بیرسٹرحسن طارق رحیم سے جدائی کا ایک سال

کالم نگار  |  منیر احمد خان
بیرسٹرحسن طارق رحیم سے جدائی کا ایک سال

لاہورکی کشمیری فیملی کا چشم و چراغ 46 سال کی عمر میں بچھڑ جائے گا یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ دنیا بھر کی خبریں رکھنے والا اتنی جلدی ہم سے دور ہو جائے گا اس کا ایک سال گزرنے کے باوجود یقین نہیں آ رہا۔10 دسمبر 1966ء کو لندن کی ٹھنڈی ٹھندی فضائوں میں پیدا ہونے والا حسن طارق رحیم ایچی سن کالج لاہور سے پڑھتا ہُوا پھر لندن چلا گیا۔کنگز کالج لندن میں داخل ہوا اور لندن کے ہی Grays Inn سے بیرسٹر بن گیا۔
حسن طارق کے والد خواجہ طارق رحیم اپنی طرز کے منفرد انسان ہیں جہاں وہ پاکستان کے نامور وکیل وہاں وہ سیاست میں بھی بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی صفت انکے بیٹے میں بھی پیدا ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ 1993ء میں جب میاں منظور احمد وٹو نے مرحوم غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریک عدم اعتمادکامیاب کرائی اور اس کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے میاں اظہرکو پنجاب کا نگران مقرر کیا۔ میاں منظور وٹو نے پنجاب اسمبلی توڑی اور پھر دوبارہ توڑی تو ان تمام معاملات میں رات دن حسن طارق رحیم سیاسی اور قانونی مشاورت کیلئے گورنر ہائوس میں مصروف رہتا تھا۔
صدر غلام اسحاق کو ایڈوائس لکھ کر بھیجنا ہوتی تھی تو چند سیکنڈ میں حسن صاحب ایک نوٹ بنا کر آتے تھے۔ کسی کیلئے اس نوٹ سے اختلا ف کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ اس طرح حسن طارق نے نہ صرف 1993ء کے ان آیام میں بلکہ اپنی موت تک سیاسی اور قانونی معاملات پر بھرپور توجہ دی۔ وہ ایک باخبر شخص تھا ہر وقت خبر رکھنا اس کا کام تھا۔ ملک میں سیاسی افراتفری ہو یا عدلیہ کی قید و بند یا بحالی اس کو ہر پَل کی خبر تھی۔
حسن طارق رحیم کی زندگی کے آخری 8 سال میں ہماری بھرپور محفل رہتی تھی۔ خواجہ طارق رحیم کا گھر ایک سول جی ایچ کیو کہلاتا ہے۔ خواجہ صاحب کو ایک چیف کے طو پر ہم سب تسلیم کرتے ہیں اور اس گروپ کے بہت سارے کور کمانڈر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حسن طارق اپنی ذاتی حیثیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک کورکمانڈر تھا۔ ضرورت کے مطابق روزانہ اجلاس منعقد ہوتے تھے اور کبھی ہنگامی حالت ہو تو شام کو بھی اجلاس بُلا لیا جاتا۔
کوئی محفل اور اجلاس حسن طارق کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ اس کا اوڑھنا، بچھونا باخبر رہنا تھا۔ اس کے رابطے رکھنے کا جنون تھا۔ اخبار سے خبریں حاصل کرنا، فوجیوں اور سول افسروں سے تازہ ترین شیئر کرنا اور پھر ذاتی دوستوں سے ڈسکس کرنا اس کی زندگی تھی۔ پھر ایسے شخص کے بغیر محفل کیسے مکمل ہو سکتی تھی جس کے پاس دنیا بھر کی خبر ہو اور تجزیہ ہو بیرسٹر حسن طارق کے پاس اپنی سوچ کے حق میں بڑی دلیل ہوتی تھی۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ انکے والد خواجہ طارق رحیم کی رائے مختلف ہو تو حسن صاحب خاموش ہو جائیں۔ بڑے احترام اور ادب کے ساتھ بھرپور مخالفت، ایسے لگتا تھاکہ ابھی باپ بیٹا لڑ پڑیں گے۔ لیکن آخری دم تک یہ لڑائی انفارمیشن اور سوچ کی لڑائی رہی۔ باپ بیٹے کی محبت میں کبھی فرق نہیں آیا۔ باپ نے ہمیشہ بیٹے کو ساتھ رکھا۔
 صدر پاکستان کی محفل ہو یا وزیراعظم سے ملاقات حسن طارق صاحب نہ صرف اس میں شامل ہوتے تھے بلکہ بھرپور رائے دیتے تھے۔ ایک ایسا شخص جس کو کوئیComplex نہیں تھا۔ دوستوںکا دوست اور فیملی کیلئے بھرپور محبت رکھنے والا۔ سال میں فیملی کو بھرپور وقت دینا بھی فرض خیال کرتا تھا۔ آج حسن طارق کو ہم سے بچھڑے ایک سال گزر گیا ہے۔ لیکن ہر لمحے لگتا ہے کہ حسن کمرے میں داخل ہو رہا ہے۔ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ اور بھرپور سوال کے ساتھ کہ ’’کیا نئی تازی ہے۔‘‘ اس کو حکومتوں کی Bad Governance پر بڑی تشویش رہتی تھی۔ جمہوریت کی فضا میں پیدا ہونے والا نوجوان جمہوریت کو ہی پاکستان کی منزل خیال کرتا تھا اس کیلئے ذاتی تعلق کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی اگر وہ شخص ملکی مفادکے مطابق کام نہ کر رہا ہو۔ پیپلز پارٹی کی بھی بات کرتا تھا اور میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور عمران خان کو بھی اہمیت دیتا تھا۔
حسن طارق رحیم کیلئے پاکستان کی بقا، سلامتی اور جمہوریت بے حد ضروری تھے۔ عدلیہ کی آزادی کا وہ دلدادہ تھا۔ افتخار چوہدری کی تحریک کا بھرپور ساتھ دیا لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ افتخار چوہدری اپنی حدود سے تجاوز کر گئے ہیں تو بے حد احترام کے ساتھ اختلاف بھی کیا۔ایک بھرپور شخص کو بچھڑے ایک سال ہو گیا وہ اپنے پیچھے جہاں پیارکرنے والی بیوی، تین بچے، ماں ، جوان، باہمت اور باکمال باپ چھوڑ گیا ہے وہاں سینکڑوں دوستوں کو بھی اپنے سے دور لے گیا ہے۔ اس کی یاد اور شاندار سوچ میشہ یاد رہے گی۔