کرپشن سے پاک ‘ پاکستان کھپے

محمد اسلم لودھی ۔۔۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے نتیجے میں این ار آو کا تحفظ تو ختم ہوچکا ہے اور ساڑھے آٹھ ہزار افراد جن میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین ‘ وفاقی وزرائ‘ مشیر‘ سیاست دان فوجی اور سول افسران بھی شامل ہیںکا انجام قریب سے قریب آتا جارہا ہے - پہلے یہ کہاجاتا تھا کہ تفصیلی فیصلہ آنے پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اب جبکہ 287صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی آچکا ہے تو اس پر من وعن عمل کرنے کی بجائے چور راستے تلاش کئے جارہے ہیں ان چور راستوں کو تلاش کرنے کا فریضہ وہی ناعاقبت اندیش مشیر اور وزیر انجام دے رہے ہیں جن کے غلط مشوروں ‘ اقرباپروری اور کرپشن کی وجہ سے یہ نوبت آئی ہے- قانونی ماہرین تو واضح طور پرکہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت عدلیہ کے فیصلے پر عمل نہیں کرتی تو سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے فوج سے بھی مدد مانگ سکتی ہے - چنانچہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر حکمرانوں نے عدالت عظمی کے فیصلے پر عمل کرنے کی بجائے ٹکراﺅ یا حکم عدولی کا عمل جاری رکھا تو پوری حکومت کی رخصتی یقینی ہوجائے گی - ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تصور کر کے صدر اور وزیر اعظم چوہدری اعتزاز احسن کو درمیان میںلانے کی جستجو کررہے ہیں لیکن آئینی ماہرین کا یہ موقف نہایت واضح ہے کہ صدر کو صرف فوجداری مقدمات میں آئینی تحفظ حاصل ہے باقی نوعیت کے مقدمات میں استثنی حاصل نہیں- پھر یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ صدارتی الیکشن کے وقت این ار او کی وجہ سے آصف علی زرداری کو تحفظ حاصل تھا وہ چھتری اب ان کے سر سے ہٹ چکی ہے لہذا اب ان کے صدارتی الیکشن لڑنے کے وقت امیدوار بننے کا اہل ہونے نہ ہونے کی بابت عدالت سے \\\" کووارنٹو \\\" کی درخواستوں کی صورت میں رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اس لمحے وزیر اعظم پر یہ سخت امتحان کی گھڑی آن پڑی ہے اگر پاکستان کو کرپشن سے پاک ملک بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سخت‘ بے رحم احتساب کی روایت کو پختہ کرنا ہوگا - سچی بات تو یہ ہے کہ آصف علی زرداری ہو یا کوئی اور بھی ملک اور قانون سے بڑا نہیں ہے یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں اس وقت تیزی سے بڑھتی ہوئی کرپشن ‘ لوٹ مار اور ناانصافی کی بدولت اس ملک کی نہ صرف سا لمیت اور بقا خطرے میں دکھائی دے رہی ہے بلکہ عالمی برداری میں پاکستان ایک کرپٹ ملک کی حیثیت سے اپنی عزت اور وقار کھو چکا ہے - یہ کس قدر تکلیف کی بات ہے کہ ملک 55 ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا ہے لیکن نہ تو کرپشن روکنے کا نام لے رہی ہے اور نہ ہی حکومت کرپٹ لوگوں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے - کہیں چینی کو غائب کرکے‘ کہیں آٹے کی قیمت کو بڑھا کر‘ کہیں پٹرول اور بجلی گیس کے بلوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ کرکے غریب عوام کا جینا بھی حرام کیا جارہا ہے لیکن دوسری جانب لیٹروں کو آئینی تحفظ دے کر کرپشن کو مزید استحکام بخشنے کی جستجو کی جارہی ہے الیکشن جیتنے کا یہ مقصد نہیں کہ کوئی ڈاکے مارتا پھرے ‘ وطن ‘ قانون اور لوگوں کا معاشی قتل کرتا پھرے- میں تو کہتا ہوں کہ ایسا کوئی بھی شخص عمر بھر کے لئے نااہل قرار دے دیا جانا چاہیئے - چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت آزاد عدلیہ کا وجود اس ملک کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت سے رکھتا ہے قدرت نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم پسند اور ناپسند کو چھوڑ کر سخت ترین میرٹ اور انصاف کا بول بالا کرکے 62 سالہ کرپشن ‘ بدعنوانی ‘ناانصافی کا خاتمہ کرسکتے ہیں اگر یہ موقع بھی ضائع کردیاگیا توقدرت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی -