فوجی آپریشن … چھپے ہوئے دشمن سے جنگ کے تقاضے

کالم نگار  |  اسلم لودھی
فوجی آپریشن … چھپے ہوئے دشمن سے جنگ کے تقاضے

دہشت گردوں کی حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر آخر کب تک صبر کیا جا سکتا ہے ملک بھر میں ہونے والے نقصانات کے علاوہ فوجی جوانوں کی مسلسل اور بے تحاشا شہادتوں کا نتیجہ آپریشن کی صورت میںہی نکلنا تھا۔ اب جبکہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے اور دہشت گردوں کی کمین گاہوں پر زمینی اور فضائی حملے پوری شدت سے جاری ہیں تو جہاں اس کی کامیابی کے لیے ہر پاکستانی کو اپنے ارد گرد کے ماحول اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی وہاں پولیس رینجر اور سول ڈیفنس کو بھی متحرک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ بات اب کسی سے بھی مخفی نہیں رہی کہ دہشت گرد نے ملک بھر  بطور خاص کچی آبادیوں ، افغان بستیوں اوردینی مدرسوں میں اپنے  نام نہاد ہمنوائوں کی اشیر باد سے نہ صرف ٹھکانے بنا رکھے ہیں بلکہ فوج سمیت دیگر تمام سکیورٹی ایجنیسوں میں اپنے حمایت یافتہ لوگوں کا ایک جال کامیابی سے بچھا رکھا ہے۔ دہشت گردی کی کوئی واردات اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو  سکتی جب تک اہم ترین عہدوں پر فائز اندرونی لوگ دہشت گردوں کو مفید معلومات فراہم نہ کر رہے ہوں۔  فتح جنگ میں فوج کے دو کرنلز پر خود کش حملے کا واقعہ ہو یا کراچی انٹرنیشنل ائیر  پورٹ میں دہشت گردی کا سانحہ، دونوں سانحات اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو سنئیر فوجی افسروںکی نقل و حرکت اور اہم ترین دفاعی تنصیبات کے کمزور پہلوئوں کا پہلے سے علم تھا بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق کارروائی سے پہلے دہشت گردوں نے اپنے حمایت یافتہ افراد کے ذریعے جدید ترین اسلحہ ائیر پورٹ کے اندر پہنچا دیا تھا۔ اس لمحے جہاں ہمیں فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں میں کام کرنے والوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو نہایت باریک بینی سے چیک کرنا ہوگا وہاں ہر پاکستانی کو ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ملک وقوم کی سلامتی اور پاک فوج کیلئے پہلے سے بڑھ کر اپنے فرائض کو انجام دینا ہو گا۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ دہشت گرد قبائلی علاقوں سے راکٹ لانچر سمیت اگر پشاور پہنچ سکتے ہیں پھر اسلام آباد ٗ لاہور اور کراچی تک کسی رکاوٹ کے بغیر رسائی حاصل کر سکتے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے یقینا محکمہ پولیس کے وہ بزدل اہلکار اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں جو اپنی جانیں بچانے کی خاطر دہشت گردوں کانام سُن کر ہی موقع واردات سے بھاگ جانے میں عافیت تصور کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کا فوجی آپریشن اسی صورت کامیاب ہو گا جب ہر بڑے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں میں فوج کے نڈر افسر اور مستعد جوان تعینات کیے جائیں ۔اگر دہشت گرد پشاور ٗ اسلام آباد ٗ راولپنڈی ٗ لاہور ٗ کراچی اور کوئٹہ میں اپنا نیٹ ورک کامیابی سے قائم کر چکے ہیں تو اس  ناکامی کا سہرا پولیس کے سر بندھتا ہے اگرترقی یافتہ ممالک کی طرح پولیس نڈر اور قانون شکن عناصر کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوتی تو دہشت گرد وں کو کسی ایک علاقے میں محدود کر کے ختم کیا جا سکتا تھا۔ اب جبکہ نہ چاہتے ہوئے بھی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے تو ہر سیاسی جماعت اور ان کے قائدین کا فرض بنتا ہے کہ اپنی معمول کی سیاسی سرگرمیوں کو چھوڑ کر فوج کے شانہ بشانہ لڑنے اور شہروں میں نظم و نسق سنبھالنے پر خود کو آمادہ کریں۔ افسوس تو اس بات کاہے کہ اس وقت جبکہ فوج کو پوری قوم کی سپورٹ کی سخت ضرورت ہے اور شہروں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تلاش اور سرکوبی کے لیے بہادر اور نڈر سیاسی کارکنوں کی ضرورت ہے۔ شیخ رشید جس کا پاکستانی سیاست میں کردار سٹیج اداکار اور مسخرے سے زیادہ نہیں ہے ان کو اپنی قومی ذمہ داریوں کا ہرگز احساس نہیں ہے وہ بھی ایک اینٹ کی مسجد بنا کر ٹرین مارچ کرنے کے اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو دھمکا بھی رہے ہیں۔ شیخ رشید کے غبارے میں ہوا بھرنے والے بے ضمیر چودھری اور خود ساختہ انقلابی لیڈر اور کنٹینر بابا طاہر القادری بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے ۔اگر شیخ رشید، چودھری برادران اور طاہر القادری کو حالات کی نزاکت کا احساس نہیں ہے تو کم ازکم میڈیا کو ہی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جنگی حالات اور ایمرجنسی میں سول ڈیفنس کا کردار بھی بہت اہم تصور کیا جاتا ہے سابق فوجی جوانوں کی سرپرستی میں سکولوں کالجوں کے طلبہ و طالبات کو مختصر فوجی تربیت دے کر اندرون ملک نظم و نسق برقرار رکھنے، ایمرجنسی حالات میں اپنے ہم وطنوں کی بروقت مدد کرنے کی تربیت دینا اشد ضروری ہے۔ اپنے اور بیگانوں کی لاپرواہی کی بنا پر حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں تھوڑی سی بے احتیاطی اور فوج کی ناکامی ملک کو عراق کی سطح پر لا سکتی ہے۔ جمہوریت اور سیاست الاپنے کا یہ وقت ہرگز نہیں ہے اس وقت ان تمام اقدامات کی ضرورت ہے جو کسی بھی جنگ کے دوران ملک میں کئے جانے ضروری ہوتے ہیں۔