اہلیان فیصل آباد کی سوچ

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
 اہلیان فیصل آباد کی سوچ

دو روز پیشتر راقم کو پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جانے کا مقصد مون لائٹ سکول چاندنی چوک غلام محمد آباد فیصل آباد میں قائم نظریاتی سمر سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ نظریاتی سمر سکول کے قیام کا مشورہ راقم کو روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے مدیر جناب ڈاکٹر مجید نظامی (مرحوم) نے دیا تھا کہ آپ اپنے مون لائٹ سکول میں نظریاتی سمر سکول کا آغاز کریں اور ان سمر سکولوں میں بچوں کو پاکستان سے محبت پر لیکچر دیا کریں اور نوجوان نسل کو بتائیں کہ پاکستان کس طرح وجود میں آیا تھا؟ جناب مجید نظامی کی وفات کے بعد ہم نے اپنے سکولوں میں نظریاتی سمر سکولوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور یہ سکول موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران ہم لگاتے ہیں اور بچوں سے کوئی فیس نہیں لیتے۔ راقم نے نظریاتی سمر سکول غلام محمد آباد فیصل آباد میں زیر تعلیم طلباء اور طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ اس کیلئے ہمارے آبائو اجداد نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ راقم نے کہا کہ قائداعظم نے قوم کو اتحاد، ایمان اور تنظیم کا نعرہ دیا ہے جس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے۔ راقم نے کہا کہ امریکی تھنک ٹینک 2015ء اور 2020ء میں پاکستان کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں، ان کے منہ میں خاک، پاکستان خدا کے فضل و کرم سے قائم رہنے کیلئے بنا اور تاقیامت رہے گا۔ راقم نے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک انتہائی نازک دورسے گزر رہا ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام رہنمائوں کے دلوں میں ملک و ملت سے محبت اور اخلاص کا جذبہ پیدا کر کے وطن عزیز کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے انہیں مل جل کر کام کرنے کی توفیق بخشے۔ کاشف ادیب نے کہا کہ نوجوان نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ جج، ڈاکٹر، وکیل اور جرنیل اور انجینئر بننے کی خواہش کرنے کے علاوہ اچھا پاکستانی بننے کا عزم رکھیں تاکہ کل کا پاکستان آج سے بہتر ہو سکے۔نظریاتی سمر سکول کیمپ کا مقصد جدوجہد آزادی کی داستان کو اجاگر کرنا ہے۔ نظریاتی سمر سکول کے طلباء سے خطاب کے بعد راقم نے فیصل آباد شہر کا چکر لگایا تو جگہ جگہ فیصل آباد کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے دیکھا۔ مظاہرین نے بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ بدترین لوڈشیڈنگ نے روزہ داروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ احتجاجی مظاہرین کے ایک لیڈر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدترین لوڈشیڈنگ سے حکومتی دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں حکومت نے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ حکومت 7 سال سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کر رہی ہے لیکن عملی طور پر ایک بھی ایسا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جس سے لوڈشیڈنگ کم یا ختم کر سکے۔فیصل آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی اس دھمکی والی تقریر کا بہت بڑا چرچا تھا کہ میں جنرلوں کے ’’کارنامے‘‘ بے نقاب کر دوں گا۔ فیصل آباد کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے سکیورٹی اداروں کے بارے میں پرجوش انداز خطابت نے پورے ملک میں ارتعاش کی سی جو کیفیت پیدا کر دی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس بیان کی نہ صرف قومی، سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے بلکہ خود پی پی پی کے بعض سنجیدہ رہنما اور پارٹی کارکن بھی اس پرانگشت بدنداں رہ گئے ہیں۔ فیصل آباد پیپلزپارٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں نے آصف علی زرداری کی تقریر کو پسند نہیں کیا گیا اس سلسلے میں راقم الحروف کی روزنامہ نئی بات فیصل آباد کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کریم اللہ گوندل، روزنامہ نوائے وقت فیصل آباد کے بیورو چیف احمد کمال نظامی، ڈیلی بزنس رپورٹ، فیصل آباد کے منیجنگ ایڈیٹر ہمایوں طارق سے بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے سیاسی جماعتوں اور انکے رہنمائوں کی مشاورت اور عوامی تائید کے ساتھ ملک بھر میں سماج دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ماضی میں بدترین کرپشن کرنیوالے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس میں پیپلزپارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت کے گرفت میں آنے کے 100 فیصد امکانات ہیں۔ آنیوالے دنوں میں سندھ میں ہلچل کے آثار دکھائی دیتے ہیں کراچی میں 230 ارب روپے ہتھیانے والی مافیا کو تحفظ دینے اور ان کیخلاف کارروائی کا معاملہ اب اس قدر سنجیدہ بن چکا ہے جس کے اثرات سے نہ صرف سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی ہی متاثر نہیں ہونے جا رہی ہے بلکہ مرکزی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غرض صورتحال جو بھی ہے، کراچی میں ایک جانب را سرگرم ہے، دوسری جانب ایم کیو ایم ناراض ہے۔اب سندھ حکومت، پی پی پی کی قیادت اور اہم ترین اداروں کے آمنے سامنے کھڑا ہونے کے بعد معاملات آگے چلتے نظر نہیں آتے۔ ایک ایسے وقت میں جب گزشتہ عام انتخابات میں سمت جانیوالی اور پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں عام انتخابات اور خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات میں مزید سکڑ چکی ہے اور صوبے میں پارٹی قیادت منقسم اور انتشار اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہے، پی پی پی کے جہاں دیدہ شریک چیئرمین کا کڑوا گھونٹ پی جانے کی بجائے درشت لب و لہجہ اختیار کرنا کسی بھی طور پارٹی کے مفاد میں نہیں تھا اور اگر سندھ میں پی پی پی حکومت کی حکومت کو بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کے الزام میں نقصان پہنچتا ہے تو معمر شریک چیئرمین کیلئے ہی یہ بڑا دھچکا نہ ہو گا بلکہ پرجوش و پرعزم نوجوان پارٹی سربراہ کیلئے بھی کڑا امتحان ہو گا۔ جن کی پہلے ہی سیاست میں دلچسپی کے بارے سوالات اٹھتے ہیں بہتر ہو گا کہ اس طرح کے بیانات سے پیدا شدہ صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے سیاسی قوتیں سامنے آئیں اگر محولہ بیان کو واپس لیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ بالفرض اگر محولا بیان واپس بھی لیا جائے تب بھی سندھ میں گرفتار افراد کی طرف سے جو انکشافات سامنے آ رہے ہیں ان سے صرف نظر ممکن نہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر بعض اہم گرفتاریوں کا بھی امکان دکھائی دیتا ہے جس سے کشیدگی مزید بڑھے گی خواہ کچھ بھی ہو یہاں کی تلخیاں بھلانے کی گنجائش تو موجود ہے مگر شدید نوعیت کی بدعنوانیوں کے مرتکب کرداروں کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے خواہ اس کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔