حکمران ہوش کے ناخن لیں!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور
حکمران ہوش کے ناخن لیں!

ماڈل ٹائون لاہور میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے سیکرٹریٹ اور گھر کے راستے میں لگی رکاوٹیں ختم کرانے کیلئے پولیس اور دیگر اداروں کا ’’جاہلانہ آپریشن‘‘ 11 سے زائد بے گناہ لوگوں معہ دو خواتین کے ’’بربریت نما دہشت گردی‘‘ کے بھینٹ چڑھنے کا ’’کالا تمغہ‘‘ پنجاب حکومت کو سجا گیا!ْ اس کے بدترین اثرات شہباز حکومت‘ جمہوریت‘ عوامی سطح پر پنجاب وفاقی حکمرانوں کی بدنامی کی صورت میں نکلا ہے۔!! شہباز شریف غصے میں ’’لال پیلے‘‘ ہیں۔ کابینہ کی میٹنگ میں بہت شدید ردعمل ظاہر کیا۔ پہلے جوڈیشل کمیشن کا اعلان کر چکے تھے۔ اپنے آپ کو بھی ایف آئی اے کیلئے پیش کر چکے تھے۔ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کیلئے بھی 30 لاکھ فی کس کا اعلان‘ مزید افسوس‘ دکھ‘ ظلم پر نادام اور انتظامیہ پر انتہائی برہم… یہ سب بجا ہے‘ لیکن کیا یہ سب کافی ہے؟ اس سے حالات کنٹرول میں آجائیں گے؟ 23 جون کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنے‘ جلسے یا احتجاجی کال کو جو عوامی حمایت نہیں بھی ملنا تھی‘ جیسے ماضی میں زرداری دورِ حکومت  میں اسلام آباد میں ہزاروں  خواتین اور بچے معہ مردوں کے سخت سردی میں جیتے مرتے رہے‘ لیکن کچھ نتیجہ نہ نکلا تھا۔ عام حالات میں شاید عمران خان کے دھرنوں کی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کے شدید گرمی میں زندہ مار دینے والے موسم میں دھرنا‘ ریلی‘ جلسہ‘ ’’قومی سطح‘‘ پر کوئی نتیخہ خیزطوفان بپا نہ کرتا‘ لیکن 11 بے گناہوں (اور مزید شدید زخمی خطرے میں ہیں) اور 70 افراد کو گولیاں مار کر جمہوریت کے پودے کو ’’دیمک زدہ‘‘ تو حکمرانوں‘ وزراء اور سر پھرے دیوانے پولیس افسران نے کر دیا۔ اب شہباز حکومت کئی طرح کے خطرات میں گھر گئی ہے۔ اسے ہر قیمت پر جیسے بھی ہو‘ اسے نارمل کرنا ہوگا۔ یہ بڑا چیلنج ہے!!  وزیراعلیٰ اپنی ایک ناکامی کا کبھی کبھی اعتراف کر لیتے ہیں کہ میں ’’پولیس کلچر‘‘ (بدتمیزی‘ تشدد‘ غیر قانونی کام‘ اختیارات کا ناجائز استعمال‘ رشوت‘ کرپشن‘ غلط مقدمات کا اندراج وغیرہ وغیرہ) عوام پر ناانصافی اور ظلم کو نہ بہتر کر سکا نہ ختم!! 6 سال اگر نہیں کر سکے تواب یہ ’’بے لگام‘‘ وردی پوش بعض دہشت گرد پولیس افسران و اہلکار آپ کی صوبائی اور وفاقی حکومت ختم کرانے کی ’’بنیاد‘‘ رکھ چکے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ بڑے افسران 20 تا 22 کے اور موقع پر موجود پولیس افسران کے موبائل فون ڈیٹا سے کنفرم کرلیا جائے کہ کس افسر نے کتنی مرتبہ اوپر اور اعلیٰ سطح پر فون کالیں کیں یا وائرلیس پیغامات‘ احکامات مانگے؟؟میاں شہبازشریف کی گڈ گورننس کا ’’جنازہ‘‘ جس نے بھی نکالا ہے‘ اس کیلئے میاں صاحب کو اپنی ’’منجی تھلے ڈانگ‘‘ پھیرنا ہوگی!! الزام تو میاں شہبازشریف پر لگا کہ انہوں نے ہی فائرنگ کے احکامات دیئے جو جوڈیشل انکوائری کریں یا ان کے بے رحم انتظامی ایکشن سے صاف معلوم ہو جائے گا۔ یہ اپوزیشن کا موقف ہے‘ البتہ ایسا ہونا الزام ہی ہے۔ حقیقت نہیں مگریہ سازش کس نے کی؟ لازم ہے کہ وہ جو بھی ہوا‘ اسے قتل‘ اقدام قتل اور دہشت گرد ی کے مقدمات بنا کر نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔ ملک کسی مارشل لاء کا متحمل نہیں ہو سکتا! فوج وزیرستان اور تمام بڑے شہروں میں پھیل چکی ہے۔ایئرپورٹ‘ ٹی وی وغیرہ حساس مقامات پہلے ہی فوج کے قبضے میں دیدیئے ہیں۔ اب ایسے واقعات سے سنگین سیاسی بحران حکومت کے وفاق اور صوبے سے … (6 ماہ تا 9 ماہ) مارچ 2015ء تک نکل سکتا ہے۔ واقعات کی کڑیاںیہ بتاتی ہیں ! (ق ) لیگ‘ تحریک انصاف‘ ڈاکٹر طاہرالقادری اور آگے چل کر ایم کیو ایم یا اور پارلیمانی پارٹیاں اجتماعی طورپر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں چھوڑ کر مستعفی ہو جائیںگی! دور بین نگاہیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ حکومت ایجنسی کو بھی ’’کھیل‘‘ کا اچھی طرح پتہ ہے۔ سیاسی میدان میں مقابلہ ہو سکتا ہے۔ ’’نعشوں کی سیاست‘‘ تو ذوالفقار علی بھٹو کو عوامی تحریک‘ پی این اے لے ڈوبی‘ مقدر مارشل لائ‘ سبق حاصل کوئی نہیں کرتا نہ اپنی گورننس بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ بیڑہ غرق ملک کا ہوگا۔ ملک سے باہر اربوں ڈالرز کی ’’صنعتی ریاستیں‘‘جلاوطنوں کیلئے کافی ہیں۔ پاکستان یہاں جینے مرنے والوں کا ہے‘ لیکن عوام اب زیادتیاں برداشت نہیں کریں گے۔ ملک پہلے لیڈر بعد میں۔