پاکستان بنانے مےں علامہ اقبال کا کردار!

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

نوائے وقت گروپ کے اےڈےٹر انچےف جناب مجےد نظامی نے اےک پرائےوےٹ ٹی وی چےنل کو انٹروےو دےتے ہوئے کہا ہے کہ ےہ تاثر غلط ہے کہ علامہ اقبال کا پاکستان بنانے مےں کوئی کردار نہےں تھا۔ سوال پےدا ہوتا ہے کہ محترم مجےد نظامی کو ےہ وضاحت پےش کرنے کی ضرورت کےوں پےش آئی کہ قےام پاکستان کے لئے علامہ اقبال کا کردار بہت اہم تھا۔ مےرا جواب ےہ ہے کہ پاکستان مےں جعلی دانشوروں کا اےک اےسا گروہ موجود ہے جو خود بھی گمراہ ہے اور ہماری نئی نسل کو بھی ہمہ وقت گمراہ کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ ان جھوٹے دانشوروں کی تعداد اگرچہ مختصر ہے جو کبھی قےام پاکستان کے مقاصد کی من مانی تشرےح کرتا رہتا ہے اور نظرےہ پاکستان انہےں ہضم نہےں ہوتا اور کبھی ےہی گروہ اس طرح کی غلط موشگافےاں بکھےرتا نظر آتا ہے کہ قےام پاکستان مےں علامہ اقبال کا کوئی کردار نہےں، اس گروہ کا تعاقب بہت ضروری ہے۔ مےرا اےمان ہے کہ جس طرح نظرےہ پاکستان اےک حقےقت ہے اسی طرح پاکستان کی بنےاد رکھنے والوں مےں قائداعظم اور علامہ اقبال کا کردار سب سے ممتاز ہے۔ جہاں تک پاکستان بنانے مےں علامہ اقبال کے کردار کا تعلق ہے۔ اسے جانتے اور سمجھنے کےلئے کسی لمبی چوڑی تحقےق کی ضرورت نہےں ہے۔ اگر علامہ اقبال کے 1930ءکے خطبہ الہ آباد کا حوالہ نہ بھی دےا جائے۔ صرف علامہ اقبال کے وہ خطوط ہی پڑھ لئے جائےں جو علامہ اقبال نے 1936 اور 1937 مےں قائداعظم کے نام تحرےر کئے تھے تو آسانی سے ےہ معلوم ہوسکتا کہ علامہ اقبال کا تحرےک پاکستان کے ساتھ صرف فکری حد تک نہےں بلکہ عملی طور پر بھی گہرا تعلق تھا۔ علامہ اقبال کے ان خطوط کو قائداعظم نے تارےخی اہمےت کا حامل قرار دےا تھا اور تحرےک پاکستان کے اہم سالوں (1936-37) کے درمےان قائداعظم کو لکھے گئے علامہ اقبال کے خطوط کو محفوظ کرنے مےں بانی پاکستان قائداعظم کو اتنی دلچسپی تھی کہ جب علامہ اقبال کے ان خطوط کا مجموعہ شائع ہوا تو اس کا دےباچہ قائداعظم نے خود تحرےر کےا۔ علامہ اقبال کے ےہ خطوط شائع کرنے والے لاہور کے پبلےشر شےخ محمد اشرف نے جو رقم قائداعظم کو پےش کی وہ رقم بھی مسلم لےگ کے فنڈ مےں جمع کروا دی گئی جس کے پلےٹ فارم پر پاکستان کے قےام کے لئے برصغےر کی پوری مسلمان قوم متحد اور منظم ہوچکی تھی۔ علامہ اقبال کے متذکرہ بالا خطوط کے دےباچہ مےں قائداعظم کے ےہ تارےخی الفاط ملاحظہ ہوں۔ ”علامہ اقبال نے اپنے خطوط مےں مسلم انڈےا کے مستقبل کے بارے مےں اپنے خےالات کا اظہار نہاےت واضح الفاظ مےں کےا ہے۔ ان کے خےالات مجموعی طور پر مےرے تصورات سے ہم آہنگ تھے اور بالآخر مےں ہندوستان کے دستوری مسائل کے مطالعہ اور تجزےہ کے بعد انہی نتائج پر پہنچا جن پر علامہ اقبال پہلے ہی پہنچ چکے تھے اور ےہ خےالات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانان ہند کے متحدہ عزم کی صورت مےں ظاہر ہوئے اور آل انڈےا مسلم لےگ کی اس قرارداد کی صورت مےں ڈھل گئے جو 23 مارچ 1940ءکو منظور ہوئی اور جسے اب قرارداد پاکستان کے نام سے ےاد کےا جاتا ہے۔“
ذرا غور فرمائےے قےام پاکستان مےں علامہ اقبال کے کردار کی اہمےت کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم خود ےہ تحرےر فرما رہے ہےں کہ ہندوستان کے آئےنی مسائل کے مطالعہ اور تجزےہ کے بعد مسلمانوں کے سےاسی مستقبل کے حوالے سے جن نتائج پر قائداعظم خود پہنچے ان نتائج پر علامہ اقبال پہلے ہی پہنچ چکے تھے گوےا پاکستان کے تصور اور قےام کے حوالے سے علامہ اقبال کی سوچ اور خےالات کو قائداعظم اپنے خےالات سے مقدم قرار دے رہے ہےں۔ علامہ اقبال نے جو پہلے سوچا تھا۔ قائداعظم بھی بعد مےں انہی نتائج پر پہنچے۔ علامہ اقبال اور قائداعظم کے سےاسی تصورات کی ےہی ہم آہنگی جب ہندوستان کے مسلمانوں کی متحدہ خواہش کی صورت مےں جلوہ گر ہوئی تو وہ قرارداد پاکستان کی صورت اختےار کرگئی۔قائداعظم کے پرائےوےٹ سےکرٹری سےد مطلوب الحسن نے بھی اپنی کتاب مےں ےہ حقےقت بےان کی ہے کہ قرار داد پاکستان کی منظوری کے بعد قائداعظم نے اپنے سےکرٹری سے ےہ الفاظ کہے کہ آج اقبال ہم مےں موجود نہےں لےکن اگر وہ زندہ ہوتے تو ےہ جان کر بہت خوش ہوتے کہ ہم نے بالکل وےسا ہی کےا ہے جس کی وہ خواہش رکھتے تھے۔ 22 نومبر 1942 کو جب قائداعظم مےاں بشےر احمد اور مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے کارکنوں کے ہمراہ علامہ اقبال کے مزار پر دعا کے لئے تشرےف لے گئے تو قائداعظم کو علامہ اقبال کا وہ فقرہ ےاد دلاےا گےا جو انہوں نے قائداعظم کو اےک خط مےں تحرےر کےا تھا کہ مسٹرجناح آپ واحد شخص ہےں جو اسلامی ہند کو اس سےلاب سے بچا سکتے ہےں جو 1935 کے آئےن ہند کی جلو مےں آرہا ہے تو قائداعظم نے فرماےا مےں اس زمانے مےں تےن مرتبہ پنجاب آےا اگر مجھے تسکےن ملی تو اس مرد قلندر کی بارگاہ مےں۔قائداعظم کے نزدےک علامہ اقبال محض اےک عظےم شاعر اور فلاسفر ہی نہےں تھے بلکہ اےک عملی سےاست دان بھی تھے علامہ اقبال کو صرف اسلام کے مقاصد سے شےفتگی اورعقےدت نہےںتھی بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے لئے برصغےر مےں اےک الگ اسلامی مملکت کا تصور بھی دےا۔ علامہ اقبال کو جہاں عالم اسلام کے اتحاد کی فکر تھی وہاں اُن کی روح اس بات کے لئے بھی ہمےشہ مضطرب رہی کہ مسلمانان ہند کا سےاسی مستقبل اےک الگ اور آزاد اسلامی مملکت کے قےام کی صورت مےں ہی محفوظ ہو سکتا ہے۔