روزے ۔ شدید گرمی ۔ احتجاج

کالم نگار  |  تنویر ظہور
 روزے ۔ شدید گرمی ۔ احتجاج

روزے درحقیقت جماعت مومنین کو جہاد کی مشقت انگیز زندگی کا خوگر بنانے کے لیے سالانہ عسکری ٹریننگ کے مترادف ہے۔ قرآن کریم میں صیام کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہ رمضان کے مہینے کے روزے ہیں جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تھا۔
گزشتہ اور اس برس روزے ہاڑ کے مہینے میں آئے ہیں جو سخت گرمی کا مہینہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ساون کا مہینہ ہو گا۔ عیدالفطر ساون میں آئے گی۔ ساون کے مہینے میں گرمی کے ساتھ حبس کا بھی زور ہوتا ہے۔ رمضان کا مہینہ عبادت کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کی ٹھیک انجام دہی روزہ دار کو کثافت و آلائش سے پاک کر کے نفس کو ہلکا کر دیتی ہے۔ اسلام سادگی پسند دین ہے۔ اس کا طرزِ عبادت خاموشی ہے، شور نہیں، اس کی تبلیغ مثالی عمل سے ہوتی ہے۔
ویسے تو ہمیں پورا سال اتحاد، اتفاق ، ہم آہنگی، رواداری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن اس مہینے میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے غصے پر قابو رکھیں، صبر و تحمل سے کام لیں، انتقام سے پرہیز کریں اور معاف کر دینے کا رویہ اپنائیں۔
حتی الامکان جھگڑا کرنے یا لڑائی کرنے سے پرہیز کریں، اگر جھگڑا کرنا ہو تو اس وقت کرو جب تم مضبوط ہو لیکن اگر مدمقابل طاقتور ہو تو کنی کترا جانا چاہیے۔ انسانی عمل کے مثبت اور منفی نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔ دونوں قسم کے نتائج سے آگاہ ہو تا کہ کامیابی کی صورت میں آپے سے باہر نہ ہو جاؤ اور ناکامی کی صورت میں پریشان نہ ہو جاؤ۔
اگر معاملات پر پہلے سے غور کر لیا جائے تو انسان نفسیاتی الجھن سے بچ جاتا ہے۔ انسانی الجھن نہایت طاقتور دشمن ہے جو انسان کو متعدد بیماریوں کی دہلیز تک پہنچا دیتا ہے۔
رواداری کا مقصد اس دنیا میں جہاں متضاد تصورات رائج ہیں وہاں باہمی اخوت و برداشت کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے تا کہ امن کے ماحول میں انسانی تکریم کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور مخلوق خدا ہر قسم کے خوف اور پریشانیوں سے آزاد ہو کر اپنے خالق کے احسانات و انعامات سے بہرہ ور ہو سکے۔ جب کسی شخص کے لیے آپ کے دل کے اندر کینہ ، بغض، کدورت، نفرت، دشمنی، مخالفت یا رنجش رہنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ وہاں سے نکل جاتا ہے اور علم بھی وہاں نہیں رہتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ دل کو آئینہ کی طرح چمکا کر رکھا جائے۔
ایک حدیث میں حضور نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا
’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے اورنہ اس کو حقیر سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ نہ کرے‘‘
گزشتہ برس گرمی کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ گرمی میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی سرگرمیوں نے مزید گرمی پیدا کر دی تھی۔ مسلم لیگ (ق) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی سرگرم عمل تھیں۔ اس رمضان میں اس طرح کی سیاسی سرگرمیاں تو نہیں لیکن شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
شدید گرمی کی وجہ سے کچھ لوگ بے ہوش ہو رہے ہیں اور کچھ اللہ کو پیارے بھی ہو چکے ہیں۔ عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری 29 جون کو پاکستان پہنچ رہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف تحریک شروع کریں گے یعنی توانائی بحران پر ’’انقلاب مارچ‘‘ کریں گے۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور ’’انقلاب مارچ‘‘ سے پہلے ہی توانائی اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کر لینا چاہیے۔
سخت گرمی میں آصف زرداری کے بیان نے مزید گرمی پیدا کر دی ہے۔
16 جون کو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ’’میں نے فہرست بنائی تو قیام پاکستان سے اب تک کئی جرنیلوں کے نام آئیں گے‘‘ ٹھیک پانچ دن بعد اپنے خطاب میں زرداری صاحب نے کہا ’’میرا بیان مشرف کے حوالے سے تھا‘‘ آپ خود ہی سوچیں جو شخص پاکستان کا صدر رہ چکا ہو، اس کو زیب دیتا ہے کہ وہ جوش خطابت میں ایسی باتیں کہہ جائے جس کی ازاں بعد وضاحت کرنا پڑے۔
کراچی سے گرمی سے متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ مختلف شہروں میں طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنے بھی دئیے جا رہے ہیں۔
منیر نیازی کے یہ اشعار حکمرانوں کی نذر ہیں:
عقل کی بات جیسے آج نہیں سجتی آج کی بات نہیں سجے گی
آنے والے کل کی رات میں یہ بتی نہیں جلے گی
آج کا سچ کل جھوٹ کا ورق ہے نئی کتاب کے اندر
پانی کی اک جھلک ہے جیسے نئے سراب کے اندر
٭…٭…٭