ایران گیس سپلائی معاہدہ: بیوروکریسی کی رکاوٹیں جاری!

کالم نگار  |  نذر الاسلام خورشید

اب اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ توانائی بحران حل کرنے کی راہ میں اسٹیبلشمنٹ بھی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کرنے سے دانستہ گریز کیا جا رہا ہے اور اس بات کی خود ایرانی حکومت نے کھل کر تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی صدر کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک بیان میں جو بین الاقوامی میڈیا میں نشر اور شائع ہوا ہے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو گیس کی سپلائی کی راہ میں گزشتہ کئی ماہ سے بارہا مختلف بہانوں سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جبکہ باہمی معاہدے پر تہران میں دونوں ملکوں کے صدور نے باقاعدہ دستخط کر دیئے تھے۔ یاد رہے کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے مسودے پر صدر آصف علی زرداری نے دستخط کئے تھے اور ساتھ ہی اعلا ن کیا تھا کہ اب اس معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں کوئی ملک یا ادارہ حائل نہیں۔ ایرانی صدر کے ترجمان نے یاد دلایا ہے کہ 11 مارچ 2013ءکو اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے موقع پر فریقین میں اتفاق ہو گیا تھا کہ گیس پائپ لائن کی تنصیب اور دیگر انتظامات پندرہ ماہ میں مکمل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ حکومت پاکستان نیک نیتی سے کام کرے تاہم ساڑھے تین ماہ گزرنے پر بھی بیوروکریسی اس بارے میں کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور نہ صرف یہ بلکہ الٹا بھارت سے گیس کی خریداری پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ وطن عزیز کے سرکاری حلقے توانائی کے ماہرین اور پاک ایران تعلقات کے تجزیہ کار جانتے ہیں کہ گیس پائپ لائن معاہدے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے محض حتمی فیصلہ کرنے میں دو سال لگا دیئے کیونکہ امریکہ مسلسل پاکستان پر اس میگا پراجیکٹ کو ترک کرنے کےلئے دباﺅ ڈال رہا تھا لیکن صدر زرداری کو عین اس وقت اس منصوبے پر عملدرآمد کا خیال آیا جب عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا اور وفاقی حکومت نے الیکشن سے چند ہفتے قبل جلد بازی میں صرف دکھاوے کےلئے ایرانی حکومت سے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیئے یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ زرداری حکومت کو محض الیکشن سٹنٹ کے طور پر یہ ہوش آیا کہ اگر اب ایران گیس پائپ لائن کے پراجیکٹ کا آغاز کر دیا جائے تو 11 مئی کے اتنخابات کےلئے شاید اپنے ووٹ بنک کو کم ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے دوسرا الیکشن سٹنٹ یہ اختیار کیا کہ ایرانی گیس پائپ لائن منصوبے کے ساتھ ہی گوادر بندرگاہ میں توسیع و ترقی کے میگا پراجیکٹ میں چین کا اشتراک حاصل کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا اور باشعور طبقوں نے فوراً بھانپ لیا کہ ان دونوں منصوبوں کے معاہدے محض اسلئے کئے گئے ہیں کہ پاکستانی عوام کو بتایا جائے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان دونوں منصوبوں کو ترک کرنے کےلئے امریکی دباﺅ قبول نہیں کیا لیکن زرداری حکومت اپنی انتہائی ناقص سیاسی، اقتصادی اور سیاسی حکمت عملی کے نتیجے میں اپنی مقبولیت کے گراف کو اتنا زیادہ خود اپنے ہاتھوں سے گرا چکی تھی کہ عام انتخابات میں اسے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی شرمندگی چھپانے کی ناکام کوشش یہ کہہ کر کی گئی کہ عالمی برادری کی بااثر طاقتوں کو ایران اور چین کے ساتھ ہمارے اقتصادی روابط پسند نہیں تھے لہذا حکومت کو ہرانے کیلئے بیرونی ایجنسیوں کو استعمال کیا گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک جانب نئے وفاقی وزیر پٹرولیم و گیس شاہد خاقان عباسی اعلان کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کسی صورت بھی ایران کے ساتھ معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گی لیکن بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں کو کیونکر ناکام بنایا جائے جو امریکی انتظامیہ کے دباﺅ کو قبول کر کے مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ ادھر ایرانی حکومت نے پاکستان کو یہ بھی یاد دلا دیا ہے کہ باہمی معاہدے کی رو سے گیس سپلائی معاہدے پر عملدرآمد میں بیجا تاخیر کرنے والے ملک کو جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے لہذا ایرانی حکومت نے واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان نے پراجیکٹ کے آغاز میں دانستہ تاخیر جاری رکھی اور 2014ءکے آخر تک پراجیکٹ کی تکمیل میں روڑے اٹکائے تو پھر جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ ان حالات میں مسلم لیگ ن کی حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ گیس پائپ لائن کی تنصیب جلد از جلد شروع کرائے اور بیوروکریسی کے کان کھینچ کر رکھے۔