گیلانی شہباز ملاقات

صحافی  |  عطاء الرحمن

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مابین ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں شہباز کو آپس میں ملنے میں دیر نہیں لگی۔ جناب صدر کے دورہ پنجاب کے دوران وزیراعلیٰ ترکی میں تھے۔ زرداری صاحب کی شدید خواہش تھی یہ ملاقات ہو۔ اس کی خاطر قیام لاہور کی مدت بھی بڑھائی لیکن این آر او پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے فوراً بعد اسلام آباد جانے پر مجبور ہو گئے۔ اب جو میاں شہباز شریف لاہور پہنچے تو جناب وزیراعظم بھی یہاں موجود تھے۔ میاں برادران کو گیلانی صاحب سے ملنے میں کبھی عار نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں میں سے اگر کسی کے ساتھ ان کی کیمسٹری ملتی ہے تو وہ وزیراعظم ہیں۔ صدر سے ملاقات اگر کبھی ہو بھی جاتی ہے تو باہمی شکوک و شبہات کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ پہلے جنرل مشرف کے ہاتھوں معزول ہونے والے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کا مسئلہ ایک بڑے تنازعے کا باعث تھا۔ پھر سترہویں آئینی ترمیم آڑے آئی۔ ابھی یہ رکاوٹ دور نہیں ہوئی کہ این آر او کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانا ایک بڑے قومی تقاضے کے طور پر سامنے آ گیا ہے۔ ظاہر ہے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس پر سو فیصد اطمینان حاصل کئے بغیر جناب زرداری کے ساتھ ایسی ملاقات سے گریز کرے گی جس سے مفاہمت کا تاثر ابھرے۔ اس تناظر میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے مابین کل کی ملاقات خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ خاص طور پر اس لئے کہ صدر زرداری کے قیام لاہور کے دوران پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) میں اتحاد باتیں ازسرنو شروع ہو گئی تھیں۔ دو تین روز قبل اسلام آباد میں جناب گیلانی اور چودھری شجاعت حسین کی ملاقات میں یہ موضوع بھی زیر بحث آیا ہو گا۔ اگرچہ ملاقات کے اختتام پر کہا گیا ہے مفاہمت کا عمل جاری رہے گا۔ لیکن آئیے دیکھیں موجودہ حالات میں کیا پیپلز پارٹی کوئی نیا محاذ کھولنے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ گذشتہ برس فروری مارچ کے مہینوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) میں اتحاد ہوتے ہوتے رہ گیا۔ پنجاب میاں شہباز شریف کی حکومت ختم کرنے کی گورنر سلمان تاثیر کی کوششیں بار آور نہ ہو سکیں۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی صوبائی حکومت میں شریک رہنے پر مجبور ہوئی۔ اب جناب تاثیر اور چودھری پرویز الٰہی نے پھر سے قسمت آزمائی شروع کر دی ہے۔ یہ بیل منڈھے چڑھتی ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں تو آنے والے دن ہی کچھ بتا سکیں گے۔ لیکن پیپلز پارٹی اور خاص طور پر اس کے شریک چیئرپرسن صدر آصف علی زرداری کا مسئلہ یہ ہے اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم بھی کر دیتے ہیں (جس کے امکانات بہت کم ہیں) تو انہوں نے قومی سطح پر اپنے آپ کو جس دلدل میں پھنسا لیا ہے اس سے نکلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قوم کو یقین دلایا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پوری طرح عمل ہو گا۔ اگرچہ صدر کو استثناءحاصل ہے لیکن فیصلے میں قطعی الفاظ میں لکھا گیا ہے بیرونی اور ملکی عدالتوں میں چلنے والے تمام مقدمات 4 نومبر 2007ءکی حالت سے ازسرنو شروع ہونگے۔ اس کا مطلب یہ ہے حکومت سوئس عدالتوں سے اپنے ہی صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لئے رابطہ قائم کرے گی۔ صدر مملکت جو قوم کے وقار اور ملک کے وفاق کی علامت ہوتا ہے اسے اگر اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہو تو اس کی کیا ساکھ باقی رہ جاتی ہے کیا وہ قوم کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کرنے کے قابل رہ جاتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی ذمہ داری صدر صاحب کی ذات پر بھی ہے اور پیپلز پارٹی کی اجتماعی قیادت پر بھی۔ اس گرداب سے نکلے بغیر مرکز میں حکمران جماعت کے لئے محاذ آرائی کے پٹے ہوئے میدانوں میں ازسرنو زور آزمائی کرنا خودکشی کے مترادف ہو گا۔