کالاباغ ڈیم فیڈریشن اور رانا ثناءاللہ

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

اگر چیف جسٹس یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں انصاف ہونا چاہئے خواہ کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے تو آصف علی زرداری کو کہنا چاہئے کہ ملک میں کالاباغ ڈیم تعمیر ہونا چاہئے چاہے اس کی کتنی بھاری قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ رانا ثناءاللہ کا یہ کہنا کہ کالاباغ ڈیم کے حق میں ہیں لیکن پاکستان اور فیڈریشن کی قیمت پر نہیں ایک ایسا سیاسی ڈھکوسلہ ہے جس کی درحقیقت کوئی بنیاد نہیں۔ بھارت نے 62 ڈیم تعمیر کر ڈالے مگر اُن کی فیڈریشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی سیاسی یا حکومتی لیڈر نے مخالفت کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ پانی میں کھیل رہے ہیں اور ہم پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ 5 سال تک آمریت کی قلعی چوسنے والے اور آج کے اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیرالدین کی ہمت مردانہ ہے کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے دوران کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے مشترکہ قرارداد لانے کی تجویز پیش کر دی جس کے جواب میں وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا پاکستان کی قیمت پر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ کالاباغ ڈیم چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایوان میں کالاباغ ڈیم کی بات کرنے والوں نے سفید کاغذ پر دستخط کر کے مشرف کو اختیار دے دیا تھا کہ وہ اِس پر جو چاہیں فیصلہ کر لیں آج اُنہیں کالاباغ ڈیم یاد آ گیا ہے اِس کے جواب میں چودھری ظہیرالدین نے اپنی تقریر میں کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر متفقہ فیصلہ کرانے والوں کو کالاباغ ڈیم پر بھی بات کرنی چاہئے تھی ہماری بدقسمتی ہے کہ 3 ڈکٹیٹروں نے معاہدے کر کے پاکستان کے 3 دریا بیچ دئیے اب عوام کے پاس پینے کو پانی نہیں ہے ہر بار پنجاب سے قربانی مانگ کر پھر بھی اُسے گالی دی جاتی ہے کالاباغ ڈیم اگر بن گیا تو اِس سے پورا پاکستان استفادہ کرے گا کالاباغ ڈیم صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں ہے پورے پاکستان کے مفاد کا وسیلہ ہے سالانہ 35 ملین ایکڑ پانی ضائع ہو رہا ہے۔ دریا سوکھ چکے ہیں قوم کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے کھیت اُجڑ گئے ہیں کسانوں کو پانی نہیں مل رہا اس لئے کہ ملک میں پانی کا بحران ہے موجودہ حکومت اگر کوئی بڑا کام کر کے پاکستان کے عوام کے دل جیتنا چاہتی ہے اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو صدر زرداری کے لئے یہ ایک ٹاسک ہے کہ وہ چاروں صوبوں کو پورے ملک کے لئے مفید کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر راضی کریں اگر وہ یہ کام کر گئے تو پاکستان کی تاریخ میں اُن کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا سابق پلے بوائے صدر اگر چاہتے تو کالاباغ ڈیم تعمیر کرا سکتے تھے مگر ان کے کیلنڈر میں پاکستان کو فائدہ پہنچانا شامل نہ تھا اگر اُن کو سفید کاغذ پر دستخط کر کے دے دئیے گئے تھے تو وہ N.F.C ایوارڈ کی تقسیم کے موقع پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا ہر قیمت پر اعلان کر سکتے تھے ویسے یہ ایک پروپیگنڈہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کے کسی بھی صوبے کو کوئی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی بلکہ حقیقت اسکے اُلٹ ہے آج تک کسی حکمران نے قومی مفاد کے اس عظیم منصوبے پر صدق دل سے کام ہی نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی آج اگر حالات کی نزاکت کا شکار ہے تو اُس کے لئے زریں موقع ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کا پرچم بلند کر دیں اور اِس سلسلے میں انجینئر شمس الحق جیسے ماہرین کو ساتھ رکھیں پنجاب پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر ظہیرالدین جیسے لوگ اُنہیں بہتیرے مل جائیں گے جس ملک میں 35 ملین ایکڑ پانی ہر سال ضائع ہو وہاں کالاباغ ڈیم تعمیر نہ کرنا ملک سے بھاری قیمت وصول کرنے کے مترادف ہے ہماری پانی اور بجلی کی ضروریات نے پورے ملک کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اور پنجاب جو کبھی پورے ملک کو اجناس فراہم کرتا تھا۔ آج دانے دانے کو ترستا ہے۔ میڈیا کو بھی چاہئے کہ کالاباغ ڈیم کے مسئلے کو اٹھائے۔