یونہی بلاو جہ غیر ضروری آپریشن!

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

ہمارئے مسائل بڑے عجیب ہیں۔ یہ بے گھری کا مسئلہ نہیں، گھر میں رہ کر بے گھری اور وطن میں بستے ہوئے جلاوطنی کا معاملہ ہے۔ اک چائے خانے میں اک بوڑھے نے چائے منگوائی۔ بیرا اس کیلئے مکس چائے لے آیا۔ بوڑھا بڑبڑانے لگا۔ ادھر میرے اختیار میں اور بھلا ہے کیا؟ یہی کہ اپنی مرضی سے اپنے کپ میں قہوہ ڈال لوں ۔ دودھ چینی کے بارے میں اپنی مرضی برت سکوں۔ تم نے میرا یہ اختیار بھی مجھ سے چھین لیا۔ الیکشن آتا ہے۔ میں اپنے کسی من پسند امیدوار کو ووٹ ڈالتا ہوں ۔ شام کو ڈھیروں ووٹ کسی دوسرے امیدوار کی صندوقچی سے نکل آتے ہیں۔ نہ جانے کس کی مرضی چلتی ہے۔ کیا یہ الیکشن ہے؟ بیمار ہوتا ہوں، کسی ڈاکٹرکے پاس جاتا ہوں۔ کیا یہ ڈاکٹر ہیں؟ کیا یہ مریض کی مرض دور کرنا چاہتے ہیں یا محض اپنی جیب بھرنا چاہتے ہیں۔ طب کی ڈگری لئے کلینکوں میں ہر قیمت پر نفع کمانے والے تاجر بیٹھے ہیں۔ کرنل صدیق سالک نے لکھا تھا”ہمارے ملک کی انڈسٹری بیمار ہوگئی ہے اور یار لوگوں نے ہسپتالوں کو ہی انڈسڑی بنا لیا ہے“۔ پنجاب کارڈیالک انسٹیٹیوٹ میں پچھلے پندرہ برس سے بائی پاس آپریشن میں استعمال ہونے والا دھاگہ ایک غیر رجسٹرڈ فرم فراہم کر رہی ہے۔ اس دھاگے کا معیار کیا ہے؟ بس جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ جسے اللہ نے رکھنا ہو اسے بھلا معیاری یا غیر معیاری دھاگہ سے کیافرق پڑتا ہے۔ صرف ایک دھاگہ پر کیا موقوف، اس کی دوائیں کھانا اور پانی بھلا کہاں معیاری ہے۔ پھر اتنی غیر معیاری چیزوں میں کہیں دھاگہ بھی نبھ جاتا ہوگا۔ پھر ایک دھاگے کی اتنے بڑے پنڑے میں کیا حقیقت ہوتی ہے۔ 2000ءکی ایک صبح تھی۔ میں گھر سے سیر کیلئے نکلا۔ میرے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلہ پر نہر ہے۔ وہاں ایک چوبارے پر حمید ڈھول والے کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کے بقول اگر وہ بورڈ ہٹا دیا جائے تو تمہارے گھر پہنچنا خاصاً مشکل ہو جائے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ ان دنوں وہاں حمید ڈھول والے کا بورڈ تھا یا نہیں، اتنا یاد ہے کہ میرے قدم تھم سے گئے۔ اب مجھے قدم اٹھانا ممکن نہ رہا۔ میں روہانسا سا ہو گیا۔ پسینہ سے شرابور بدن لیکر وہیں زمیں پر بیٹھ گیا۔ اب میں کیا بتاﺅں گا، فیض احمد فیض کی زبانی سنیں، ایک ہی قصبہ کہانی ہے۔ درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر بن مو سے ٹپکنا چاہاہر رگ جاں سے الجھنا چاہامجھے صدیق صادق میموریل ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ گوجرانولہ میں یہ امراض قلب کا ایک خیراتی ہسپتال ہے۔ یہاں بائی پاس آپریشن بھی کئے جاتے ہیں۔ اس خیراتی ہسپتال میں غریب، نادار اور مسکین مریضوں کو کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ خالی جیب مریض مفت علاج چاہتے ہیں۔ ہسپتال کے ٹرسٹی ہر قیمت پر ہسپتال چلانا چاہتے ہیں۔ ہر مریض کا مفت علاج کریں تو ہسپتال کیسے چلائیں۔ سو وہ بس ہسپتال چلا ئے جا رہے ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یاد آگیا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے۔ گوجرانولہ میں ہر خیراتی ہسپتال نے زکوٰة کی مد میں کروڑوں روپے اکٹھے کر کے بینکوں میں فکس اکاﺅنٹ میں رکھے ہوئے ہیں۔اس طرح انہوں نے تیئں ہسپتال کا مستقبل محفوظ کیا ہوا ہے۔ ان ہسپتالوں سے آخر کئی غریب مریض بے علاج مایوس واپس لوٹتے ہیں۔ کیا ان حالات میں زکوٰة کی رقوم فکسڈ اکاﺅنٹ میں رکھی جا سکتی ہے۔ ہاں تو، ان دنوں صدیق صادق ہسپتال ابھی اوائل عمری میں تھا۔ پھر بھی ابتدائی دو ا دارو کا اچھا بندوبست تھا۔ یہاں چند روز قیام کے بعد میں لاہور چلا آیا۔ لاہور میں سبھی ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن تجویز کیا۔ ان دنوں ڈاکٹر بلال زکریا نے یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا کہ اب بائی پاس آپریشن محض ختنہ کے برابر ہے۔ لیکن ایک مریض جانتا ہے کہ آپریشن آخر آپریشن ہوتا ہے۔ القصہ میں آپریشن کروانے کے ارادے نیشنل ہسپتال ڈیفنس لاہور چلا آیا۔ یہاں ایک نیک سیرت اور فرشتہ صفت سرجن ڈاکٹر فیاض ہاشمی موجود تھے۔ انہوں نے میری اینجیو گرافی رپورٹ اور تھیلم ٹیسٹ وغیرہ دیکھ کر مجھے بتایا کہ بائی پاس بھی زیادہ سے زیادہ 8/10 سال کیلئے ہی موثر رہتا ہے۔ آپ احتیاط برتیں تو آپ کے 8/10برس ویسے بھی گزر جائیں گے۔ اسطرح میں آپریشن سے بچ گیا۔ 2013ءپھر یہی سوال درپیش تھا کہ بائی پاس آپریشن کیا جائے یا نہیں۔ کیا آپریشن ضروری ہے؟ یہ بھی ایک عجیب و غریب بات ہے کہ آپریشن کا فیصلہ سرجن کی بجائے فزیشن کراتا ہے۔ پنجاب کارڈیالک انسٹیٹیوٹ کے سربراہ فزیشن پروفیسر ڈاکٹر بلال زکریا کی رائے میرا بائی پاس آپریشن ہونا چاہئے تھا جبکہ وہیں کے سینئر سرجن جناب ڈاکٹر وحید اڑ گئے کہ یہ آپریشن غیر ضروری ہے۔ میں پھر آپریشن سے بچ گیا۔ میری اینجیو پلاسٹی کر دی گئی۔ اب دل کو چھوڑ کر آنکھوں کی طرف آتے ہیں۔ پچھلے دنوں آنکھوں میں درد ہوا۔ اب یہ درد کچھ ایسا ویسا نہیں تھا کہ....اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹادیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کیلئے ہیںمیں گوجرانوالہ کے ایک معروف ماہر امراض چشم کے پاس چلا گیا۔ اس نے میری دونوں آنکھوں کو سر سری سا دیکھا اور جھٹ سے فیصلہ سنا دیا ۔ ”دونوں آنکھوں میں موتیا اتر رہا ہے، جلدی سے آپریشن کروالیں تو زیادہ اچھا ہو گا۔ ابھی تھوڑا تھوڑا اترا ہے۔ آپریشن ابھی پندرہ منٹ میں کئے دیتا ہوں“۔ میں نے وہاں سے نکلنے میں بڑی جلدی کی۔ حالانکہ میں اکثر کام کرنے میں بڑی دیر کر دیا کرتا ہوں۔ دوست، بزرگ گوار، جناب مجیب الرحمن شامی سے رابطہ کیا، لاہور میں کوئی اچھا سا آنکھوں کا ڈاکٹر بتائیں جسے میں آنکھیں دکھا سکوں۔ وہ آنکھیں دکھانے والے محاورے پر اٹک گئے۔ اب ان کی گفتگو میں شاعری عود کر آئی۔ آنکھیں دکھلاتے ہو جو بن تو دکھاﺅ صاحب سے شروع ہو گئے۔ شاعری کی پھوار کچھ تھمی تو فرمانے لگے کہ ڈاکٹر اسد اسلم صاحب سے رابطہ کرتا ہوں۔ یہ پاکستان کے قابل ترین ماہرامراض چشم ہیں۔ جنرل کیانی نے بھی انہیں سے آنکھوں کا آپریشن کروایا تھا۔ اگلے روز گیا رہ بجے میں میو ہسپتال پہنچ گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم یہیں آنکھوں کے شعبہ کے انچارج ہیں۔ میں نے انہیں چھوٹتے ہی کہا کہ آپ اپنی ساری توانائی ہم عوام کیلئے وقف کر دیں۔ پاکستان میں خواص کو بس اتنی ہی بینائی چاہئے کہ وہ پانچ سو اور پانچ ہزار کے نوٹ میں تمیز کر سکیں۔ انہیں آپ کی ہنر مندی کی چنداں ضرورت نہیں۔ پھر میری آنکھوں کا معائنہ شروع ہو گیا۔ میری آنکھوں میں کئی بار دوائیاں ڈالی گئیں۔ انہیں کئی طرح سے جانچا پرکھا گیا۔ یہ کئی طرح کے تفتیشی مراحل سے گزریں۔ آخرکاران کی آپریشن سے بریت کا اعلان کر دیا گیا۔ فرمانے لگے ”بس عینک کا نیا نمبر لگوالیں، آپ کی عینک کا نمبر تبدیل ہو گیا ہے“ ۔ میں آپریشن تھیڑ سے باہر نکلتے ہوئے سوچنے لگا کہ پاکستان میں آپریشن چاہے فوجی کرے یا کوئی سرجن، عام طور پر بس یونہی ، بلاوجہ غیر ضروری طورپر ہی کئے جاتے ہیں اور ان میں سے بیشتر آپریشنوں سے محض اپنی آنکھ کی عینک کا نمبر تبدیل کرکے بچاجاسکتا ہے۔