کہ سٹیل مل کے اردگرد لگی پرائیویٹ سٹیل ملیں منافع میں چل رہی ہیں۔ خاقان عباسی پی آئی اے کے چیئرمین رہے۔ فارغ ہوئے تو اپنی ائیر لائن بنا لی۔ پاکستان میں اور بھی نجی ائیر لائنز ہیں۔ ان کو منافع نہ ہو تو ایک دن بھی آپریشن جاری نہ رکھیں۔ خسارے میں جانیوالے اداروں کی بحالی بالکل ممکن ہے۔ اسکی ایک مثال ریلوے ہے۔ وہ خسارے نکل کر منافع میں جا رہی ہے۔ جہاں پھر کراچی کے سفر کا تذکرہ ضروری ہے۔ ڈائننگ کار کے ملازم اصغر علی نے بتایا کہ وہ 13 سال سے اس ٹرین کے ساتھ ہے۔ بلور کے دور میں یہ 30 گھنٹے میں کراچی پہنچتی تھی اب 18 گھنٹے میں اپنے وقت پر پہنچ رہی ہے۔ حیدر آباد سے سندھی اجرک فروخت کرنے والا نوجوان انور بتا رہا تھا کہ اسکے پانچ ساتھی اسی ٹرین میں چوڑیاں پرس وغیرہ فروخت کرتے ہیں جس کا ٹھیکہ 8 لاکھ سالانہ ہے۔ اسے بھی بلور پر غصہ تھا کہ اس دوران ٹرینوں کا برا حال ہوا اور ان کیلئے ٹھیکہ پورا کرنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بلور دور میں لوگ سٹیشن پر آتے تو پتہ چلتا جس ٹرین پر جانا ہے وہ آئی ہی نہیں۔ سٹیشن کے باہر ملتان، لاہور، پنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی بسیں کھڑی ہوتی تھیں۔ مسافروں کیلئے ٹرین چھوڑ کر بسوں میں سفر کرنا مجبوری تھی۔ اسی طرح مال گاڑیاں دستیاب ہی نہیں تھیں تو ٹرک اور ٹرالر ضرورت پوری کرنے کیلئے موجود ہوتے تھے۔ کئی اداروں کی تباہی کے ذمہ دار مافیاز ہیں۔ کچھ کی نجکاری کیلئے ان کو ایک پلاننگ کے تحت برباد کر دیا جاتا ہے۔ انتہا کی کرپشن، بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے باوجود کئی ادارے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں مگر حکومت کو نجکاری کا شوق ہے۔اثاثہ فروشی کے لئے حکومت کی نظر زبیر عمر پر پڑی جن کو نجکاری کمشن کا چیئرمین لگا دیا گیا۔ قومی ادارے بیچنے کے حوالے سے ان کے موقف میں بعد المشرقین کی طرح تضاد ہے۔ فرماتے ہیں۔’’ حکومت کو خسارے میں جانے والے اداروں سے مکمل طور پر جان چھڑانا ہو گی ساتھ ہی پینترا بدلاکہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے منافع بخش ادارے بھی بیچنا پڑتے ہیں‘‘۔اصلاح کی سرے سے کوشش ہی نہیں کرنی۔اس پر غور نہیں کرنا کہ منافع بخش ادارے خسارے میں کیوںگئے،یہ پھر سے منافع بخش کیوں نہیں بن سکتے؟؟؟زبیر عمر بتائیں کہ انہوں نے کبھی گھر کے برتن بیچ کر روٹی کھائی ہے؟مزیدکہتے ہیں کہ’’ ملز، فیکٹریاں اور ائرلائن چلانا حکومت کا کام نہیں۔ جناب! حکومت کا جو کام ہے کیا وہ کررہی ہے؟عوام دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ بڑی توند والوں کی طرح چھ وقت کی نہیں محض دو وقت کی روٹی اور تعلیم و صحت کی سہولتیں مانگتے ہیں۔ حکمرانوں کی اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنے کی سمجھ بھی زبیر عمر فلسفے سے آجاتی ہے ’’ اگر عارف حبیب اور میاں منشا کو قومی ادارے فروخت نہ کئے جائیں تو پھر کیا ہم باہر سے گوروں کو بلا کر قومی ادارے انہیں فروخت کریں‘‘۔ امریکی حکومت نے بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سوفٹ کو ایک ادارے کی بڈ میں شامل ہونے سے اس لئے روک دیا اس شعبے میں مائیکرو سوفٹ کی اجارہ داری ہوجائے گی۔ہمارے ہاںاجارہ داریاں مزید مضبوط کی جاتی ہیں۔دنیا میں جمہوریت، آمریت اور بادشاہتیں بڑی کامیابی سے چل رہی ہیں۔ اگر جمہوریت اپنی روح کیمطابق رائج ہو تو بہترین سسٹم ہے۔ مگر ہمارے ہاں جمہوریت ایک عفریت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جمہوریت کے نام پر پارٹیاں لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتی ہے۔ ایک آئینی مدت کے دوران ہی صدیوں کا سامان اکٹھا کرنے کی جستجو ہوتی ہے۔ صدا بہار آمریتوں اور بادشاہتوں میں طویل مدتی منصوبہ بندی ہوتی ہے ہماری طرز کی جمہوریت میں زیادہ سے زیادہ پانچ سالہ پلاننگ ہوتی ہے اسی میں بہت کچھ کمانا اور کھانا ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سالہ دور اقتدار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب شروع ہوا جو مسلسل جاری ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت سے بجلی کی قلت پر قابو پانے کا عوام کو یقین تھا مگر پرنالہ وہیں پر ہے۔ اگریہ لوگ پی پی پی والوں سے زیادہ کرپٹ نہیں تو یہ ماننا پڑیگا کہ نا اہلیت میں لاثانی ہیں۔کراچی کے ہسپتالوں کی رپورٹس کیمطابق تین دن میں 5 سو لوگ گرمی اور حبس سے مر گئے۔گرمی اور حبس سے موت کاایسا رقص اس دھرتی پر کبھی نہیں دیکھا گیا۔موت اٹل حقیقت مگر اس کا کوئی سبب بھی ہوتا ہے۔کراچی میں مرنیوالوں کا خون کسی کے تو سر ہے۔ بلا سوچے سمجھے بیان بازی کرنیوالے بجلی کے چھوٹے وزیر کہتے ہیں لوگ بجلی نہ ہونے سے نہیں مرتے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کراچی میں لوگوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری کے الیکٹرک ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ الیکٹرک کو مشرف دور میں پرائیویٹائز کیا اسے تحویل میں لینے پر غور کر رہے ہیں۔کچھ ذہنوں سوال اُٹھ سکتا ہے کہ یہ خونِ نا حق کہیں کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لینے کیلئے تو نہیں بہایا گیا؟ خواجہ آصف لوڈشیڈنگ پر قوم سے معافی مانگ رہے جبکہ چودھری عابد شیر علی کہہ رہے کہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر حکومت کیخلاف سازش ہو رہی ہے۔ سازش میں مہارت رکھنے والوں کو سازشیوں کا علم ہونا چاہیے۔ مصدق ملک آج وزیر اعظم کے ترجمان ہیں۔ کچھ عرصہ مشیر بھی رہے۔ نگران دور میں وزیر پانی و بجلی تھے۔ اس دور میں بدترین لوڈشیڈنگ ہوتی رہی اور نفرت پی پی پی حکومت کے حصے آئی جس کا الیکشن میں بستر ایسا گول ہوا کہ اقتدار اس سے صدیوں دور ہوگیا۔ مصدق ملک کو کس کارنامے پر2013ء کا الیکشن جیتنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی قربت حاصل ہوئی ۔ان سے پتہ کرائیں کہ سازش کیسے ہوتی ہے اور کون کررہا ہے۔ ن لیگ والے بجلی کی پیداوار کا منصوبے پر منصوبہ لگا رہے ہیں۔بجلی کے بوسیدہ ترسیلی سسٹم کی اصلاح پر نظر نہیں ہے۔لوگوں کو بجلی بنتی نظر آئے گی استعمال کیلئے نہیں ملے گی تو ووٹ بھی اسی تناسب سے ملیں گے۔