ااک زرداری‘ سب پہ بھاری

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
 ااک زرداری‘ سب پہ بھاری

یم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں خالص سیاسی جماعتیں ہونے کے ساتھ ساتھ آئین کی پاسداری کے دعوے بھی کرتی رہتی ہیں اور اپنی پاک دامنی کے گیت بھی گاتی رہتی ہیں۔ اب جبکہ ان دونوں جماعتوں سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کی اشیرباد سے رینجرز نے بھتہ خوروں، کمشن خوروں، رشوت خوروں اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی شروع کی ہے تو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ کراچی میں تمام مذکور ہ برائیوں اور حکومتی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف رینجرز کی کارروائی میں یہ جماعتیں شانہ بہ شانہ ان کا ساتھ دیتیں لیکن ان کا طرزِعمل بتا رہا ہے کہ دونوں کی دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔
کراچی میں پولیس فوج اور رینجرز کے تعاون سے کارروائی کا آغاز ہوا تو صولت مرزا سمیت کچھ ایسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اپنے تمام جرائم کا محرک ایم کیو ایم کے لیڈروں کو قرار دیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے گمنام قتل کے حوالے سے پکڑے گئے مبینہ مجرموں نے ایسے بیان دئیے جن کے ڈانڈے ایم کیو ایم کی قیادت سے ملتے ہیں۔ اس کے بعد ایک نیا دھماکہ ہوگیا۔ رینجرز نے ایک اعلیٰ افسر کو گرفتار کرلیا۔ اس پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ اس افسر نے انکشاف کیا کہ ان اربوں روپے میں سے ستر فیصد روپیہ بلاول ہائوس جاتا تھا جبکہ دس فیصد بھتہ مافیا۔ دس فیصد دیگر افسران۔ وزراء اور ممبران اسمبلی کو جاتا تھا اور مجھے صرف دس فیصدی ملتا تھا۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ بہت سے راز داروں نے ایسے راز منکشف کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی کے لہو رنگ حالات پر قابو پانے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ساری لوٹ مار مفاد پرست سیاسی مافیا کی سرپرستی میں کی جارہی ہے۔
بلیک منی کیس میں زیر تفتیش ماڈل کُڑی ایان کے والد نے انکشاف کیا ہے کہ ایان کے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک اور اس کے بھائی سے تعلقات تھے اور اس نے اپنے چالیس میں سے زیادہ تر بیرونی ممالک کے سفر ان کی ہمراہی میں کئے تھے۔ ایان موصوفہ کے جناب زرداری سے بھی روابط کے کچھ غیر تصدیق شدہ شواہد بذریعہ میڈیا عوام تک پہنچے ہیں۔ یہ خبریں بھی آرہی ہیں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سات صوبائی وزرائ، چار سابق وزیر، سندھ اسمبلی کے بیس ارکان جبکہ قومی اسمبلی کے آٹھ اور ایک سو سے زائد سرکاری افسران پاکستان سے فرار ہونے کے پروگرام بنا رہے ہیں کیونکہ ان پر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ اور بھتہ مافیا کی سرپرستی میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ محکمہ بلدیات، سیوریج بورڈ اور محکمہ آبپاشی کے تفتیش کاروں نے سراغ لگایا ہے کہ ان محکموں کو ایک غیر مجاز شخص کنٹرول کررہا ہے اور بے تحاشا مال کما رہا ہے۔ یہ غیر مجاز شخص پیپلزپارٹی کے ایک بڑے لیڈر کا قریبی عزیز ہے۔ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی اور دو دیگر ڈائریکٹر محمد خان چاچڑ اور رانا شاہد بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ محمد خان چاچڑ ایک خاتون لیڈر کا فرنٹ مین ہے اور پاکستان سٹیل ملز کے چیئرمین سجاد حسین کے قتل سمیت بہت سے دیگر مقدمات میں تفتیش کے لئے بھی مطلوب تھا۔ محمد خان چاچڑ پر سرکاری ملازمتیں فروخت کرنے کا بھی الزام ہے جبکہ رانا شاہد اور صدیقی پر بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی سرپرستی کے الزامات بھی زیرتفتیش ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ کراچی میں ہر سال دو اعشاریہ تین بلین روپے بذریعہ بھتہ خوری وغیرہ جمع کئے جارہے ہیں ۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سیاسی چھتریوں کے سائے تلے بیرون ملک منتقل کردیا جاتا ہے۔ عزیر بلوچ نامی ایک شخص گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے دورانِ تفتیش یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے بے نظیر قتل کیس کے دو چشم دید گواہان کو جان سے مارا ہے۔ ان میں خالد شہنشاہ بھی شامل تھا۔ اس بات کے ثبوت بھی ملے ہیں کہ عزیر بلوچ اور آصف علی زرداری کے درمیان روابط موجود تھے۔ ’’اعلیٰ شخصیت‘‘ کے گرفتار شدہ ایک اور فرنٹ مین محمد علی شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ اس اعلیٰ شخصیت نے حال ہی میں دوبئی میں دو ہوٹل اور ملائیشیا میںکروڑوں روپے کی جائیداد خریدی ہے جبکہ لینڈ مافیا کا بھتہ بیرونِ ملک منتقل کیا جارہا ہے ۔ صرف دوبئی میں دس ایسے بنک اکائونٹ ہیں جن میں یہ رقم جمع کی جارہی ہے۔ ان حالات میں زرداری صاحب نے ’’مبنی بر انصاف‘‘ بڑھک لگائی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر ہماری کردار کشی بند نہ کی گئی تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ کچھ دنوں سے پھر پاور پالیٹکس کی امنگیں بڑھ رہی ہیں۔ ہم سب جرنیلوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں گے۔ آپ کے پاس تو صرف تین برس ہیں جبکہ ہم نے یہیں رہنا ہے۔
اس بیان پر عوامی ردعمل سامنے آیا تو فوراً رحمن ملک، کائرہ اور شیری رحمن وضاحتی میدان میں اترے اور کہا کہ زرداری کا اشارہ جنرل مشرف کی طرف تھا۔ زرداری کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا ہے۔ اس کے اگلے روز خود زرداری صاحب نے بھی پلٹا کھاتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان مشرف کے حوالے سے تھا اسے کسی اور طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک دل جلے کارکن نے اس پلٹ دار بیان پر کہا کہ زرداری کا اصل بیان ریکارڈ شدہ ہے اسے میڈیا پر چلایا جائے۔ حقیقت سامنے آجائے گی۔ ہم نے کہا۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ تم نے سنا نہیں۔
اِک زرداری سب پہ بھاری