”دوستی کےلئے بیتاب انڈیا کا جنگی جنون“

کالم نگار  |  مسرت قیوم

نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پاک بھارت تعلقات میں گرمجوشی کے جذبات ”بنیادی مسئلہ“ کو حل نہ کرنے کی روش کے ساتھ کچھ زیادہ ہی گرمجوشی کی حد کو چھونے لگے ہیں“ انڈین وزیر خارجہ نے فرمایا ہے کہ توانائی بحران کا شکار پاکستان مشکل وقت میں ہے اس لئے پڑوسی کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ دونوں ملک کے ”تاجر حضرات معیشت کو بہتر بنانے پر بھی غور و فکر کے مراحل اور باہم رابطے میں ہیں۔ پاکستان کو بجلی کی بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لئے پہلے مرحلہ کے طور پر ”500 میگاواٹ“ بجلی کی فراہمی کےلئے گفت و شنید قیمتوں کے تعین کے معاملہ میں تعطل کا شکار ہے۔ مزید براں گیس کی درآمد برآمد بھی گفتگو کا حصہ ہے۔ بلاشبہ ”نزدیکی پڑوس“ سے تجارت جہاں معیشت کو توانائی بخشے کی وہاں روزگار کے نئے مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ باہمی رنجشوں کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی۔ آزادانہ آمدورفت اور تجارتی تعلقات کی نئی جہات دریافت ہوں گی۔ ہر اچھی بات عمل کو سراہنا چاہئےے ہم بھی اچھے تعلقات بلا روک ٹوک وفود کی آمدورفت، تجارت میں فروغ (مگر جو دونوں کے مفاد میں اور یکساں فوائد کی حامل ہو) چاہتے ہیں مگر بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ، دریائی پانی کی (معاہدہ کے مطابق تقسیم) نامنصفانہ تقسیم ختم ہونے تک کوئی بھی امن قائم کرنے کی خواہش، بات آگے نہیں بڑ ھ سکتی۔ دوستی کی خواہش اپنی جگہ مگر ہم نہیں بھول سکتے کہ بدترین انرجی بحران میں گھرا ہوا پاکستان ”اسی پڑوسی“ کے ”بدکرموں“ کی بدولت اس تباہی کی نہج کو پہنچا ہے پچھلے ہفتے کو پانی کی تقسیم کے معاملہ پر قوم ”قومی اسمبلی“ میں ”مچھلی منڈی“ کا مظاہرہ بھولنے کے موڈ میں نہیں اور نہ ہی ہم یہ فراموش کر سکتے ہیں کہ بلوچستان کے سنگین سانحات و بدترین دہشت گردی ہو یا پھر ”کراچی“ بدامنی، مخدوش، ابتر امن عامہ کی صورتحال کچھ بھی ”ہمارے پڑوسی“ کے اچھا ہونے کے اشارے نہیں دے رہا۔ ہمارے حالات کے بگاڑ کو مقامی تعاون، معاونت کو بھی دیکھتے ہوئے کہہ نہیں سکتے کہ صرف اند رونی ذرائع عناصر سرگرم عمل ہیں واقعات کی کڑیاں، نوعیت، سائز، جدید ترین سامان آتش و بارود اور حساس مقامات کا چناﺅ ہی ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی نہیں؟ ان حالات میں کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اعتماد سازی کے مزید کئی اقدامات زیر غور ہیں ”بھارت“ کا جنگی جنون عروج پر ہے.... پچھلے کئی مہینوں سے ”انڈیا“ اربوں ڈالرز کے جنگی سامان کی خریداری کے معاہدے کر چکا ہے اب ”انڈیا“ نے دشمن میزائل کو تباہ کرنے کا دفاعی نظام تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ”بلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم“ دشمن میزائل کو 5 ہزار کلومیٹر دور تک تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ پہلے مرحلے کا تیار کردہ سسٹم ”دہلی“ میں تیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ”انڈیا“اتنا ہی دوستی کے لئے بے تاب ہے تجارت کا فروغ چاہتا ہے تو پھر یہ ”دفاعی نظام“کس دشمن کے خلاف تیار کیا گیا ہے؟ بحران میں مبتلا ”پاکستان“ کی مدد اگر ”انڈیا“ کا فرض ہے تو یہ جنگی جنون کس کے لئے؟ کس کے خلاف؟؟ آبروئے صحافت ”مجید نظامی“ قبلہ محترم نے بجا فرمایا کہ کالا باغ ڈیم نہ بنایا اور کشمیر واپس نہ لیا تو ہمیں خوراک درآمد کرنا پڑے گی مسائل کے حل کے لئے باہمی بات چیت ہی بہترین آپشن ہے مگر باہمی ڈائیلاگ کی ہماری خواہش اس وقت بری طرح کچلی جاتی ہے جب ہم مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ نہتے کشمیریوں کو ناجائز قید و بند، پراسرار ہلاکتوں اور خوفناک ریاستی تشدد کا شکار پاتے ہیں۔ دوستی کی بات اور امن کی خواہش تب کانوں کو بھلی لگتی ہے جب آپ طے شدہ اصول، ضابطہ، قانون کی پیروی کرنے پر عمل پیرا نظر آئیں۔ عدلیہ میں ریاستی مسلمانوں کی شمولیت 25 فیصد تک گھٹا دی گئی ہے ۔ ان معیارات، سلوک، برتاﺅ کو سامنے رکھتے ہوئے باور کر سکتے ہیں کہ امن کی خواہش اور دوستی کو فروغ دینے کی تڑپ تبھی اطمینان بخش سطح تک پہنچ سکتی ہے اگر ”تقاریر کو عمل“ میں بدل دینے کی کوئی سنجیدہ کاوش نظر آئے۔ کوئی قابل قبول حل کی طرف جاتی سرگرمی نظر میں آئے۔ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ دوستی، تجارت کے لئے بے قرار، پڑوس کو مشکل میں دیکھ کر مدد کے لئے بے تاب، ایسا کچھ کیوں نہیں کرنے کو تیار کہ ”پانی“ واپس کر دے۔ ناجائز ڈیمز کی تعمیر روک دے۔ ہماری مشکل بھی تو ”اس پڑوسی“ نے بڑھائی ہے تو اب حال بھی وہی کرے۔