حکومتی ترجیحات اور عوامی توقعات

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

فرزند راولپنڈی شیخ رشید احمد مسلسل نیوز چینل پر نظر آتے ہیں ۔ بعض مرتبہ تو دن میں دو تین چینل پر مختلف امور پراپنی ماہرانہ شیخیاں لئے پیش بندیاں کرتے دوسروں کو للکارتے ،دعوے کرتے ملتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ چینل چینل کا کھیل ان کی ہی حکمت و کوشش سے وقوع پذیر ہوا یعنی چھپے لفظوں میں بابائے چینل ہونے کا دعوی کرتے نظر آتے ہیں۔شیخ رشید کی اس شیخی پر ہمیں قطعااعتراض نہیں مگر درجنوں چینلز کے لائسنس اورسینکڑوں اخبارات کے ڈیکلیریشن جاری کرنا بڑا کارنامہ سہی مگر ان چینلوں کے مختلف شعبہ جات میں ماہرین کا اہتمام نہ کیا جاسکا صر ف پی ٹی وی سے حاصل شدہ ماہرین یا پرنٹ میڈیا کے لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے کام چلانا شروع کر دیا ۔ ملک بھر میں کوئی باقاعدہ ادارہ بنانے کا نہ شیخ رشید کو خیال آیا نہ ان کے مرشد مشرف نے سوچا ۔صحافت جو کبھی عبادت کا درجہ رکھتی تھی ایک منافع بخش صنعت کے مقام پر آن پہنچی ۔میڈیا تمام اداروں کی رہنمائی کا فریضہ بخوبی اداکر سکتا ہے ۔ہمارے ملک میں حمیدنظامی پریس انسٹی ٹیوٹ جیسے دیگر ادارے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں قائم ہو سکتے ہیں مگر ملک بھر میں صرف ایک وہی ادارہ اس بگاڑ کو سنوارنے میں جتا نظر آتا ہے جہاں ہفتہ وار کوئی نہ کوئی قومی نوعیت کی ورکشاپ ، سیمنیار و مباحثے کا بندوبست کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ایک جانب وہاںموجود شرکاءکی تربیت ہو سکے دوسری طرف قومی امور میں سوچ بچار کے بعد مسائل کے بہتر حل اور الجھنوں کے مثبت راستے تلاش کئے جاسکیں اس سلسلہ میں حمید نظامی انسٹی ٹیوٹ کے موجودہ ڈائریکٹر ایک مشاق زیرک صحافی ہونے کے ساتھ دردمند پاکستانی اور معاملہ فہم دانشور ہیں ۔ان کے چنیدہ موضوعات پر سیمینار اپنی نوعیت کے اعتبار منفرد اور بحث طلب ہوتے ہیں ۔ اس مرتبہ نئی حکومت کی ترجیحات اور عوامی توقعات ان کا موضوع تھا جس میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ میڈیا پرسن نے بھی اظہار خیال کیا ۔حسب دستور تلاوت کے بعد ابصار عبدالعلی نے موضوع کی وضاحت میں مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوازشریف حکومت کےلئے سب سے بڑا چیلنج وہ عوامی توقعات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے عوام وقت دینے کو تیار نہیں جس کے باعث وزیراعظم کے چہرے سے مسکراہٹ اڑگئی ۔ آج نئی حکومت کے پرانے قائد کا امتحان ہے کہ اپنے تجربات کو ملکی وسائل کے حل کے لئے معجزانہ ذہانت سے استعمال میں لانا ہے اور کسی طرح راکھ کے ڈھیر سے نیا بدلا پاکستان تعمیر کرنا ہے ۔سیمینار کی پہلی مقرر معروف کالم نگار اور کرکرے کردار کی مصنفہ عارفہ صبح خان تھیں ۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری نے بتایا کہ الیکشن کے دن تمام جماعتیں نے دھاندلی کی شکایت کی ۔ہم نے پنجاب سے تیس حلقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چار حلقوں میں انگوٹھوں کی پڑتال کا مطالبہ کیا جو نہ مانا گیا اگر الیکشن کمیشن اس پر توجہ دیتا تو لوگوں کاسسٹم پر اعتماد مضبوط ہوتا ۔ معروف ٹی اینکر اور جید صحافی افتخار احمد نے کہا کہ 11مئی کی شام نتائج سنتے ہوئے خیال تھا کہ 77ءجیسی دھاندلی کے خلاف تحریک چلے گی مگر ہر جماعت کو اکاموڈیٹ کے فارمولے نے یہ خدشات دور کر دیے ۔ ہمارے مسائل کا حل قومی معاملات پر ڈبیٹ کرنے میں مضمر ہے ۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یسین نے کہا کہ الیکشن کے دن سب کے لئے میدان ایک جیسا تھا ۔لوگوں نے مسلم لیگ کے حق میں فیصلہ دیا اب ہمیں اپنا رخ لوگوں کی توقعات کی جانب کرنا چاہیے ہم جاگ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔ قارئین مکرم !ان لوگوں کی حالت زار کا اندازہ لگائیں ایک جانب بجٹ بم بن کر گرا تو دوسری طرف دھماکوں ، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ سے زندگیاں غیر محفوظ ہیں ۔ مسجدوں اور جنازوں میں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ۔حکومت کی اگلی ترجیح امن و امان او ر توانائی بحران پر قابو پانا ہونا چاہیے ۔ مسلم لیگ کی حکومت کو عوام کے لئے روٹی اور تعلیم کو عام آدمی تک پہنچانے کےلئے تمام وسائل بروئے کارلانے ہونگے ورنہ نئی نسل کا رجحان اور دھیان عمران خان کی جانب بڑھتا چلا جائے گا ۔