اسلام آباد ویمن چیمبر کی ایکسپو اور اچیومنٹ ایوارڈ

کالم نگار  |  محمد مصدق

تھوڑے عرصہ میں ہی کاروباری خواتین نے ہر شعبہ میں کامیابی سے بزنس کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی لحاظ سے بھی مردوں سے کم نہیں ہیں۔ ویسے اسلامی تاریخ میں تو حضرت خدیجہؓ جیسے رول ماڈل موجود ہیں جو اس زمانے میں امپورٹ ایکسپورٹ کا کامیاب بزنس چلاتی تھیں اور دنیا ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتی تھی۔ آج کی پاکستانی خواتین نے بھی اس بات کا ادراک کر لیا ہے کہ اب خواتین کیلئے کاروباری دنیا میں کامیابی کے دروازے ماضی کی نسبت زیادہ کھل گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں کراچی کی معروف بزنس ویمن سلمیٰ احمد کا نام ہمیشہ بلند رہے گا۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہے جس نے مردوں کی اجارہ داری والے بزنس شپ بریکنگ میں پہلا قدم رکھا اور خود سر پر کھڑے ہو کر بحری جہاز کو سٹیل میں تبدیل کیا۔ سلمیٰ احمد کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے قانونی اجازت نہ ملنے کے باوجود کراچی کی کاروباری خواتین کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور ویمن چیمبر آف کامرس کی بنیاد رکھی۔ اب حال ہی میں اسلام آباد میں ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فریدہ راشد نے خواتین کی بنائی ہوئی مصنوعات کو نمائش منعقد کی جو ماضی کی طرح بہت کامیاب رہی۔ اس ویمن ایکسپو کا افتتاح سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک نے کیا۔ نوائے وقت سے بات کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے بتایا ”بزنس کے شعبے میں خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے بھی تمام چیمبرز کاروباری خواتین کو کاروباری دنیا میں کامیاب ہونے کے لئے مکمل رہنمائی فراہم کرتے تھے خصوصاً لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تو کاروباری خواتین کی رہنمائی کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا ہوا ہے جس کی کامیاب سے متاثر ہو کر سمیڈا نے کاروباری خواتین کی رہنمائی اور مشاورت کے لئے باقاعدہ ویمن انکوبیشن سنٹر قائم کر دیے جن کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ اسی طرح ”آہن“ کے نام سے بھی خواتین کی بنائی ہوئی مصنوعات کو منڈیوں تک رسائی دینے کے لئے نہ صرف انہیں کاروباری رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے بلکہ ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کی بڑے شہروں میں مارکیٹنگ بھی کی جا رہی ہے۔ کچھ خواتین نے نئی مصنوعات ڈویلپ کی ہیں جن کی ایکسپورٹ کے لئے بھی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی عالمی میلوں میں کاروباری خواتین کو خاص طور سے اپنے ساتھ شامل کرتی ہیں اور عالمی نمائشوں میں شرکت کی وجہ سے اب وہ اس قابل ہیں کہ اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں آزادی سے فروخت کر سکیں۔ اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فریدہ راشد اس بات کو بخوبی جانتی ہیں کہ جب تک خواتین کی بنائی ہوئی مصنوعات کو نمائش کے ذریعے سے پیش نہیں کیا جائے گا اتنی دیر تک خواتین کی بنائی ہوئی مصنوعات مارکیٹ میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ان نمائشوں سے کاروباری خواتین اور ایکسپورٹرز کے درمیان براہ راست رابطہ سے کاروباری خواتین غیر روایتی مصنوعات ایکسپورٹ کر رہی ہیں۔ میرا کاروباری پاکستانی خواتین کو یہ مشورہ ہے کہ اگر ان کے ہاتھ میں کوئی ہُنر ہے تو اسے صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ خواتین کے لئے قائم سرکاری اداروں اور ویمن چیمبرز سمیت فیڈریشن آف چیمر آف کامرس سے بھی مکمل رہنمائی حاصل کریں۔ ویمن امپاورمنٹ وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ گھرانے خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں کاروباری خواتین نے اپنے ہُنر کو کاروبار سے منسلک کیا ہے۔ کراچی پی سی میں افتخار علی ملک اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس پنجاب کے زونل چیف اظہر سعید بٹ کی اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر دونوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم تو بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ حوصلہ افزائی اچھی بات ہے۔ اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کر کے خوشی ہوتی ہے۔